ایرانی نئے سال کے موقع پر اسرائیل نے تہران کو فضائی حملوں سے نشانہ بنایا



 نوروز کا تہوار، جو ایرانیوں کے لیے نئے سال کی امید اور خوشی کا پیغام لے کر آتا ہے، اس سال خون اور آنسوؤں میں بدل گیا۔ اسرائیل نے اس مقدس موقع پر تہران اور دیگر شہروں پر فضائی حملے کر کے نہ صرف ایرانی عوام کے جذبات کو مجروح کیا، بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسرائیل کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایرانی گھر نئے سال کی تیاریوں میں مصروف تھے، بچے تحائف کی امید لگائے بیٹھے تھے، اور خاندان ایک دوسرے سے ملنے کے لیے سفر کر رہے تھے۔


یہ حملے رات کے اندھیرے میں کیے گئے، جب تہران کے آسمان پر آتش بازی کا رواج ہے۔ لیکن اس بار آتش بازی نہیں، بموں کی برسات تھی۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایران کے دفاعی نظام کو چکما دے کر دارالحکومت کے اہداف پر حملے کیے۔ تہران کے ہوائی اڈوں، فوجی تنصیبات، اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنائی دیں، اور شہر کے مختلف حصوں میں آگ کی لپٹیں اٹھتی نظر آئیں۔


ایران کی سول ڈیفنس نے فوری طور پر الرٹ جاری کیا۔ شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی گئی، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اور فوجی دستے گلیوں میں اتار دیے گئے۔ تہران کے گورنر نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ "بزدلانہ حملہ" ہے جو ایرانی عوام کے حوصلے کو نہیں توڑ سکتا۔ لیکن ان کی آواز میں درد واضح تھا، درد اپنے شہریوں کی حفاظت نہ کر سکنے کا۔


اسرائیل نے حملے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی، لیکن اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے "ایران پر بڑے پیمانے پر کارروائی" کی اطلاعات دی ہیں۔ یہ اسرائیل کا طریقہ کار ہے، حملہ کریں لیکن ذمہ داری قبول نہ کریں۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کے علاوہ اور کون ہے جو ایران پر اس طرح کے حملے کر سکتا ہے؟ یہ بات واضح ہے کہ یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کے خلاف اسرائیل کی طویل مدتی پالیسی کا حصہ ہیں۔


نوروز کے موقع پر حملے کا انتخاب کوئی اتفاق نہیں۔ یہ اسرائیل کی جانب سے ایک منظم نفسیاتی جنگ ہے۔ ایرانی عوام کو یہ پیغام دینا کہ ان کا کوئی تہوار، کوئی خوشی محفوظ نہیں۔ یہ وہی طریقہ ہے جو دہشت گرد استعمال کرتے ہیں، عام شہریوں کو ڈرانا، ان کی روزمرہ زندگی کو اجیرن بنانا۔ لیکن اسرائیل بھول جاتا ہے کہ ایرانی عوام صدیوں کی مشکلات سے گزرے ہیں، انہیں ڈرانا اتنا آسان نہیں۔


ایران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔ تہران نے اسرائیل پر "جنگی جرم" کا الزام عائد کیا اور بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ یہ حملہ "امت مسلمہ کے دل پر خنجر ہے"۔ انھوں نے عوام سے صبر اور یکجہتی کی اپیل کی، ساتھ ہی واضح کیا کہ اس حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔


اسرائیل اور ایران کے درمیان یہ کشیدگی کوئی نئی نہیں، لیکن نوروز پر حملے نے اسے نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ دونوں ممالک براہ راست جنگ نہیں کرتے، لیکن شام، لبنان، یمن، اور عراق میں ان کی پراکسی جنگ جاری ہے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ یہ پوشیدہ جنگ کھلی جنگ میں بدلنے کے قریب ہے۔ دونوں طرف سے بیانات تیز ہوتے جا رہے ہیں، اور خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔


عالمی برادری کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔ اقوام متحدہ نے فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے۔ امریکہ نے کہا کہ وہ صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے، لیکن واضح طور پر اسرائیل کی حمایت کی۔ روس اور چین نے حملے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ علاقائی استحکام کے لیے خطرناک ہے۔ یورپی یونین نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فریقین بات چیت کی میز پر آئیں۔


اس واقعے کے بعد خلیج فارس میں تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھا گیا۔ عالمی منڈیوں میں خدشات پیدا ہوئے کہ اگر جنگ شروع ہوئی تو تیل کی سپلائی متاثر ہو گی۔ سرمایہ کاروں میں ہلچل مچ گئی، اور تیل کی قیمتیں چار فیصد تک بڑھ گئیں۔ یہ عام صارفین پر بھی اثر انداز ہو گا، کیونکہ پیٹرول، بجلی، اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔


اسرائیل کے اس اقدام نے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا خطرناک precedent قائم کیا ہے۔ اگر کسی ملک کی تہواروں پر حملے کی اجازت دی گئی تو پھر کوئی بھی تہوار، کوئی بھی مقدس دن محفوظ نہیں رہے گا۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اسرائیل جانتا ہے کہ اس کے پاس امریکہ کی پشت پناہی ہے، اس لیے وہ کسی کے قانون کا پابند نہیں۔


ایران کے اندر بھی یہ حملہ ایک قومی صدمے کی طرح لیا جا رہا ہے۔ میڈیا میں شہداء کی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں، اور عوام میں غصہ پھیل رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ایرانی حکومت نے عوام کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے؟ کیوں اسرائیلی طیارے ایرانی فضائی حدود تک پہنچ گئے؟ یہ سوال حکومت کے لیے ایک امتحان ہیں۔


اسرائیل کے اندر بھی اس حملے پر بحث ہو رہی ہے۔ کچھ حلقے اسے ایک ضروری قدم سمجھتے ہیں، جو ایران کو روکنے کے لیے ضروری تھا۔ دوسرے خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایران کو مزید جارحانہ بنا دے گا، اور اسرائیل خود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ لیکن انتہا پسند حلقے غالب نظر آ رہے ہیں، جو جنگ کو نعمت سمجھتے ہیں۔


نوروز پر حملے نے ایرانی عوام کے جذبات کو مجروح کیا ہے، لیکن ساتھ ہی ان میں ایک نیا جذبہ بھی پیدا کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایرانی نوجوانوں نے پیغامات شیئر کیے ہیں کہ وہ ڈرنے والے نہیں، وہ اپنے ملک کا دفاع کریں گے۔ یہ اسرائیل کی نفسیاتی جنگ کا ناکام ہونا ہے، کیونکہ ایرانی عوام نے خوف کے بجائے حوصلہ کا مظاہرہ کیا ہے۔


اس واقعے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں، لیکن وہ کھلی جنگ بھی نہیں چاہتی۔ اسرائیل کے اس اقدام نے امریکہ کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ اگر ایران بدلہ لیتا ہے تو امریکہ کو اسرائیل کی حمایت کرنی پڑے گی، اور پھر جنگ ناگزیر ہو جائے گی۔


خلیج فارس کے عرب ممالک بھی پریشان ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور قطر جانتے ہیں کہ اگر ایران اور اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کشیدگی کم ہو، لیکن ان کا اثر محدود ہے۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کے اتحادی ہیں، لیکن ایران کے پڑوسی بھی۔


آنے والے دنوں میں صورتحال کس طرف جائے گی، یہ کہنا مشکل ہے۔ اگر ایران فوری بدلہ لیتا ہے تو جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ اگر وہ انتظار کرتا ہے تو اسرائیل مزید حملے کر سکتا ہے۔ تیسرا آپشن یہ ہے کہ دونوں طرف سے محدود کارروائیاں ہوں، لیکن یہ بھی خطرناک ہے۔


آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ نوروز پر تہران پر حملہ انسانیت کے لیے ایک سیاہ دھبہ ہے۔ جو لوگ مارے گئے، وہ صرف فوجی نہیں، انسان تھے۔ ان کے پیچھے خاندان تھے، خواب تھے، زندگیاں تھیں۔ مشرق وسطیٰ میں امن کا خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہو گا جب انتقام کی لہریں رکیں گی اور بات چیت کی جگہ بنے گی۔ دعا یہی ہے کہ عقلمندی غلبہ پائے اور خونریزی کا یہ سلسلہ رک جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا