کابل میں منشیات کی بحالی کے مرکز پر پاکستانی فضائی حملے میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے۔
افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر خون میں لتھڑی ہوئی ہے۔ کابل میں واقع ایک منشیات کی بحالی کے مرکز پر پاکستانی فضائیہ کے مبینہ حملے میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ خبر سامنے آتے ہی نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنیا میں ہلچل مچا گئی۔ ایک ایسا مرکز جو نشہ کی لعنت سے نجات دلانے کے لیے بنایا گیا تھا، وہ خود تباہی اور موت کا گڑھ بن گیا۔
یہ واقعہ کابل کے نواح میں واقع "تبیان" بحالی مرکز میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ مرکز نشہ کے عادی افراد، خاص طور پر منشیات کے شکار نوجوانوں کی بحالی کے لیے کام کرتا تھا۔ افغانستان میں منشیات کا مسئلہ کوئی نیا نہیں، دہائیوں کی جنگ، غربت، اور بے روزگاری نے لاکھوں افراد کو افیون، ہیروئن، اور دیگر منشیات کی لعنت میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے میں یہ بحالی مراکز انسانیت کی آخری امید کی مانند تھے۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی کابل میں ماتم کا سماں چھا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان تھے جو نشہ سے نجات پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے اہل خانہ، جو پہلے ہی اپنے پیاروں کی بیماری سے تڑپ رہے تھے، اب ان کی لاشوں پر رو رہے ہیں۔ یہ منظر کسی بھی انسان کو ہلا کر رکھ دے۔ ایک ماں جو اپنے بیٹے کو صحت یاب ہوتے دیکھنا چاہتی تھی، اب اس کی تدفین کر رہی ہے۔ ایک بیوی جو اپنے شوہر کی واپسی کی امید لگائے بیٹھی تھی، اب اس کے جنازے میں شریک ہے۔
پاکستانی فضائیہ کی جانب سے اس حملے کی تصدیق یا تردید ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ لیکن افغان طالبان حکومت اور مقامی ذرائع نے سخت الفاظ میں اس حملے کی مذمت کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ ایک عام شہری تنصیب تھی جس میں نہ کوئی عسکری ٹھکانا تھا اور نہ ہی کوئی دہشت گرد سرگرمیاں ہو رہی تھیں۔ اگر یہ حملہ واقعی ہوا ہے تو یہ بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
اس واقعے کے پیچھے کئی ممکنہ وجوہات زیرِ غور ہیں۔ پاکستان کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستانی تنصیبات پر حملے ہوتے ہیں اور طالبان ان دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک منشیات کے بحالی مرکز پر حملہ اس مسئلے کا حل ہے؟
افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے ہی پاکستانی تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں۔ اسلام آباد چاہتا ہے کہ کابل ٹی ٹی پی کے خلاف سخت کارروائی کرے، لیکن طالبان اس میں تاخیر کرتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ٹی ٹی پی کے ارکان افغان شہری ہیں اور وہ انہیں بے دخل نہیں کر سکتے۔ یہ اختلاف دونوں ممالک کے درمیان دراڑیں پیدا کر رہا ہے۔
اس حملے کے بعد علاقائی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ افغان طالبان نے پہلے ہی پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کڑواہت محسوس کر رہے ہیں۔ اگر یہ حملہ ثابت ہو جاتا ہے تو یہ کشیدگی ایک نئے عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ طالبان پاکستان کے خلاف انتقامی کارروائی کر سکتے ہیں یا پھر سرحدی تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ دونوں صورتوں میں عام شہریوں کا نقصان ہو گا۔
عالمی برادری کی جانب سے بھی اس واقعے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، اور امریکہ نے افغانستان میں شہری ہلاکتوں کے بارے میں پہلے ہی تشویش ظاہر کر رکھی ہے۔ اگر یہ حملہ تصدیق ہوتا ہے تو پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے اسے جنگی جرم قرار دے سکتے ہیں۔
اس واقعے نے ایک بار پثر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا فضائی حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا موثر حل ہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے حملوں میں اکثر عام شہری ہلاک ہوتے ہیں۔ ڈرون حملوں کی مثالیں سامنے ہیں جہاں اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہدف بندوں کے مقابلے میں زیادہ عام شہری مارے گئے۔ یہ حملے نئے دشمن پیدا کرتے ہیں، انتقام کی لہریں اٹھاتے ہیں، اور تناؤ کو ختم کرنے کے بجائے بڑھاتے ہیں۔
افغانستان میں انسانی بحران پہلے ہی انتہائی سنگین ہے۔ دو دہائیوں کی جنگ نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ غربت، بے روزگاری، اور منشیات نے نئی نسل کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں جب کوئی نوجوان بحالی کی کوشش کرتا ہے، وہ معاشرے کی طرف ایک امید کی کرن ہوتی ہے۔ ان مراکز کو نشانہ بنانا اس امید کو ختم کرنا ہے۔
پاکستان کی اپنی بھی منشیات کا مسئلہ ہے۔ افغانستان سے منشیات کی اسمگلنگ پاکستان کے راستے دنیا بھر میں ہوتی ہے۔ پاکستانی نوجوان بھی اس لعنت کا شکار ہیں۔ ایسی صورتحال میں دونوں ممالک کو مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے پر حملے کر کے تباہی مچانی چاہیے۔
اس واقعے کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ حقائق سامنے آئیں۔ ایک آزاد تحقیق ہونی چاہیے جو بتائے کہ حملہ واقعی ہوا بھی یا نہیں۔ اگر ہوا تو کس نے کیا، کیوں کیا، اور اس کی اجازت کس نے دی؟ بغیر ثبوتوں کے الزامات لگانا یا حملوں کا دفاع کرنا دونوں غلط ہیں۔ انسانی جانوں کا ضیاع سیاست کا کھلونا نہیں ہونا چاہیے۔
افغان عوام نے دہائیوں تک جنگ، غربت، اور عدم استحکام برداشت کیا ہے۔ وہ امن چاہتے ہیں، روزگار چاہتے ہیں، اور اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ ان کی یہ بنیادی انسانی خواہشات پوری کرنے کے بجائے اگر انہیں مزید لہو میں نہلایا جائے گا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ پیچیدہ ہے۔ ایک طرف ثقافتی، لسانی، اور مذہبی رشتوں کی گہرائی ہے، دوسری طرف سیاسی اختلافات اور سرحدی تناؤ ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود دونوں پڑوسی ہیں اور رہیں گے۔ ان کے مسائل کا حل بات چیت، تعاون، اور باہمی احترام میں ہے، حملوں اور انتقام میں نہیں۔
اس واقعے نے خطے میں امن کے لیے کوشش کرنے والوں کو بھی مایوس کیا ہے۔ جو لوگ افغانستان میں استحکام کے لیے کام کر رہے تھے، انہیں لگا کہ اس قسم کے حملے ان کی تمام محنت پر پانی پھیر دیں گے۔ اگر شہری تنصیبات محفوظ نہیں تو کوئی بھی تعمیر نو کا کام کیسے کر سکتا ہے؟
آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ کابل کے اس المناک واقعے میں 100 سے زائد انسانی جانیں چلی گئیں۔ یہ صرف اعداد نہیں بلکہ 100 سے زائد کہانیاں تھیں، 100 سے زائد خاندان تھے، 100 سے زائد خواب تھے جو ٹوٹ گئے۔ انسانیت کو اس سے سبق سیکھنا ہوگا۔ جنگ، انتقام، اور تشدد کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتے۔ حقیقی حل بات چیت، رواداری، اور ایک دوسرے کے درد کو سمجھنے میں مضمر ہے۔ دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کے درجات بلند فرمائے، اہل خانہ کو صبر دے، اور خطے میں امن و سکون کا نزول فرمائے۔
.jpg)
Comments