ٹرمپ نے برطانیہ اور دیگر ممالک سے کہا کہ آبنائے ہرمز سے 'اپنا تیل خود لے لو'



 امریکی صدر Donald Trump کا حالیہ بیان کہ برطانیہ اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز سے "اپنا تیل خود لے لیں"، عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے۔ یہ جملہ بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر چھپی ہوئی حکمتِ عملی، طاقت کی سیاست، اور عالمی ذمہ داریوں سے متعلق کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ خصوصاً جب بات Strait of Hormuz جیسے حساس اور اہم تجارتی راستے کی ہو، تو اس قسم کے بیانات محض الفاظ نہیں بلکہ پالیسی کے اشارے ہوتے ہیں۔

‎آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ اگر اس راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو نہ صرف تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے میں امریکہ جیسے طاقتور ملک کا یہ کہنا کہ دوسرے ممالک خود اپنے مفادات کا تحفظ کریں، ایک بڑی پالیسی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

‎ٹرمپ کا یہ بیان دراصل امریکہ کی "امریکہ فرسٹ" پالیسی کا تسلسل ہے، جس میں وہ بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ اب دنیا کا "پولیس مین" نہیں بننا چاہتا۔ ان کے مطابق ہر ملک کو اپنی سلامتی اور مفادات کا خود دفاع کرنا چاہیے۔ خاص طور پر United Kingdom اور یورپی ممالک جیسے امریکہ کے اتحادیوں کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اب امریکہ پر مکمل انحصار نہ کریں۔

‎یہ سوچ بظاہر خودمختاری کو فروغ دینے والی لگتی ہے، مگر اس کے نتائج پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ عالمی نظام کئی دہائیوں سے ایک خاص توازن پر قائم ہے، جہاں امریکہ ایک مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اگر امریکہ اس کردار سے پیچھے ہٹتا ہے، تو اس خلا کو کون پُر کرے گا؟ کیا یورپی ممالک اس قابل ہیں کہ وہ خود اپنی بحری طاقت کو اس حد تک بڑھا سکیں کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقے میں اپنی موجودگی یقینی بنا سکیں؟

‎مزید برآں، اس بیان کا ایک اور پہلو بھی ہے، جو عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ جب ایک بڑا اتحادی اس طرح کا مؤقف اختیار کرتا ہے، تو اس سے نہ صرف اتحادی ممالک میں بے چینی پیدا ہوتی ہے بلکہ مخالف طاقتوں کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھائیں۔ ایران جیسے ممالک، جو پہلے ہی آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں، اس طرح کے بیانات کو اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔

‎یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ چین، روس اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں اپنی موجودگی کو بڑھا رہی ہیں۔ ایسے میں اگر امریکہ اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹتا ہے، تو یہ نئی طاقتیں اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کریں گی، جس سے عالمی نظام مزید غیر یقینی کا شکار ہو سکتا ہے۔

‎ان حالات میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان اگرچہ براہ راست آبنائے ہرمز کا حصہ نہیں، مگر اس کی معیشت اور توانائی کی ضروریات اس خطے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر وہاں کشیدگی بڑھتی ہے یا ترسیل میں رکاوٹ آتی ہے، تو اس کے اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ لہٰذا ایسے بیانات اور پالیسیاں نہ صرف بڑی طاقتوں بلکہ چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی اہم ہیں۔

‎ٹرمپ کے بیان کو ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو یہ ایک طرح کی "ذمہ داری کی منتقلی" بھی ہے۔ امریکہ اب یہ چاہتا ہے کہ دیگر ممالک اپنی سلامتی کے اخراجات خود برداشت کریں اور عالمی نظام میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔ یہ سوچ بظاہر منطقی لگتی ہے، مگر عملی طور پر اس کے لیے وقت، وسائل اور سیاسی عزم درکار ہوتا ہے، جو ہر ملک کے پاس نہیں ہوتا۔

‎یہ بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی تجارت اور توانائی کے راستے کسی ایک ملک کے نہیں بلکہ پوری دنیا کے مشترکہ مفاد کا حصہ ہیں۔ اگر ہر ملک صرف اپنے مفاد کو دیکھے اور اجتماعی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ جائے، تو عالمی نظام انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بڑے ممالک اپنے بیانات اور پالیسیوں میں توازن برقرار رکھیں۔

‎آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک ممکنہ تبدیلی کا اشارہ ہے۔ یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مستقبل میں عالمی نظام کیسا ہوگا؟ کیا دنیا ایک کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ہر ملک اپنی ذمہ داری خود اٹھائے گا، یا پھر کسی نئی قیادت کا ظہور ہوگا جو اس خلا کو پُر کرے گی؟

‎جو بھی ہو، ایک بات واضح ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم علاقوں میں استحکام اور تعاون ہی عالمی امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اگر دنیا کے ممالک اس حقیقت کو سمجھ لیں اور مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، تو نہ صرف کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ ایک مستحکم عالمی نظام کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا