امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ شروع کر دیا، جیسا کہ ٹرمپ کے بقول 'بڑی جنگی کارروائیاں' جاری ہیں۔



 ‎افسوسناک خبر یہ ہے کہ دونوں ممالک اتحاد کے ساتھ ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ ٹرمپ جنگ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ موجودہ جنگ کی بڑی جنگی کارروائیاں ابھی بھی جاری ہیں۔ یہ ایک خاص وقت ہے جس میں مختلف عناصر جیسے طاقت اور خوف اور مفادات اور غلط اندازے آپس میں مل کر ہیں قوت عالم کو ایک بڑے جنگ کے تصادم کی طرف بڑھنے کی طاقت فراہم کرتے ہیں۔ جنگ کا میدان اب بیانیوں اور طے شدہ حسابات اور عملی نقشے کے علاوہ میزائلوں اور بموں کے ساتھ جنگ لڑنے تک پہنچ چکا ہے۔

‎یہ کارروائی غیر منتظر عمل ہے کیونکہ ادارہ اس وقت اپنے مقاصد کوعملی شکل دے رہا ہے۔ برسوں سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک لاوے کی طرح اندر ہی اندر پک رہی تھی۔ ایران کا جوہری پروگرام اسرائیل کے لیے ایک وجودی خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا جبکہ امریکہ نے خطے میں اپنی بالادستی اور اتحادیوں کے تحفظ کو جواز بنایا۔ موجودہ حالات مخصوص ناگزیر راستے کی طرف بڑھتے ہیں یا یہ طاقت والے افراد نے اپنی طاقت کے نشے میں خطرناک بازی لگائی ہے۔

‎ٹرمپ کا لہجہ، جو ہمیشہ سے جارحانہ اور غیر سفارتی رہا ہے، اس بار بھی حیران کن نہیں۔ ایک خطرہ پیدا ہوتا ہے جب "بڑی جنگی کارروائیاں" کو استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ الفاظ بڑھنے والی جنگ کو شروع کرنے والے عنصر بن جاتے۔

‎اسرائیل کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ حملہ دفاعی اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تل ابیب میں یہ تاثر مضبوط ہے کہ اگر ایران کو روکا نہ گیا تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔ مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ’’پیشگی دفاع‘‘ اکثر طویل جنگوں کی بنیاد بنتا ہے۔ لبنان، غزہ اور شام کی مثالیں سامنے ہیں، جہاں فوری عسکری برتری تو حاصل کی گئی، مگر دیرپا امن خواب ہی رہا۔

‎ایران کی طرف دیکھیں تو اس کے لیے یہ حملہ محض فوجی نقصان نہیں بلکہ قومی وقار اور خودمختاری پر کاری ضرب ہے۔ ادرا کے اسلوب میں یہ لمحہ ایرانی قیادت کے لیے ایک اخلاقی امتحان ہے: کیا وہ ردعمل میں پورے خطے کو آگ میں جھونک دے، یا صبر اور سفارت کاری کا راستہ اپنائے؟ مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایران کے اندر سخت گیر عناصر پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھلی جنگ کے حامی ہیں۔ ایسے میں تحمل کی آواز کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔

‎یہ جنگ اگر پھیلتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی توانائی منڈیاں لرز جائیں گی، تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی، اور ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ میں ہیں، اس بحران کی قیمت مہنگائی، بے یقینی اور سفارتی دباؤ کی صورت میں ادا کریں گے۔ ادرا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عالمی جنگیں ہمیشہ کمزوروں سے سب سے زیادہ قربانی لیتی ہیں۔

‎ایک اور پہلو جو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، وہ عالمی قانون اور اخلاقیات کا ہے۔ کیا کسی ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسرے ملک پر حملہ کرے، محض اس خدشے پر کہ وہ مستقبل میں خطرہ بن سکتا ہے؟ اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو دنیا جنگل کا قانون بن جائے گی، جہاں طاقت ہی حق کا معیار ہو گی۔ ادرا کی فکری روایت میں یہ سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے کہ طاقت کے استعمال کو کب اور کیسے جائز ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

‎میڈیا کا کردار بھی اس بحران میں فیصلہ کن ہے۔ جنگ کو ’’سرجیکل اسٹرائیکس‘‘ یا ’’بڑی کارروائیاں‘‘ کہہ کر پیش کرنا حقیقت کو دھندلا دیتا ہے۔ ان الفاظ کے پیچھے تباہ شدہ شہر، لاشیں، بے گھر خاندان اور ٹوٹے ہوئے خواب چھپ جاتے ہیں۔ ایک انسانی انداز میں لکھتے ہوئے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر بم کے نیچے ایک انسان ہوتا ہے، جس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، صرف جینے کی خواہش ہوتی ہے۔

‎آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا یہ جنگ واقعی دنیا کو زیادہ محفوظ بنائے گی؟ یا یہ ایک اور باب ہو گا، جہاں طاقتوروں کے فیصلوں کی قیمت عام انسانوں نے چکائی؟ ادرا کے انداز میں شاید یہی کہا جا سکتا ہے کہ اصل فتح میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں ہوتی ہے جب انسان جنگ سے انکار کر دے۔ مگر بدقسمتی سے، اس وقت دنیا ایک بار پھر اسی پرانے راستے پر چل پڑی ہے، جس کا انجام تاریخ پہلے ہی لکھ چکی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا