USE ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بین الاقوامی فورس پر زور دیتا ہے۔USE ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بین الاقوامی فورس پر زور دیتا ہے۔
ہرمز کی بندش: USE کی فکر اور دنیا کی ذمہ داری
خلیج میں کشیدگی، عالمی منڈی میں کھلبلی
گذشتہ چند ہفتوں سے خلیج فارس میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی بھی باشعور انسان کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ ایران کی جانب سے ہرمز آبنائے بند کرنے کی دھمکیاں، اور اب متحدہ عرب امارات (USE) کا اس پر سخت ردعمل — یہ سب کچھ ایک ایسی لہر کی مانند ہے جو ساحل سے ٹکرانے والی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ یہ معاملہ اب صرف علاقائی نہیں رہا، بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اور ان کی یہ بات محض ایک سفارتی بیان نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جو ہماری روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔
کیوں یہ ہم سب کا مسئلہ ہے؟
ذرا سوچیے — جب آپ صبح گاڑی میں بیٹھتے ہیں، جب آپ کے گھر میں بجلی جلتی ہے، جب فیکٹریوں میں مشینیں چلتی ہیں — ان سب کے پیچھے تیل ہے۔ اور اس تیل کا ایک بڑا حصہ ہرمز آبنائے سے گزر کر آتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو کیا ہوگا؟
پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔ بجلی کے بل بڑھ جائیں گے۔ ہر چیز کی قیمت بڑھ جائے گی کیونکہ транспорт مہنگا ہو جائے گا۔ یہ صرف ایک جغرافیائی تنگی نہیں، بلکہ ہمارے جیبوں کا معاملہ ہے۔
USE نے کیا کہا؟
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اب بین الاقوامی برادری کو سامنے آنا ہوگا۔ وہ اکیلے اس کشیدگی کا حل نہیں نکال سکتے۔ ان کا پیغام سادہ ہے: "یہ ہم سب کا مسئلہ ہے، تو حل بھی مل کر نکالنا ہوگا۔"
ان کی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے جو بات کہی، وہ دل کو لگتی ہے: "ہرمز آبنائے کوئی کسی کی جاگیر نہیں۔ یہ بین الاقوامی پانی ہے، اور یہاں سے ہر ملک کو آزادانہ آمد و رفت کا حق حاصل ہے۔ کسی ایک ملک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ پوری دنیا کو یرغمال بنا لے۔"
یہ باتیں سننے میں آسان لگتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے ایک گہری فکر ہے — فکر اپنے مستقبل کی، اپنے شہریوں کی، اور اس خطے میں امن و سکون کی۔
اب کیا ہونا چاہیے؟
USE نے دراصل ایک راستہ دکھایا ہے، لیکن اس پر چلنا پوری دنیا کا کام ہے:
اقوام متحدہ کو آگے آنا ہوگا
اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ صرف بیانات جاری کرنے تک محدود نہ رہے۔ سلامتی کونسل کو فوری اجلاس بلانا چاہیے اور ایک ایسی قرارداد منظور کرنی چاہیے جو واضح پیغام دے: عالمی تجارت کے راستے بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خلیج کے ممالک ایک ہو جائیں
متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین، عمان — یہ سب ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں، لیکن کئی معاملات میں ایک دوسرے سے اتنے دور۔ اس موقع پر ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔ مشترکہ دشمن نہیں، مشترکہ مفادات کی بات کرنی ہوگی۔
بڑی طاقتوں کا کردار
امریکہ، چین، روس، یورپی ممالک — ان سب کی نظریں اس خطے پر ہیں۔ لیکن صرف دیکھنا کافی نہیں۔ ان کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ سفارتی دباؤ ڈالنا ہوگا، مذاکرات کا راستہ نکالنا ہوگا، اور اگر ضرورت پڑے تو اور بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔
اگر ایسا نہ ہوا تو؟
تصور کیجئے — کل صبح اٹھتے ہیں اور خبر آتی ہے کہ ہرمز آبنائے بند ہو گیا۔ کیا ہوگا؟
پہلے تو تیل کی قیمتوں میں ہلچل مچ جائے گی۔ عالمی منڈی میں ہر چیز کی قیمتیں اوپر چڑھ جائیں گی۔ ممالک جو تیل درآمد کرتے ہیں، ان کے ذخیرے تیزی سے ختم ہونے لگیں گے۔ صنعتیں متاثر ہوں گی، ٹرانسپورٹ مہنگا ہو جائے گا، عام آدمی کی زندگی مشکل ہو جائے گی۔
یہ کوئی خیالی منظر نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جو تاریخ میں کئی بار دہرائی جا چکی ہے۔ 1973 کے تیل بحران کا ذکر ہی کافی ہے جب دنیا نے دیکھا کہ تیل کے راستے بند ہونے سے کیا ہوتا ہے۔
USE کی تیاری
متحدہ عرب امارات صرف بیانات ہی نہیں دے رہا، بلکہ عملی اقدامات بھی کر رہا ہے۔ وہ متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ مل کر پائپ لائنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ دفاعی تیاریوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
لیکن وہ جانتے ہیں کہ اکیلے کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے وہ دنیا کو آواز دے رہے ہیں۔
ایک عام شہری کی نظر سے
جب ہم یہ سب پڑھتے ہیں، تو لگتا ہے کہ یہ بڑے بڑے لوگوں کے معاملات ہیں، سیاستدانوں کے، جنرلوں کے، سفارتکاروں کے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا اثر سب سے پہلے عام آدمی پر پڑتا ہے۔
جب پٹرول مہنگا ہوگا، تو آپ کی گاڑی چلانا مشکل ہو جائے گا۔ جب بجلی مہنگی ہوگی، تو آپ کا گھر روشن رکھنا دشوار ہو جائے گا۔ جب اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی، تو آپ کا گھر چلانا مشکل ہو جائے گا۔
اس لیے یہ ہمارا بھی مسئلہ ہے۔ ہمیں بھی اس بارے میں سوچنا چاہیے، آواز اٹھانی چاہیے، اور اپنی حکومتوں سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اس معاملے میں فعال کردار ادا کریں۔
آگے کا راستہ
متحدہ عرب امارات نے درست کہا ہے — اب بین الاقوامی برادری کو آگے آنا ہوگا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ ایران کی مخالفت میں جا کر معاملے کو مزید پیچیدہ نہ بنایا جائے۔
مذاکرات کا راستہ ہمیشہ کھلا رکھنا چاہیے۔ دھمکیاں اور جارحیت کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ہرمز آبنائے کو کھلا رکھنے کے لیے جو بھی اقدامات ہوں، وہ امن اور بات چیت کے ذریعے ہونے چاہئیں۔
خاتمہ
ہرمز آبنائے کی آزادی صرف ایک جغرافیائی حق نہیں، بلکہ یہ ہماری معاشی آزادی، ہمارے مستقبل کی سلامتی، اور ہماری اگلی نسلوں کے حقوق کا معاملہ ہے۔
متحدہ عرب امارات نے جو آواز اٹھائی ہے، وہ دراصل ہم سب کی آواز ہے۔ اب دیکنا یہ ہے کہ دنیا اس آواز کو سنتا ہے یا پھر انتظار کرتا ہے کہ کچھ ٹوٹ پھوٹ جائے، پھر ہوش آئے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جو ممالک مشکل وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہی آگے بڑھتے ہیں۔ USE نے اپنا کام کیا ہے۔ اب باری بین الاقوامی برادری کی ہے۔
%20(1).jpg)
Comments