ٹرمپ کی بات چیت سے انکار کے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی نئی لہر داغ دی۔
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر آگ کے گرداب میں پھنستا نظر آ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ بات چیت کی تجویز کو ٹھکرائے جانے کے بعد، تہران نے اسرائیل پر میزائلوں کی ایک نئی اور ہولناک لہر داغ دی ہے۔ یہ حملے نہ صرف دونوں ممالک کی کشیدہ تعلقات میں ایک نیا باب ہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین خطرے کی علامت بھی ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ "بغیر کسی شرط" بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اسرائیل اور امریکی کانگریس میں انتہا پسند حلقوں کے شدید دباؤ کے بعد، ٹرمپ نے یہ تجویز واپس لے لی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پہلے "جارحیت" ختم کرے، پھر بات چیت ہو سکتی ہے۔ یہ شرط ایران کے لیے ناقابل قبول تھی، کیونکہ اس کے نزدیک اسرائیل ہی جارح ہے۔
ایران نے اس "موقع کی ناکامی" کو ایک سیاسی فتح کی طرح استعمال کیا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک تقریر میں کہا کہ "امریکہ کی دھوکے بازی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے"۔ انھوں نے عوام سے کہا کہ جوہری معاہدے کی بحالی یا بات چیت کا راستہ اب بند ہو چکا ہے، اور ایران کو اپنے دفاع کے لیے "ہر ممکنہ اقدام" اٹھانا ہو گا۔ اسی پس منظر میں میزائل حملوں کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ میزائل حملے رات کے اندھیرے میں کیے گئے، جب اسرائیل کے کئی اہم شہروں میں سائرنیں بجنے لگیں۔ تل ابیب، حیفہ، اور بیت المقدس سمیت درجنوں شہروں میں لوگوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت دی گئی۔ اسرائیلی دفاعی نظام "آئرن ڈوم" اور "ڈیوڈ سلنگ" نے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، لیکن کچھ میزائل شہری علاقوں میں گرے اور تباہی مچا دی۔
حملوں کے نتائج سنگین تھے۔ متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، گاڑیاں آگ کے گولے بن گئیں، اور ہسپتالوں میں زخمیوں کا رش لگ گیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ "اب تک کا سب سے بڑا میزائل حملہ" ہے، جس میں 200 سے زائد میزائل داغے گئے۔ اگرچہ زیادہ تر میزائل روک لیے گئے، لیکن جو گرے ان نے ہلاکتیں کیں۔
ایران کی جانب سے اس حملے کی فوری طور پر تصدیق کر دی گئی۔ انقلابی گارڈز کے ترجمان نے کہا کہ یہ "عملیات البراق" کا حصہ ہے، جو اسرائیل کے حالیہ حملوں کا جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل نے مزید "حماقت" کی تو جواب اس سے بھی سخت ہو گا۔ یہ بیان واضح طور پر ایک نئے خطرناک دور کا آغاز تھا۔
اسرائیل نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایران نے "سرخ لکیر" عبور کر دی ہے اور اس کا "بھرپور جواب" دیا جائے گا۔ اسرائیلی فضائیہ نے فوری طور پر ایران کے کئی اہداف پر حملے کیے، جن میں تہران کے مضافات میں واقع میزائل ڈپو، اصفہان کی جوہری تنصیبات، اور بندر عباس کی بحریہ شامل تھی۔ دونوں طرف سے حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ٹرمپ کی بات چیت کی تجویز کے انکار نے امریکہ کی ساکھ کو بھی داغدار کیا۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کبھی بھی سنجیدہ مذاکرات کا راستہ نہیں اپناتا، بلکہ صرف "ڈکٹیٹ" کرنا چاہتا ہے۔ یہ موقف بہت سے ممالک میں ہمدردی حاصل کر رہا ہے، خاص طور پر جو امریکی پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔
عالمی برادری کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ "یہ ایک انتہائی خطرناک لمحہ ہے" اور دونوں فریقین سے فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل کی۔ روس اور چین نے دونوں فریقین سے تحمل کی اپیل کی اور کہا کہ بات چیت کا راستہ ابھی بھی بند نہیں ہوا۔ لیکن یورپی یونین نے امریکہ کی حمایت کرتے ہوئے ایران کی "جارحیت" کی مذمت کی۔
اس واقعے کے بعد تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھا گیا۔ عالمی منڈیوں میں خدشات پیدا ہوئے کہ اگر جنگ شروع ہوئی تو ہرمز تنگہ بند ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں میں ہلچل مچ گئی، اور سونے کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ عالمی منڈیاں پہلے ہی کورونا کے بعد بحالی کی کوشش کر رہی تھیں، اور یہ کشیدگی ان کوششوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔
اسرائیل کے اندر بھی اس حملے پر بحث ہو رہی ہے۔ کچھ حلقے کہتے ہیں کہ ٹرمپ کی بات چیت کی تجویز کو ٹھکرانا غلط تھا، کیونکہ اس نے ایران کو حملے کا جواز فراہم کیا۔ دوسرے خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کو "کمزور" دکھانا اسرائیل کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ یہ اسے مزید جارحانہ بنا دے گا۔ لیکن انتہا پسند حلقے غالب نظر آ رہے ہیں، جو جنگ کو نعمت سمجھتے ہیں۔
ایران کے اندر بھی یہ حملہ ایک قومی فتح کی طرح لیا جا رہا ہے۔ میڈیا میں شہداء کی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں، اور عوام میں جذبہ بھڑکایا جا رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کیا ایران اس کشیدگی کو برداشت کر سکتا ہے؟ معاشی پابندیاں پہلے ہی اس کی کمر توڑ چکی ہیں، اور جنگ مزید تباہی لے کر آ سکتی ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے؟ ٹرمپ کی "امریکہ اول" کی پالیسی کا مطلب ہے کہ وہ یہاں کم فوجی مداخلت چاہتے ہیں، لیکن اسرائیل کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ یہ ایک مشکل توازن ہے جو کسی بھی وقت بگڑ سکتا ہے۔
خلیج فارس کے عرب ممالک بھی پریشان ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور قطر جانتے ہیں کہ اگر ایران اور اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کشیدگی کم ہو، لیکن ان کا اثر محدود ہے۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کے اتحادی ہیں، لیکن ایران کے پڑوسی بھی۔
پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی یہ ایک چیلنجنگ صورتحال ہے۔ وہ ایران کے مسلمان بھائی ہونے کے ناطے اس کی حمایت کرنا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیل کے ساتھ براہ راست تصادم ان کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اس کے علاوہ، اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ خطے میں ایک نیا جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک بن جائے گا۔
آنے والے دنوں میں صورتحال کس طرف جائے گی، یہ کہنا مشکل ہے۔ اگر اسرائیل نے ایران کے جوہری اہداف پر حملے کیے تو یہ مکمل جنگ کا آغاز ہو گا۔ اگر ایران مزید میزائل حملے کرتا ہے تو اسرائیل کے پاس جوابی کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ تیسرا آپشن یہ ہے کہ دونوں طرف سے محدود کارروائیاں جاری رہیں، جو خطے کو مستقل عدم استحکام میں رکھے گی۔
عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ امریکہ، روس، چین، اور یورپ کو مل کر دونوں فریقین پر دباؤ ڈالنا ہو گا کہ وہ جنگ کے راستے پر نہ چلیں۔ بات چیت، مذاکرات، اور سفارتی کوششیں ہی اس مسئلے کا واحد حل ہیں۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ٹرمپ کی بات چیت کی تجویز کے انکار کے بعد یہ میزائل حملے انسانیت کے لیے ایک خطرناک انتباہ ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سیاست کی ناکامیوں کی قیمت عام شہریوں کی جانوں سے چکائی جاتی ہے۔ دعا یہی ہے کہ عقلمندی غلبہ پائے، فریقین بات چیت کی میز پر آئیں، اور یہ خطہ جنگ کی لپیٹ سے بچ جائے۔

Comments