اسرائیل کی جوہری تنصیب ایرانی میزائل



 تاریخ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کے اس حساس موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے جہاں سے جنگ اور امن کے درمیان کا فرق صرف ایک غلطی یا غلط فہمی کا شکار بن سکتا ہے۔ اسرائیل کی ایک اہم جوہری تنصیب کے قریب ایرانی میزائل حملوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف دونوں ممالک کی کشیدہ تعلقات میں ایک نیا باب ہے، بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔

‎یہ حملے رات کے اندھیرے میں کیے گئے جب اسرائیل کا نگیو نامی جوہری ری ایکٹر، جو دنیا کی قدیم ترین جوہری تنصیبات میں سے ایک ہے، اپنے معمول کے مطابق کام کر رہا تھا۔ اچانک فضا میں میزائلوں کی آوازیں گونجنے لگیں اور پھر دھماکوں کی لہریں۔ اسرائیلی دفاعی نظام "آئرن ڈوم" اور "ایرو" نے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، لیکن کچھ میزائل تنصیب کے قریب گرے اور آگ کی لپٹیں اٹھنے لگیں۔

‎اسرائیلی فوج نے فوری طور پر الرٹ جاری کیا اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی۔ نگیو شہر میں ہر جگہ خوف اور افرا تفری کا سماں تھا۔ لوگوں کو یاد آیا 1981 کا وہ دن جب اسرائیل نے عراق کے اوسیراک جوہری ری ایکٹر پر حملہ کیا تھا۔ اب وہی خوف ان کے اپنے گھر میں داخل ہو چکا تھا۔ بچوں کی چیخیں، ماؤں کی فریادیں، اور بوڑھوں کی دعائیں ہر طرف سنائی دے رہی تھیں۔

‎ایران کی جانب سے اس حملے کی فوری طور پر تصدیق کر دی گئی۔ ایرانی انقلابی گارڈز کے ترجمان نے کہا کہ یہ اسرائیل کے حالیہ حملوں کا "منہ توڑ جواب" ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل ایرانی شہریوں کو نشانہ بناتا ہے تو ایران بھی اسرائیلی عوام کو نہیں بخشے گا۔ یہ بیان واضح طور پر ایک نئے خطرناک دور کا آغاز تھا۔

‎اسرائیل نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایران نے "سرخ لکیر" عبور کر دی ہے اور اس کا جواب دیا جائے گا۔ اسرائیلی فضائیہ نے فوری طور پر ایران کے کئی اہداف پر حملے کیے، جن میں فوجی اڈے، میزائل ڈپو، اور تیل کی تنصیبات شامل تھیں۔ دونوں طرف سے حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، اور لگا کہ یہ پوشیدہ جنگ اب کھلی جنگ میں بدل چکی ہے۔

‎یہ حملے کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں، بلکہ برسوں کی کشیدگی کا اظہار ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان دشمنی کوئی نئی نہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں یہ تیزی سے بڑھی ہے۔ اسرائیل نے ایران کے جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا، ایران نے اسرائیلی جہازوں کو مار گرایا، اور اب یہ میزائل حملے۔ ہر قدم ایک دوسرے کو مزید جارحانہ بنا رہا ہے۔

‎عالمی برادری کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ "یہ ایک انتہائی خطرناک لمحہ ہے" اور دونوں فریقین سے فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل کی۔ امریکہ نے اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی "جارحیت" برداشت نہیں کی جائے گی۔ روس اور چین نے دونوں فریقین سے تحمل کی اپیل کی اور کہا کہ بات چیت کا راستہ اپنایا جائے۔

‎یورپی یونین کے لیے یہ ایک مشکل صورتحال ہے۔ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرنا چاہتی ہے، لیکن اس قسم کے حملے اس کوشش کو تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں۔ فرانس، جرمنی، اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ "فوری طور پر کشیدگی کم کی جائے"، لیکن ان کے پاس عملی اختیارات محدود ہیں۔

‎اس واقعے کے بعد تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھا گیا۔ عالمی منڈیوں میں خدشات پیدا ہوئے کہ اگر جنگ شروع ہوئی تو ہرمز تنگہ بند ہو سکتا ہے، جس سے دنیا کی ایک تہائی تیل کی سپلائی متاثر ہو گی۔ سرمایہ کاروں میں ہلچل مچ گئی، اور سونے کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں کیونکہ لوگ محفوظ سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوئے۔

‎اسرائیل کی جوہری تنصیبات کی حفاظت ہمیشہ سے اس کی اولین ترجیح رہی ہے۔ اسرائیل کبھی بھی سرکاری طور پر اپنے جوہری ہتھیاروں کی تصدیق نہیں کرتا، لیکن دنیا جانتی ہے کہ اس کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے۔ ایران کے لیے ان تنصیبات کو نشانہ بنانا سب سے بڑا داؤ ہے، کیونکہ اگر کسی طرح اسرائیل کے جوہری ہتھیار تباہ ہو گئے تو اس کا دفاعی توازن بگڑ سکتا ہے۔

‎ایران کے لیے بھی یہ حملے ایک خطرناک گیم ہیں۔ اگر اسرائیل نے جوہری تنصیبات کو حقیقی خطرہ محسوس کیا تو وہ ایران کے خلاف ایٹمی حملے کا جواز تلاش کر سکتا ہے۔ یہی وہ "سرخ لکیر" ہے جس کے بارے میں اسرائیل ہمیشہ چتاؤنی دیتا آیا ہے۔ ایران جانتا ہے کہ یہ لکیر عبور کرنے کے نتائج تباہ کن ہوں گے، لیکن پھر بھی اس نے یہ قدم اٹھایا۔

‎اس خطے کے عرب ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، شدید پریشان ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ایران اور اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ انھوں نے خفیہ طور پر اسرائیل سے تعلقات استوار کیے ہیں، لیکن عوامی سطح پر وہ ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات نہیں توڑنا چاہتے۔ یہ ایک مشکل موقف ہے۔

‎پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی یہ ایک چیلنجنگ صورتحال ہے۔ وہ ایران کے مسلمان بھائی ہونے کے ناطے اس کی حمایت کرنا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیل کے ساتھ براہ راست تصادم ان کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اس کے علاوہ، اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ خطے میں ایک نیا جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک بن جائے گا، جو کسی کے لیے اچھا خبر نہیں۔

‎اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کب رکے گی؟ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، ایران ان کے قریب پہنچنا چاہتا ہے، اور دوسرے ممالک بھی سوچ رہے ہیں کہ انھیں بھی یہ صلاحیت حاصل کرنی چاہیے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو پوری دنیا کو غیر محفوظ بنا دیتا ہے۔

‎انسانی حقوق کے اداروں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جوہری تنصیبات کے قریب حملے عام شہریوں کو شدید خطرے میں ڈالتے ہیں۔ اگر کوئی بڑا حادثہ پیش آیا تو اس کے اثرات صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورے خطے کو متاثر کریں گے۔ یاد رہے کہ چرنوبل اور فوکوشیما کے حادثات نے کتنی تباہی مچائی تھی۔

‎اسرائیل کے اندر بھی اس حملے پر بحث ہو رہی ہے۔ کچھ حلقے کہتے ہیں کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ایران کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ دوسرے خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ حملے اسرائیل کو مزید جارحانہ بنا دیں گے، اور ایک ایسی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس کا کوئی فاتح نہیں ہو گا۔

‎آنے والے دنوں میں صورتحال کس طرف جائے گی، یہ کہنا مشکل ہے۔ اگر اسرائیل نے ایران کے جوہری اہداف پر حملے کیے تو یہ مکمل جنگ کا آغاز ہو گا۔ اگر ایران مزید میزائل حملے کرتا ہے تو اسرائیل کے پاس جوابی کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ تیسرا، سب سے مشکل، آپشن یہ ہے کہ دونوں طرف سے محدود کارروائیاں جاری رہیں، جو خطے کو مستقل عدم استحکام میں رکھے گی۔

‎عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ امریکہ، روس، چین، اور یورپ کو مل کر دونوں فریقین پر دباؤ ڈالنا ہو گا کہ وہ جنگ کے راستے پر نہ چلیں۔ بات چیت، مذاکرات، اور سفارتی کوششیں ہی اس مسئلے کا واحد حل ہیں۔

‎آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اسرائیل کی جوہری تنصیب کے قریب یہ میزائل حملے انسانیت کے لیے ایک خطرناک انتباہ ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جوہری ہتھیار کتنی تباہی لے کر آ سکتے ہیں، اور کس طرح ایک چھوٹی سی غلطی عالمی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ دعا یہی ہے کہ عقلمندی غلبہ پائے، فریقین بات چیت کی میز پر آئیں، اور یہ خطہ جنگ کی لپیٹ سے بچ جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا