خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ ٹرمپ ایران جنگ کا خاتمہ کریں
مشرق وسطیٰ کے خلیجی ممالک نے ایک آواز ہو کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو فوری طور پر ختم کریں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، اور عمان سمیت تمام خلیجی ریاستوں کا یہ موقف ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ضروری ہے۔
یہ اپیل اس وقت سامنے آئی جب ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل حملوں کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ خلیجی ممالک پہلے ہی معاشی بحران، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اور علاقائی عدم استحکام سے تنگ آ چکے ہیں۔ انھیں اندیشہ ہے کہ اگر یہ جنگ مزید طول پکڑی تو ان کی معیشتیں تباہ ہو جائیں گی، ان کے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی، اور خطے میں ایک نئی پناہ گزینوں کی لہر اٹھے گی۔
سعودی عرب نے سب سے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے براہ راست رابطہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اس جنگ کا خاتمہ آپ کے ہاتھ میں ہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اسرائیل کا اتحادی ہے، اور اگر واشنگٹن چاہے تو تل ابیب کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب خود ایران سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کر رہا ہے، اور اس جنگ نے ان کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ دبئی اور ابوظہبی عالمی تجارت اور سیاحت کے مراکز ہیں، اور وہاں کے حکام جانتے ہیں کہ جنگ کی صورت میں یہ سب کچھ خطرے میں پڑ جائے گا۔ امارات نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل پر اقتصادی دباؤ ڈالے تاکہ وہ جنگ بندی پر رضامند ہو۔ ساتھ ہی امارات نے ایران سے بھی خفیہ پیغامات کے ذریعے کہا ہے کہ وہ اپنے حملے کم کرے۔
قطر کی پوزیشن بھی اہم ہے۔ قطر امریکہ کا اہم اتحادی ہے، جہاں بڑی امریکی فوجی تنصیب ہے۔ لیکن قطر ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھتا ہے، خاص طور پر مشترکہ گیس کے میدان کے حوالے سے۔ قطر کے امیر نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ "ہم سبھی اس جنگ میں ہارنے والے ہیں"، اور فوری بات چیت کی ضرورت ہے۔
کویت اور عمان، جو ہمیشہ سے مشرق وسطیٰ میں ثالثی کا کردار ادا کرتے آئے ہیں، نے بھی اپیل کی ہے۔ کویت کے امیر نے کہا ہے کہ "خلیج فارس تباہی کے دہانے پر ہے"، اور عمان کے سلطان نے "فوری جنگ بندی" کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں ممالک جانتے ہیں کہ اگر جنگ شروع ہوئی تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔
خلیجی ممالک کا یہ موقف ان کی اپنی کمزوریوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ان کی معیشتیں تیل پر انحصار کرتی ہیں، اور تیل کی قیمتوں میں ہر اتار چڑھاؤ ان کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ جنگ کی صورت میں ہرمز تنگہ بند ہو سکتا ہے، جس سے دنیا کی ایک تہائی تیل کی سپلائی متاثر ہو گی۔ اس کے علاوہ، خلیجی ممالک کی فوجی صلاحیتیں محدود ہیں، اور وہ ایران یا اسرائیل کسی سے بھی براہ راست تصادم نہیں چاہتے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے اب ایک مشکل چوائس ہے۔ ایک طرف اسرائیل اس کا قریبی اتحادی ہے، اور امریکی اندرونی سیاست میں اسرائیل کی حمایت ایک اہم معاملہ ہے۔ دوسری طرف، خلیجی ممالک بھی امریکہ کے اہم شراکت دار ہیں، جو تیل کی فراہمی اور علاقائی استحکام میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ٹرمپ خلیجی ممالک کی بات نہیں سنتے تو ان کے اقتصادی مفادات متاثر ہوں گے۔
خلیجی ممالک نے ایک مشترکہ لائحہ عمل بھی پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران پر پابندیاں کم کرے، اسرائیل کو مذاکرات کی دعوت دے، اور دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے۔ یہ منصوبہ یورپی یونین کی حمایت یافتہ ہے، جو بھی اس جنگ کے خاتمے چاہتی ہے۔
ایران نے خلیجی ممالک کی اس اپیل کا خیر مقدم کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی مذاکرات کے حق میں تھا، لیکن اسرائیل اور امریکہ کی "جارحیت" نے اسے مجبور کیا۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر خلیجی ممالک سنجیدہ ہیں تو وہ امریکہ پر اصل دباؤ ڈالیں۔
اسرائیل کا موقف ابھی تک واضح نہیں۔ تل ابیب چاہتا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو، اور وہ اس کے لیے جنگ کو جاری رکھنے کے حق میں نظر آ رہا ہے۔ لیکن اسرائیل بھی جانتا ہے کہ طویل جنگ اس کے لیے بھی نقصان دہ ہو گی، خاص طور پر جب ایران کے پاس ہزاروں میزائل ہوں۔
عالمی برادری کی جانب سے بھی خلیجی ممالک کی اس اپیل کی حمایت کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ، چین، روس، اور یورپی یونین سب نے کہا ہے کہ جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔ لیکن ان سب کی نظریں امریکہ پر ہیں، کیونکہ بغیر امریکی کردار کے یہ جنگ نہیں رک سکتی۔
آنے والے دنوں میں صورتحال کس طرف جائے گی، یہ ٹرمپ کے فیصلے پر منحصر ہے۔ اگر وہ خلیجی ممالک کی بات مانتے ہیں تو مذاکرات کا راستہ نکل سکتا ہے۔ اگر وہ اسرائیل کی حمایت جاری رکھتے ہیں تو جنگ مزید بڑھ سکتی ہے۔ تیسرا آپشن یہ ہے کہ وہ کوئی فیصلہ نہ کریں، جو خود ایک فیصلہ ہو گا۔
خلیجی ممالک کی یہ اپیل انسانیت کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس خطے میں بھی لوگ امن چاہتے ہیں، جنگ نہیں۔ دعا یہی ہے کہ ٹرمپ ان کی بات سنے، عقلمندی کا مظاہرہ کرے، اور اس جنگ کا خاتمہ کرے۔

Comments