تیل کی قیمتوں میں اضافہ: جیو-سیاسی کشیدگی اور ایران
ہر وقت جب عالمی توانائی کی منڈی میں اچانک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں تو اس کے پیچھے مشرقِ وسطیٰ کے حالات کی مکمل وجہ ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی کچھ ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا ہے۔ نئی سپریم لیڈر کے انتخابات کے ساتھ حکومت ملک بھر میں مظاہرے کر رہی ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بڑھتا ہوا تناؤ اور خطے میں طویل تنازعے کے خدشات—یہ سب عواململ کر عالمی تیل کی قیمتوں کو اوپر لے جا رہے ہیں۔ خبر شروع میں دکھائی دیتی جیسے اقتصادی معاملہ، لیکن اس کے اثرات ہوتے ہیں جس سے پھیلتے ہیں تمام شعبے یعنی سیاست اور سفارتکاری اور روزمرہ زندگی کے تمام لوگوں.
جب دنیا کے کسی حصے میں جنگ یا کشیدگی کا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو توانائی کی منڈی فوراً ردعمل دیتی ہے۔ سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں اور خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر حالات بگڑ گئے تو تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی ایران کے گرد سیاسی سرگرمیوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کی خبریں آئیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگیں۔
مشرقِ وسطیٰ اس لحاظ سے انتہائی اہم خطہ ہے کیونکہ دنیا کے بڑے تیل کے ذخائر اور سپلائی کے راستے یہاں موجود ہیں۔ اگر یہاں کسی بڑے تنازعے کا خطرہ پیدا ہو جائے تو دنیا بھر کی معیشت اس کے اثرات محسوس کرتی ہے۔ تیل صرف گاڑیوں کا ایندھن نہیں بلکہ صنعت، تجارت، نقل و حمل اور بجلی کی پیداوار کی بنیاد بھی ہے۔ اس لیے جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں مہنگائی بڑھنے لگتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں کشیدگی کا ایک اہم پہلو ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان تعلقات ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ مختلف شکلوں میں سامنے آتا رہا ہے۔ کبھی لبنان کے محاذ پر کشیدگی بڑھتی ہے، کبھی غزہ کے حالات خبروں میں آ جاتے ہیں۔ جب ایسے واقعات بڑھتے ہیں تو عالمی منڈی میں یہ خدشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں یہ تناؤ ایک بڑے تصادم میں تبدیل نہ ہو جائے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہرمز کی آبنائے بھی ہے۔ یہ وہ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی تیل کی تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے جب ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کے حوالے سے سخت بیانات آتے ہیں تو عالمی منڈی فوراً متحرک ہو جاتی ہے۔ اگر کبھی یہ راستہ بند ہو جائے یا اس میں خلل پیدا ہو جائے تو تیل کی فراہمی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے اور قیمتیں بہت تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں۔
دوسری طرف ایران کے اندر بھی سیاسی منظرنامہ خاصا اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ سپریم لیڈر کا عہدہ ایران میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی منصب نہیں بلکہ ملک کے نظریاتی اور مذہبی نظام کا مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے جب قیادت کے حوالے سے بحث شروع ہوتی ہے تو نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا اس پر نظر رکھتی ہے۔
ایران میں نئے لیڈر کے گرد ہونے والی ریلیاں بھی اسی سیاسی ماحول کا حصہ ہیں۔ مختلف شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکلے، قومی پرچم لہرائے گئے اور قیادت کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ ان مظاہروں کو حکومت کی حمایت اور قومی اتحاد کے اظہار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسی ریلیاں اکثر حکومتی تنظیموں اور سرکاری اداروں کی مدد سے منعقد ہوتی ہیں، اس لیے ان کی حقیقی عوامی نمائندگی پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔
ایران کے عوام اس وقت معاشی مشکلات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح کافی زیادہ ہے اور کرنسی کی قدر میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ ایسے حالات میں عوامی توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں کہ نئی قیادت معاشی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کوئی واضح راستہ اختیار کرے گی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو عوامی بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت موقف سامنے آتا رہا ہے۔ مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں تبدیلی نہ کی تو اس پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ایسی پابندیاں نہ صرف ایران کی معیشت بلکہ عالمی تیل کی منڈی کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
اوپیک کے کردار کو بھی اس صورتحال میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایران اس تنظیم کے بانی اراکین میں شامل ہے، لیکن پابندیوں کی وجہ سے اس کی تیل کی پیداوار پہلے ہی محدود ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگر عالمی منڈی میں تیل کی کمی کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو دیگر ممالک جیسے سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات پیداوار بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ان کے پاس بھی اس کی ایک حد ہوتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایشیا کی بڑی معیشتیں بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ چین اور بھارت جیسے ممالک توانائی کے بڑے درآمد کنندہ ہیں۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو ان ممالک کی معیشت پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور اس کے اثرات عالمی افراط زر میں بھی نظر آتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے مختلف امکانات زیرِ بحث ہیں۔ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور براہ راست تصادم کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے تو تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر نئی قیادت سفارت کاری کو ترجیح دیتی ہے اور مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کی راہ اختیار کی جاتی ہے تو حالات میں کچھ استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
تیسرا امکان یہ بھی ہے کہ موجودہ کشیدگی اسی سطح پر برقرار رہے۔ یعنی نہ مکمل جنگ ہو اور نہ مکمل مفاہمت۔ ایسی صورتحال میں تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتی ہیں اور عالمی منڈی غیر یقینی کیفیت میں رہ سکتی ہے۔
اس سارے منظرنامے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتے۔ یہاں ہونے والی ہر بڑی پیش رفت کا اثر دنیا بھر کی معیشت اور سیاست پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری اس وقت خاصی احتیاط کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔
اگر دانشمندی اور سفارت کاری کو ترجیح دی جائے تو شاید اس بحران کو ایک بڑے تصادم میں بدلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر کشیدگی بڑھتی رہی تو اس کے اثرات نہ صرف تیل کی قیمتوں بلکہ عالمی امن و استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے اس نازک مرحلے پر متوازن فیصلے اور سنجیدہ سفارتی کوششیں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
.jpg)
Comments