طالبان نے پھانسیوں کو بڑھایا، جبر کو بڑھایا: اقوام متحدہ

 


افغانستان ایک بار پھر عالمی ضمیر کے سامنے ایک تلخ سوال بن کر کھڑا ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق طالبان کی حکومت کے دوران سرِعام پھانسیوں، جسمانی سزاؤں اور جبری اقدامات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔یہ انکشاف محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ان لاکھوں افغان شہریوں کی زندگیوں کا نوحہ ہے جو ایک ایسے نظام کے سائے میں جی رہے ہیں جہاں خوف قانون بن چکا ہے اور خاموشی بقا کی شرط

‎اقوام متحدہ کے مطابق، طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد عدالتی عمل شفافیت سے محروم ہو گیا ہے۔ایسے فیصلے جن میں سزائے موت، کوڑے اور دیگر جسمانی سزائیں شامل ہیں، اکثر مختصر سماعتوں یا بغیر کسی مؤثر وکیل کے سنائے جاتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان سزاؤں کا مقصد محض انصاف نہیں بلکہ معاشرے کو قابو میں رکھنا اور اختلافِ رائے کو دبانا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ افغانستان میں قانون کی بالادستی کے بجائے طاقت کی بالادستی قائم ہے۔

‎اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سزاؤں کو عوامی مقامات پر نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ خوف کی فضا برقرار رہے۔بازاروں، اسٹیڈیمز اور کھلے میدانوں میں ہونے والی پھانسیاں محض سزا نہیں بلکہ ایک پیغام ہیں: سوال مت کرو، مزاحمت مت کرو۔اس طرزِ عمل نے افغان معاشرے کی نفسیات کو گہرے زخم دیے ہیں, جہاں بچے خوف کے مناظر کے ساتھ بڑے ہو رہے ہیں اور خواتین پہلے سے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہو گئی ہیں۔

‎طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ شریعت کے نفاذ کے تحت یہ اقدامات کر رہے ہیں، مگر عالمی ماہرین اور مسلم دنیا کے کئی علما اس تشریح کو متنازع قرار دیتے ہیں۔ انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملزم کو صفائی کا پورا حق دیا جائے، ثبوتوں کی جانچ ہو اور فیصلہ غیر جانبدار ہو۔ طالبان کے زیرِ انتظام نظام میں یہ اصول اکثر نظر انداز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے شریعت کے نام پر جبر قرار دیتی ہیں۔

‎طالبان کی پالیسیوں کا سب سے بڑا بوجھ خواتین اور اقلیتوں پر پڑ رہا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، خواتین کی ملازمتوں میں رکاوٹیں اور سماجی زندگی سے ان کی بے دخلی پہلے ہی عالمی سطح پر تنقید کا باعث بن چکی ہیں۔ اب سرِعام سزاؤں نے اس جبر کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، خوف کی اس فضا میں خواتین نہ صرف اپنے حقوق بلکہ اپنی آواز بھی کھو رہی ہیں۔

‎بین الاقوامی برادری کا ردِعمل اب تک بیانات اور تشویش تک محدود رہا ہے۔ چند ممالک نے پابندیاں عائد کیں، مگر زمینی حقائق میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ افغانستان کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے، اور مسلسل پابندیوں کا اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں کوئی ایسا راستہ نکال سکتی ہیں جس سے طالبان پر دباؤ بھی بڑھے اور عام افغان عوام مزید مشکلات کا شکار بھی نہ ہوں؟

‎ادرا کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو افغانستان کا مسئلہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی نظامِ اقدار کا امتحان ہے۔ اگر سرِعام پھانسیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کو نظرانداز کیا گیا تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔ دنیا کے دیگر حصوں میں جابرانہ حکومتیں بھی اسے جواز بنا سکتی ہیں کہ طاقت کے بل پر نظم قائم رکھا جا سکتا ہے۔

‎افغان عوام کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ مسلسل جنگ، مداخلت اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہے ہیں۔ انہیں اب کسی اور تجربے کی نہیں بلکہ امن، انصاف اور وقار کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ ایک آئینہ ہے جو دنیا کو دکھا رہا ہے کہ خاموشی بھی ایک جرم بن سکتی ہے۔ اگر عالمی برادری نے مؤثر اور انسانی بنیادوں پر اقدام نہ کیا تو یہ جبر صرف افغانستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی انسانی ضمیر پر ایک مستقل دھبہ بن جائے گا۔

‎آخر میں سوال یہی ہے: کیا دنیا محض رپورٹس پڑھتی رہے گی یا افغان عوام کے حق میں عملی قدم بھی اٹھائے گی؟ ادرا کے انداز میں جواب واضح ہے—انصاف کو وقتی سیاست پر قربان کرنا تاریخ میں ہمیشہ شرمندگی کا باعث بنا ہے، اور افغانستان کے معاملے میں بھی یہی انجام نظر آتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا