تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ



 عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں ہچکولے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ خلیج فارس کے مختلف ممالک میں تیل و گیس کی تنصیبات پر ہڑتالوں کے سلسلے میں تیزی آ گئی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے تشویش کا باعث بنی ہے، بلکہ عام صارفین کی جیب پر بھی براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔

‎یہ ہڑتالیں کسی ایک ملک تک محدود نہیں، بلکہ سعودی عرب، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، اور عمان سمیت کئی خلیجی ریاستوں میں یکے بعد دیگرے شروع ہو گئی ہیں۔ ہڑتال کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کئی برسوں سے بہتر تنخواہوں، محفوظ کام کے حالات، اور بنیادی سہولتوں کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن ان کی آوازیں کسی نے نہیں سنی۔ اب جبکہ عالمی تیل کی قیمتیں پہلے ہی بلند ہیں، انہیں اپنے مطالبات منوانے کا بہترین موقع مل گیا ہے۔

‎سعودی عرب میں ارامکو کی تنصیبات پر ہڑتالوں نے سب سے زیادہ تشویش پیدا کی ہے۔ ارامکو دنیا کی سب سے بڑی تیل پیدا کرنے والی کمپنی ہے اور اس کی کسی بھی رکاوٹ کا عالمی منڈیوں پر فوری اثر پڑتا ہے۔ ہڑتالی کارکنوں نے مشرقی صوبے میں کئی اہم آئل فیلڈز کو بند کر دیا ہے، جس سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ کمپنی انتظامیہ نے ہڑتالیوں سے مذاکرات کی کوشش کی ہے، لیکن اب تک کوئی حتمی معاہدہ طے پانے میں ناکام رہی ہے۔

‎کویت میں بھی صورتحال سنگین ہے۔ یہاں کے تیل کارکنوں نے نہ صرف پیداواری تنصیبات بلکہ ریفائنریز اور برآمدی ٹرمینلز کو بھی ہڑتالوں کا نشانہ بنایا ہے۔ کویت ایک چھوٹا ملک ہے، لیکن فی کس تیل پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں سر فہرست ہے۔ یہاں کی کسی بھی رکاوٹ کا اثر فوری طور پر عالمی منڈیوں میں محسوس ہوتا ہے۔ ہڑتالیوں کا کہنا ہے کہ انہیں دہائیوں سے ایک ہی تنخواہ مل رہی ہے، جبکہ کمپنی کے منافے میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

‎متحدہ عرب امارات میں بھی ہڑتالوں نے تیل کی پیداوار میں کمی کر دی ہے۔ یہاں کے کارکنوں نے خاص طور پر زائد اوقات کام کرنے کے معاوضے اور طبی سہولتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ تیل کی تنصیبات میں کام کرنا انتہائی خطرناک ہوتا ہے، جہاں زہریلی گیسوں، آگ کے خطرات، اور مشینری کے حادثات کا ہمیشہ خدشہ رہتا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس خطرناک کام کے لیے مناسب معاوضہ نہیں ملتا۔

‎قطر میں قدرتی گیس کی پیداوار بھی ہڑتالوں کی زد میں آ گئی ہے۔ قطر دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کنندہ ہے اور یورپ کی توانائی کی فراہمی میں اس کا کلیدی کردار ہے۔ یہاں ہڑتالوں نے گیس کی پیداوار میں کمی کر دی ہے، جس سے یورپی ممالک میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ سردیوں کا موسم ابھی ختم نہیں ہوا اور یورپ ابھی گیس کی زیادہ ضرورت محسوس کر رہا ہے۔

‎ان ہڑتالوں کے پیچھے کئی گہرے عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے زیادہ تر تیل کارکن غیر ملکی ہیں، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیاء سے آئے ہوئے محنت کش۔ ان کی تنخواہیں مقامی کارکنوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں اور انہیں اکثر غیر انسانی حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ کورونا وبا کے دوران ان میں سے کئی افراد کو بغیر کسی معاوضے کے وطن واپس بھیج دیا گیا تھا، جس نے ان میں شدید ناراضگی پیدا کی۔

‎دوسرا بڑا مسئلہ مہنگائی ہے۔ دنیا بھر میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور خلیجی ممالک میں بھی اس کا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔ تیل کارکنوں کی تنخواہیں اگرچہ مقامی معیار زندگی کے لحاظ سے بہتر ہیں، لیکن ان کی بھی گھریلو اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کم از کم ان کی تنخواہوں میں مہنگائی کا تناسب رکھا جائے۔

‎تیسرا اور سب سے اہم عوامل یہ ہے کہ تیل کمپنیوں کے منافے میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس تیل کی قیمتوں میں بہتری کے بعد یہ کمپنیاں اربوں ڈالر کا منافہ کما رہی ہیں۔ کارکنوں کا یہ سوال ہے کہ جب کمپنی اتنا کما رہی ہے تو ان کا حصہ کیوں نہیں بڑھایا جاتا؟ انہیں لگتا ہے کہ کمپنی انتظامیہ محنت کشوں کی محنت کا پورا فائدہ اٹھا رہی ہے۔

‎عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں آتے ہی سرمایہ کاروں میں ہلچل مچ گئی۔ نیویارک اور لندن کی تیل ایکسچینجز میں فی بیرل تیل کی قیمت میں چار سے پانچ ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ہڑتالیں جاری رہیں تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ کچھ نے تو یہ بھی اندازہ لگایا ہے کہ اگر صورتحال بگڑی تو تیل سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتا ہے۔

‎اس اضافے کا اثر عام صارفین پر بھی پڑے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھیں گی، جس سے ٹرانسپورٹ مہنگا ہو گا۔ بجلی کی پیداواری لاگت بڑھے گی، جس سے بجلی کے بلوں میں اضافہ ہو گا۔ پلاسٹک، کیمیکلز، اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی، جو ہر شعبہ زندگی کو متاثر کریں گی۔ مہنگائی کا یہ سلسلہ غریب اور متوسط طبقے پر سب سے زیادہ اثر انداز ہو گا۔

‎تیسرے ممالک، خاص طور پر ترقی پذیر معیشتوں کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، اور دیگر ممالک تیل درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کی معیشتیں پہلے ہی وبا کے بعد بحالی کی کوشش کر رہی ہیں، اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ان کی کوششوں پر پانی پھیر سکتا ہے۔ ان ممالک میں مہنگائی پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہے، اور تیل مہنگا ہونے سے یہ مزید بگڑے گی۔

‎یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس سے محفوظ نہیں۔ یورپ میں توانائی کا بحران پہلے ہی چل رہا ہے، روسی گیس کی فراہمی میں کمی کے بعد۔ خلیجی گیس کی پیداوار میں رکاوٹ اس بحران کو مزید گہرا کرے گی۔ امریکہ میں اگرچہ خود تیل کی پیداوار زیادہ ہے، لیکن عالمی قیمتوں کا اثر وہاں بھی محسوس ہوتا ہے۔

‎چین اور جاپان جیسے ایشیائی اقتصادی طاقتوں کے لیے بھی یہ خبریں اچھی نہیں۔ چین دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ہے، اور قیمتوں میں کسی بھی اضافے سے اس کی صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ جاپان کی معیشت پہلے ہی سست رفتاری کا شکار ہے، اور مہنگے تیل سے اس میں مزید کمی آسکتی ہے۔

‎خلیجی حکومتوں کے لیے بھی یہ صورتحال چیلنجنگ ہے۔ ان کی معیشتیں تیل برآمدات پر انحصار کرتی ہیں، اور پیداوار میں کمی ان کے revenues کو متاثر کرے گی۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہڑتالیں جلد ختم ہوں، لیکن کارکنوں کے مطالبات کو پورا کرنا بھی ان کے لیے مشکل ہے۔ اگر وہ ایک شعبے میں تنخواہیں بڑھاتے ہیں تو دوسرے شعبوں میں بھی ایسے مطالبات اٹھیں گے۔

‎تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو خلیجی ممالک میں ہڑتالیں نسبتاً نادر ہیں۔ یہاں کے سخت قوانین اور غیر ملکی کارکنوں کی کمزور پوزیشن کی وجہ سے محنت کشوں کو احتجاج کا موقع کم ملتا ہے۔ لیکن اب سوشل میڈیا اور عالمی رابطوں کی وجہ سے ان کی آوازیں پہلے سے زیادہ بلند ہو سکتی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دنیا ان کی حالت زار دیکھ رہی ہے۔

‎عالمی محنت کش اتحادوں اور انسانی حقوق کے اداروں نے ان ہڑتالوں کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیجی تیل کمپنیوں نے دہائیوں تک محنت کشوں کا استحصال کیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ انصاف ملے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ خلیجی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کارکنوں کے حقوق کا احترام کریں۔

‎اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں یہ ہڑتالیں مزید اہم ہو جاتی ہیں۔ اگر خطے میں کوئی فوجی تصادم ہوتا ہے تو تیل کی سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ ہڑتالوں کی وجہ سے پہلے ہی پیداوار کم ہے، اور جنگ کی صورت میں یہ صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔ عالمی برادری اس لیے چاہتی ہے کہ یہ ہڑتالیں جلد حل ہو جائیں۔

‎ماحولیاتی گروپوں نے بھی اس موقع پر اپنی آواز اٹھائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اچھی بات ہے کیونکہ یہ لوگوں کو توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف راغب کرے گا۔ لیکن یہ دلیل عام صارفین کے لیے تسلی بخش نہیں، جو پہلے ہی مہنگائی سے تڑپ رہے ہیں۔

‎آنے والے دنوں میں صورتحال کس طرف جائے گی، یہ کئی عوامل پر منحصر ہے۔ اگر ہڑتالیوں کے مطالبات من لیے گئے تو پیداوار بحال ہو سکتی ہے اور قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر ہڑتالیں طول پکڑیں یا پھیل جائیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ خلیجی حکومتوں اور کمپنی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد مذاکرات کریں اور معقول حل نکالیں۔

‎آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ یہ ہڑتالیں صرف تیل کارکنوں کے مسائل نہیں، بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے ایک امتحان ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہماری جدید زندگی تیل پر کتنی انحصار کرتی ہے، اور جب یہ فراہمی متاثر ہوتی ہے تو ہم سب متاثر ہوتے ہیں۔ دعا یہی ہے کہ جلد از جلد کوئی پرامن حل نکل آئے، کارکنوں کو ان کے حقوق ملیں، اور عالمی معیشت کو اس صدمے سے نجات ملے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا