او آئی سی نے اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن منایا



 اسلامی تعاون تنظیم یعنی Organisation of Islamic Cooperation (او آئی سی) نے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کو منانے کا عمل جسے وہ درمیان میں رکھتے ہیں تو یہ دن بنیادی طورپر اسلامی دنیا کے ناسے انسان کو اپنی احسا س اور اپنی امنگوں اور اپنی ڈوہنوں کو دکھانے کے اپنے لمحات. انسان جسے آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی اور ترقی اور گلوبلائزیشن کی موجودہ حالت میں انسان کو اپنے مذہب کی بنیاد پر نفرت اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا. اس لیے لوگ اب ضرورت مند ہیں کہ وہ اسلاموفوبیا کے خلاف اپنا مظاہرہ دکھائیں.

‎اسلاموفوبیا دراصل ایک ایسا رویہ ہے جس میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں خوف، غلط فہمی اور نفرت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ یہ صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ کئی معاشروں میں ایک سماجی رجحان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ خاص طور پر مغربی دنیا کے بعض حلقوں میں مسلمانوں کو ایک ایسے گروہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو معاشرتی اقدار کے لیے خطرہ ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان عام انسانوں کی طرح اپنی زندگی گزار رہے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کاروبار کر رہے ہیں اور اپنے معاشروں کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔

‎جب کسی معاشرے میں کسی ایک گروہ کو مسلسل شک اور خوف کی نظر سے دیکھا جائے تو اس کے نتائج صرف اس گروہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسلاموفوبیا بھی اسی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ جب مسلمان اپنے مذہبی تشخص کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف ان کی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔

‎اسی تناظر میں عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔ United Nations نے بھی 15 مارچ کو اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کو یہ یاد دلایا جائے کہ مذہبی آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے خلاف نفرت یا امتیاز کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

‎گزشتہ چند برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے اسلاموفوبیا کے مسئلے کو مزید واضح کر دیا ہے۔ بعض جگہوں پر مساجد پر حملے ہوئے، کہیں حجاب پہننے والی خواتین کو ہراساں کیا گیا، اور کہیں مسلمانوں کو ملازمت یا تعلیم کے مواقع میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی موجود ہے۔

‎اسلاموفوبیا کی جڑیں تاریخ میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ ماضی میں ہونے والی جنگوں اور سیاسی کشمکش نے بعض معاشروں میں اسلام کے بارے میں منفی تصورات کو جنم دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تصورات میڈیا، سیاست اور عوامی بیانیے کے ذریعے مزید مضبوط ہوتے گئے۔ نتیجتاً ایک ایسا ماحول پیدا ہو گیا جہاں اسلام کو اکثر غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

‎حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات امن، عدل اور انسانیت پر مبنی ہیں۔ قرآن کی تعلیمات میں انسانی جان کی حرمت کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے اور ظلم و ناانصافی کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ اس کے باوجود اگر اسلام کو تشدد یا انتہاپسندی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو یہ نہ صرف حقیقت کے خلاف ہے بلکہ دنیا میں غلط فہمیوں کو بھی بڑھاتا ہے۔

‎اسلاموفوبیا کا سب سے زیادہ اثر عام مسلمانوں پر پڑتا ہے۔ ایک عام مسلمان جو اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہوتا ہے، وہ بھی اس تعصب کا نشانہ بن سکتا ہے۔ سکولوں میں مسلمان بچوں کو بعض اوقات مذاق یا تنگ کرنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ ملازمت کی دنیا میں بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے حالات نہ صرف فرد بلکہ پوری کمیونٹی کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔

‎او آئی سی کی جانب سے اس دن کو منانے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کو اس مسئلے کی سنجیدگی کا احساس دلایا جائے۔ مسلم ممالک اس پلیٹ فارم کے ذریعے عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مذہبی نفرت کے خلاف مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ اس موقع پر مختلف ممالک میں سیمینارز، کانفرنسز اور مباحثوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں شعور پیدا کیا جا سکے۔

‎البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض حلقوں کی طرف سے اس دن پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اسے آزادی اظہار کے خلاف سمجھتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ فرق واضح کرنا ضروری ہے کہ تنقید اور نفرت میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ کسی مذہب یا نظریے پر علمی بحث کرنا ایک بات ہے، جبکہ کسی گروہ کو نشانہ بنا کر اس کے خلاف نفرت پھیلانا بالکل مختلف معاملہ ہے۔

‎اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد صرف مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کا مشترکہ فریضہ ہے۔ دنیا میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ اگر کسی ایک گروہ کے خلاف نفرت کو برداشت کیا جائے تو اس کا اثر دوسرے گروہوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر معاشرہ مذہبی رواداری کو فروغ دے۔

‎میڈیا اس مسئلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر میڈیا متوازن اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح تعلیمی ادارے بھی نئی نسل کو برداشت اور احترام کا درس دے سکتے ہیں۔ جب بچوں کو چھوٹی عمر سے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے بارے میں مثبت انداز میں آگاہی دی جائے گی تو وہ بڑے ہو کر زیادہ روادار شہری بنیں گے۔

‎سوشل میڈیا نے بھی اس حوالے سے ایک نئی فضا پیدا کی ہے۔ آج مسلمان دنیا کے مختلف حصوں سے اپنی زندگی، ثقافت اور مذہبی روایات کو براہ راست دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ اس سے لوگوں کو یہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے کہ مسلمان بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں اور ان کی زندگی بھی دوسرے انسانوں کی طرح خوشیوں اور مشکلات سے بھرپور ہوتی ہے۔

‎او آئی سی کی جانب سے اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کا انعقاد دراصل ایک پیغام ہے کہ دنیا کو نفرت کے بجائے مکالمے اور سمجھ بوجھ کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اگر انسانیت کو واقعی ایک پرامن مستقبل کی طرف لے جانا ہے تو مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان احترام اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا۔

‎آخرکار یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد صرف ایک دن یا ایک بیان تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ایک طویل عمل ہے جس میں حکومتوں، تعلیمی اداروں، میڈیا اور عام لوگوں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب تک دنیا میں ہر انسان کو اس کے مذہب سے قطع نظر برابر کا احترام اور تحفظ نہیں ملتا، تب تک حقیقی امن کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا