ٹرمپ کا ایران معاہدہ: امید کی کرن یا ایک اور ڈھونگ؟



 پاکستان کی سفارتی کوششوں کا کردار

‎واشنگٹن سے تازہ خبر — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک "بہت اہم" معاہدہ ہونے کا "کافی یقین" ہے۔ لیکن اس بیان کے پیچھے کیا حقیقت ہے؟ اور کیا پاکستان جیسے ممالک اس تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں؟

‎ٹرمپ کا یقین — حقیقت یا سیاست؟

‎ٹرمپ کا یہ بیان ان کی معروف "ڈیل میکر" شبیہ کو برقرار رکھنے کی ایک اور کوشش نظر آتی ہے۔ وہ ہمیشہ سے بڑے، تاریخی معاہدوں کا دعویٰ کرتے رہے ہیں — کبھی شمالی کوریا، کبھی افغانستان، اور اب ایران۔ لیکن ان کے دعووں اور حقیقت کے درمیان اکثر و بیشت ایک بڑا خلا رہتا ہے۔

‎یاد رہے کہ 2018 میں ٹرمپ خود ہی ایران جوہری معاہدے (JCPOA) سے نکلنے کا اعلان کرنے والے تھے۔ اب اچانک وہی معاہدہ — یا اس سے بھی کمتر شرائط پر — ایک "فتح" کے طور پر پیش کرنے کی تیاری میں ہیں۔ یہ سیاسی چال ہے یا حقیقی سفارتی پیش رفت؟ ماہرین کے مطابق، سچائی شاید درمیان میں کہیں ہے۔

‎ایران کی cautiously optimistic کا رویہ

‎تہران کی طرف سے ابھی تک محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ "مشروط مذاکرات" کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ شرط ہے کہ امریکہ پہلے اپنی "عدم تعاون" کی پالیسی ختم کرے۔ یہ ایک ایسی پیش کش ہے جو ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر مشکل ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کے قدامت پسند حامی ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے سخت مخالف ہیں۔

‎پاکستان — ایک اہم لیکن نظر انداز کردار

‎اب آتے ہیں پاکستان کی طرف۔ جغرافیائی لحاظ سے ایران کے ہمسایہ ہونے کے ناطے، اور امریکہ کے ساتھ تاریخی تعلقات رکھتے ہوئے، پاکستان ایک ایسی پوزیشن میں ہے جو شاید کسی اور ملک میں نہیں۔ لیکن کیا اسلام آباد واقعی اس بحران کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے؟

‎پاکستان کی طاقتیں

‎- جغرافیائی اہمیت: ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر طویل سرحد، مشترکہ ثقافتی اور مذہبی روابط

‎- **سفارتی تجربہ:** افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں کردار

‎- **توانائی کی ضرورت:** ایران سے گیس پائپ لائن منصوبے (IP پائپ لائن) کے لیے امریکی پابندیوں میں نرمی ضروری

‎لیکن حقیقی رکاوٹیں بھی ہیں

‎- پاکستان کی اپنی معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام

‎- سعودی عرب اور امارات کے ساتھ تعلقات — جو ایران کے سخت مخالف ہیں

‎- امریکہ کی طرف سے "دوہرے معیارات" کی پالیسی

‎خطے کے دیگر کھلاڑی

‎ٹرمپ کے بیان کے بعد خطے کی دوسری طاقتیں بھی سرگرم نظر آ رہی ہیں۔ قطر اور سلطنت عمان — جو ہمیشہ سے ایران اور مغرب کے درمیان "خفیہ چینل" کا کردار ادا کرتے رہے ہیں — اب ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے حالیہ دورے میں واشنگٹن اور تہران دونوں سے رابطے کیے ہیں۔

‎عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کا کردار بھی قابل ذکر ہے۔ ان کے ملک نے 2013 میں امریکہ اور ایران کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جو JCPOA کی بنیاد بنے۔ کیا تاریخ دہرائی جا سکتی ہے؟

‎ایک عام پاکستانی کا نقطہ نظر

‎لاہور کے ایک یونیورسٹی پروفیسر، ڈاکٹر طارق محمود، کا کہنا ہے: "ہمیں امریکہ یا ایران کے ساتھ کسی بھی جنگ میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ہمارا پہلا فرض اپنے عوام کی بھلائی ہے۔ اگر ہمارا کردار امن لانے میں مدد دے سکتا ہے، تو ہمیں ضرور آگے آنا چاہیے۔ لیکن اگر ہم صرف ایک 'پوسٹ مین' بننے جا رہے ہیں، تو شاید یہ ہمارے قومی مفاد میں نہ ہو۔"

‎کراچی کے ایک تاجر، احمد حسن، کا نقطہ نظر مختلف ہے: "ایران سے ہمارا تجارت کا بڑا potential ہے۔ اگر ٹرمپ کا معاہدہ ہوتا ہے، تو شاید ہمیں IP گیس پائپ لائن مل سکتی ہے۔ یہ ہمارے بجلی کے بحران کا حل ہو سکتا ہے۔"

‎کیا واقعی جنگ ٹل سکتی ہے؟

‎ماہرین کا خیال ہے کہ مکمل جنگ کے امکانات کم ہیں، لیکن محدود فوجی تصادم کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ اسرائیل کی طرف سے مسلسل دباؤ، اور ایران کی طرف سے جوہری پروگرام میں تیزی، دونوں طرف سے "red lines" کو خطرہ ہے۔

‎اگر پاکستان اور دیگر علاقائی طاقتیں متحد ہو کر ایک "ایشیائی سلامتی ڈائیلاگ" کا قیام عمل میں لائیں، تو شاید یہ خطہ مستقل امن کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے اعتماد سازی کی ضرورت ہے — اور موجودہ حالات میں، اعتماد ایک ایسی چیز ہے جو سب سے کم موجود ہے۔

‎نتیجہ

‎ٹرمپ کا "کافی یقین" شاید ایک اور ٹویٹ کی طرح فضا میں تحلیل ہو جائے، یا شاید یہ تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو۔ لیکن ایک بات واضح ہے: پاکستان اور اس کے ہمسایوں کے لیے، جنگ کبھی بھی حل نہیں ہو سکتی۔ سفارتی کوششیں، چاہے وہ کسی بھی ملک کی قیادت میں ہوں، ہی واحد راستہ ہیں۔

‎لیکن کیا ٹرمپ واقعی امن چاہتے ہیں، یا صرف ایک اور "فتح" کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں؟ یہ سوال ابھی تک بغیر جواب ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا