ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجنا:
ہرمز تنگہ، جسے عالمی توانگی کی شہ رگ کہتے ہیں، اب دوبارہ دنیا کی مرکزی توجہ کے ذریعے دنیاں کا مرکز بن گیا۔ جنگی جہازوں کو بھیجنے کا فیصلہ اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے اختیا کر کے علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل بنا دیا۔ یہ تنگہ خلیج فارس اور عمان کی خلیج کو ملاتا ہے اور دنیا کی تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
اس تنگے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ کسی وجہ سے بند ہو جائے تو عالمی تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ صنعتی ترقی یافتہ ممالک کے لیے یہ تنگہ اتنا اہم ہے جتنا انسانی جسم کے لیے دل کی شہ رگ۔ یہیں سے یورپ، امریکہ، ایشیا اور دیگر ممالک کو تیل اورگیس کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ اس لیے اس کی حفاظت کو یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری بن چکی ہے۔
تاریخ کی نظر میں دیکھا جائے تو ہرمز تنگہ ہمیشہ سے تناؤ کا شکار رہا ہے۔ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی، خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں، اور دہشت گردی کے خطرات نے اس علاقے کو ہمیشہ خطرناک بنا دیا ہے۔ کئی بار یہاں بحری جہازوں کو روکنے، تیل بردار جہازوں پر حملوں، اور دھمکی آمیز بیانات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں جنگی جہاز بھیجنا ایک احتیاطی اقدام ہے جو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تیاری کا مظہر ہے۔
جنگی جہازوں کی تعیناتی کا مقصد صرف دکھاوا نہیں بلکہ حقیقی سلامتی کا حصول ہے۔ یہ جہاز فضائی نگرانی کر سکتے ہیں، کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری کارروائی کر سکتے ہیں، اور اپنے بحری بیڑے کو فضائی تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔ جدید جنگی طیارے ریڈار سسٹم، میزائل ٹیکنالوجی، اور جاسوسی کے اعلیٰ ترین آلات سے لیس ہوتے ہیں جو انہیں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ طیارے نہ صرف دشمن کے حملوں سے بچاؤ کر سکتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر حملہ آور بھی ہو سکتے ہیں۔
اس فیصلے کے پیچھے کئی عالمی اور علاقائی عوامل کارفرما ہیں۔ ایران کی جانب سے بار بار دی جانے والی دھمکیاں، یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے تیل بردار جہازوں پر حملے، اور خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حال ہی میں کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا یا انہیں روکنے کی کوششیں کی گئیں۔ ایسی صورتحال میں تیل درآمد کرنے والے ممالک کو اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے پڑے۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس، اور دیگر مغربی ممالک نے پہلے ہی اس علاقے میں اپنی بحری اور فضائی طاقت بڑھا دی ہے۔ ان کا موقف واضح ہے کہ ہرمز تنگہ عالمی ورثہ ہے اور کسی ایک ملک کی اجارہ داری قبول نہیں کی جائے گی۔ تیل کی آزادانہ نقل و حرکت بین الاقوامی قانون کا تحفظ یافتہ حق ہے اور اسے یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ اقدام اٹھایا جائے گا۔ یہ بات واضح رہے کہ یہ اقدام کسی ملک کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں بلکہ دفاعی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔
ایران کی جانب سے اس اقدام کو جارحیت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے علاقائی مفادات کی حفاظت کا حق حاصل ہے اور وہ کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔ تہران نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مفادات کو نقصان پہنچا تو وہ ہرمز تنگہ بند کر سکتے ہیں۔ یہ دھمکی خالی نہیں کیونکہ ایران کے پاس اس تنگے پر کنٹرول کرنے کی فوجی صلاحیت موجود ہے۔ انہیں خلیج فارس کے ساتھ طویل ساحل حاصل ہے اور وہاں ان کی میزائل بیٹریاں، تیز رفتار کشتیاں، اور آبدوزیں تعینات ہیں۔
تاہم عالمی برادری کا موقف ہے کہ ہرمز تنگہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور اس پر کسی ایک ملک کا کنٹرول قابل قبول نہیں۔ اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق تنگے اور آبنائے بین الاقوامی پانیوں کا حصہ ہوتے ہیں جن سے ہر ملک کے جہازوں کو آزادانہ گزرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر کوئی ملک اس آزادی کو روکنے کی کوشش کرے تو یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
جنگی جہازوں کی تعیناتی کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ خطے میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، اور دیگر خلیجی ممالک بھی اس تنگے کی حفاظت کے لیے پرعزم ہیں۔ ان ممالک کی معیشت کا انحصار تیل کی برآمدات پر ہے اور اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو ان کی معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ ممالک مغربی اتحاد کے ساتھ مل کر اپنی سلامتی کے اقدامات کر رہے ہیں۔
چین اور روس جیسے ممالک اس معاملے میں محتاط موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ہونی چاہئیں اور فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔ یہ ممالک ایران کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ خطے میں جنگ کی صورتحال پیدا ہو۔ تاہم وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ تیل کی آزادانہ ترسیل عالمی مفاد میں ہے اور اسے روکا نہیں جانا چاہیے۔
اس پوری صورتحال میں پاکستان جیسے ممالک کیلئے بھی چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان خلیج فارس سے تیل درآمد کرتا ہے اور اس کی معیشت کا انحصار ان برآمدات پر ہے۔ اگر ہرمز تنگہ بند ہو جائے تو پاکستان کو شدید توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے اسلام آباد بھی چاہتا ہے کہ یہ علاقہ پرامن رہے اور کسی بھی فوجی تصادم سے گریز کیا جائے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو ہرمز تنگہ کئی جنگوں کا گواہ رہا ہے۔ 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کی جنگ کے دوران دونوں طرف نے ایک دوسرے کے تیل بردار جہازوں پر حملے کیے تھے۔ اس دوران اس تنگے میں کئی جہاز ڈبو دیے گئے اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی تھی۔ اس کے بعد 1988 میں امریکی بحریہ نے ایرانی جہاز کو مار گرایا تھا جس سے کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی۔
آج کی صورتحال میں بھی خطرات کم نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کے حوالے سے کشیدگی، اسرائیل کی جانب سے ایرانی اہداف پر حملے، اور خطے میں پراکسی جنگیں اس تنگے کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ کسی بھی وقت ایک چھوٹی سی غلطی یا غلط فہمی بڑے جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس لیے جنگی جہازوں کی تعیناتی ایک پیغام بھی ہے کہ عالمی برادری اس خطرے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
تیل کی قیمتوں پر اس اقدام کا فوری اثر دیکھا جا سکتا ہے۔ جب بھی ہرمز تنگے کے حوالے سے کوئی خبر آتی ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ہچکولے کھانے لگتی ہیں۔ سرمایہ کار خدشات کی بناء پر تیل خریدنے کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں جس سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ عام صارفین پر بھی اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ پیٹرول، ڈیزل، اور بجلی کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
ماحولیاتی اعتبار سے بھی اس تنگے کی اہمیت ہے۔ اگر یہاں تیل بردار جہازوں پر حملے ہوں یا کوئی بڑا حادثہ پیش آئے تو سمندر میں تیل پھیل سکتا ہے۔ اس سے خلیج فارس کے حساس ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس علاقے میں مرجان کی چٹانیں، سمندری کچھوے، اور دیگر نایاب مخلوقات آباد ہیں جو تیل کے اخراج سے تباہ ہو سکتی ہیں۔
آنے والے دنوں میں صورتحال کس طرف جائے گی، یہ کہنا مشکل ہے۔ اگر تمام فریقین عقلمندی کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں تو جنگ کے خطرات ٹل سکتے ہیں۔ تاہم اگر کوئی طرف جارحانہ اقدام اٹھاتی ہے یا غلط فہمی پیدا ہوتی ہے تو صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام فریقین کو بات چیت کی میز پر لائے اور پرامن حل تلاش کرے۔
ہرمز تنگہ صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی امن اور استحکام کی علامت ہے۔ اس کی حفاظت صرف تیل درآمد کرنے والے ممالک کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جنگی جہاز بھیجنا ایک احتیاطی اقدام ہے، لیکن حقیقی حل مذاکرات، باہمی احترام، اور عالمی قوانین کی پاسداری میں مضمر ہے۔ دعا یہی ہے کہ عقلمندی غلبہ پائے اور یہ علاقہ پرامن رہے تاکہ دنیا کو توانائی کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔

Comments