امریکی اتحادی ٹرمپ کے دباؤ کے بعد ہرمز کھولنے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔



 خلیج فارس کی لہروں میں بظاہر سکون دکھائی دیتا ہے. اس سکون کا نیچے سے گھری بےچینی کی حالت موجودہ عالمیہ سیاسی نظام کی بنیاد پر عمل کررہی ہے. سمندر کی گزرگاہ جسے دنیا توانائی کی بنیادی شریان سمجھتی ہے آبنائے ہرمز اب دوبارہ عالمی توجہ کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے. حالیہ دنوں میں یہ خبر سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے اتحادی ممالک اس تنگے کو ہر حال میں کھلا رکھنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہےہیں. اس تنگے کے کھلے رکھنے کے بارے میں ہونے والی بحث اس وقت موجودہ دباؤ کی وجہ سے سابق امریکی صدر Donald Trump کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ چل رہی ہے.

‎یہ مسئلہ صرف ایک سمندری راستے کا نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت، سیاست اور توانائی کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز وہ مقام ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتا ہے۔ Saudi Arabia، United Arab Emirates، Kuwait اور Iraq جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشت بڑی حد تک اسی راستے پر انحصار کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آبی گزرگاہ میں معمولی سی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دیتی ہے۔

‎ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ واضح اور کسی حد تک سخت موقف پر مبنی رہی ہے۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو ان کا مؤقف یہ تھا کہ امریکہ کو دنیا کا واحد محافظ بننے کی ضرورت نہیں۔ ان کا خیال تھا کہ امریکی اتحادیوں کو اپنی سلامتی کے لیے زیادہ ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ یہی سوچ اب بھی ان کے بیانات اور پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اتنی ہی اہم ہے تو پھر اس کی حفاظت صرف امریکہ کا کام کیوں ہو؟

‎اسی سوچ نے امریکی اتحادیوں کو ایک نئی بحث میں دھکیل دیا ہے۔ خاص طور پر European Union کے ممالک اور خلیجی ریاستیں اب اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ اپنی فوجی موجودگی کم کر دیتا ہے تو کیا وہ خود اس اہم راستے کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہ سوال آسان نہیں کیونکہ دہائیوں سے اس خطے کی سیکیورٹی بڑی حد تک امریکی بحری طاقت پر منحصر رہی ہے۔

‎آبنائے ہرمز کی جغرافیائی حقیقت بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ بہت تنگ ہے اور کئی جگہوں پر جہازوں کے گزرنے کے لیے محدود راستے موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یہاں کسی قسم کی فوجی کشیدگی پیدا ہو جائے تو جہاز رانی فوراً متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چند دنوں میں کئی گنا بڑھ سکتی ہیں، اور اس کا اثر دنیا کے تقریباً ہر ملک پر پڑے گا۔

‎اس صورتحال میں ایک اہم کردار Iran کا بھی ہے۔ ایران بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ اگر اس کے خلاف سخت پابندیاں یا فوجی کارروائیاں بڑھتی ہیں تو وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کر سکتا ہے۔ تہران کے پاس تیز رفتار کشتیاں، میزائل اور دیگر بحری وسائل موجود ہیں جو اس علاقے میں کسی بھی تنازعے کو خطرناک بنا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک اس مسئلے کو نہایت احتیاط سے دیکھتے ہیں۔

‎دوسری طرف خطے کے عرب ممالک کے اپنے خدشات بھی ہیں۔ Saudi Arabia اور United Arab Emirates کے لیے یہ راستہ صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ان کی اقتصادی بقا کا ذریعہ بھی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو ان کی تیل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات ان کی معیشت پر براہ راست پڑیں گے۔ اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس راستے کو محفوظ رکھا جائے۔

‎امریکی اتحادی اس وقت کئی ممکنہ آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ایک امکان مشترکہ بحری نگرانی کا ہے، جس کے تحت مختلف ممالک اپنی بحریہ کو اس علاقے میں تعینات کر کے جہاز رانی کی حفاظت کریں۔ اس طرح کی کوششیں ماضی میں بھی کی جا چکی ہیں، لیکن ان کی کامیابی کے لیے مضبوط سیاسی اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔

‎ایک اور راستہ سفارتی کوششوں کو بڑھانا ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ خطے کی کشیدگی کو کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ مذاکرات ہیں۔ اگر Iran اور مغربی ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہو جائے تو آبنائے ہرمز پر دباؤ خود بخود کم ہو سکتا ہے۔ لیکن عالمی سیاست میں اعتماد پیدا کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

‎بعض ممالک متبادل راستوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر خلیجی ممالک نے ایسی پائپ لائنیں تعمیر کی ہیں جو تیل کو براہ راست بندرگاہوں تک پہنچا سکتی ہیں، تاکہ آبنائے ہرمز پر مکمل انحصار کم کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ منصوبے مکمل متبادل نہیں ہیں، لیکن ہنگامی حالات میں یہ کچھ حد تک مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

‎اس مسئلے کا ایک اور پہلو عالمی طاقتوں کی دلچسپی بھی ہے۔ China اور Russia جیسے ممالک بھی اس صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ خلیج فارس کی توانائی ان کی معیشتوں کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر خطے میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف مغرب تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایشیا اور یورپ دونوں متاثر ہوں گے۔

‎حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی صرف فوجی طاقت سے یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔ اس کے لیے سفارت کاری، علاقائی تعاون اور عالمی ذمہ داری کا توازن ضروری ہے۔ اگر طاقت کا استعمال حد سے بڑھ جائے تو یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

‎اسی لیے بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اصل حل اس بات میں ہے کہ خطے کے ممالک ایک مشترکہ فریم ورک بنائیں جس کے تحت سمندری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگر عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک مل کر کوئی ایسا نظام قائم کر لیں جو سب کے مفادات کا خیال رکھے تو کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔

‎آخرکار یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آبنائے ہرمز صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کے درمیان ایک حساس پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں ہونے والی ہر حرکت دنیا کے مختلف حصوں میں اثرات پیدا کرتی ہے۔

‎ٹرمپ کا دباؤ دراصل اتحادیوں کے لیے ایک امتحان بن چکا ہے۔ انہیں اب یہ طے کرنا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے کس حد تک ذمہ داری لینے کو تیار ہیں۔ آنے والے دن اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ یہ دباؤ عالمی تعاون کو مضبوط بناتا ہے یا خطے میں نئی کشیدگیوں کو جنم دیتا ہے۔

‎امید یہی کی جا سکتی ہے کہ دانشمندی اور سفارت کاری غالب آئے گی، کیونکہ اگر آبنائے ہرمز میں امن برقرار رہتا ہے تو اس کا فائدہ صرف ایک خطے کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا