ٹرمپ کی آخری ڈیڈ لائن — ثالثوں کی جانب سے 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز
2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر آخری ڈیڈ لائن دی ہے، جس میں انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر منگل کی شام 8 بجے تک معاہدہ نہ ہوا تو "وہاں سب کچھ اڑا دیں گے" ۔ یہ ڈیڈ لائن اصل میں پیر کی شام ختم ہونے والی تھی، لیکن ٹرمپ نے اس میں 20 گھنٹے کی توسیع کر دی ہے۔
اس پس منظر میں، علاقائی ثالثوں نے آخری کوشش کے طور پر 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ پاکستانی، مصری اور ترک ثالثوں کے ذریعے یہ تجویز دونوں فریقین تک پہنچائی گئی ہے ۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 45 روز کی جنگ بندی ہوگی، جس کے دوران دونوں فریقین مستقل امن معاہدے پر بات چیت کریں گے۔
ٹرمپ نے ایکسائوس نیوز کو بتایا کہ امریکا ایران کے ساتھ "گہری مذاکرات" میں ہے اور منگل کی ڈیڈ لائن سے پہلے معاہدہ ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو وہاں کے پاور پلانٹس اور پل تباہ کر دیے جائیں گے۔ یہ دھمکیاں ایرانی شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرائم تصور ہو سکتی ہیں ۔
ثالثوں کی کوششوں کا مقصد اس جنگ کو مزید وسعت دینے سے روکنا ہے، کیونکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا ایران کے توانائی کے مراکز پر حملے کا آپریشنل پلان تیار ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو ایران نے خلیجی ممالک کے تیل اور پانی کے اداروں پر جوابی حملے کی دھمکی دی ہے، جس سے پورے خطے میں تباہی مچ سکتی ہے۔
ایران کی جانب سے ابھی تک سخت موقف اپنایا جا رہا ہے۔ ایرانی انقلابی گارڈز کے بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ ہرمز آبنائے کی صورت حال "کبھی بھی پہلی جیسی نہیں ہوگی" ۔ تاہم، ثالثوں نے ایرانی عہدیداروں کو بتایا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹے معاہدے کا آخری موقع ہیں۔
جنگ کے 38ویں روز، پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک فوری جنگ بندی کا فریم ورک پیش کیا ہے ۔ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل آصف منیر پوری رات نائب صدر جے ڈی ونس، امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے۔
اس تجویز کے تحت فوری جنگ بندی نافذ ہوگی اور ہرمز آبنائے دوبارہ کھول دی جائے گی ۔ اس کے بعد 15 سے 20 دن کی مہلت میں دونوں فریقین مستقل جنگ ختم کرنے کا معاہدہ طے کریں گے۔ حتمی معاہدے میں ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری ترک کرنے کی یقین دہانی کے بدلے میں امریکی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کی توقع ہے۔
ایران نے اس تجویز پر ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، لیکن وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مذاکرات "الٹی میٹم، جرائم یا جنگی جرائم کی دھمکیوں" کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی "جائز اور معقول" مطالبات تیار کر لیے ہیں۔
قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی نے پیر کو مذاکرات کی بحث کی اپیل کی، جبکہ عمان نے ایرانی سفارت کاروں سے ہرمز آبنائے کھولنے کے متعدد آپشنز پر بات چیت کی ۔
ٹرمپ نے ایسٹر کے موقع پر ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا: "پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے، دونوں ایک ساتھ ایران میں" ۔ انہوں نے ہرمز آبنائے کھولنے کے لیے ایران کو "پاگل کتے" کہہ کر مخاطب کیا۔ اس کے باوجود، وہ فاکس نیوز کو امید ظاہر کر چکے ہیں کہ معاہدہ ممکن ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر شہری انفراسٹرکچر پر حملے ہوئے تو "زیادہ تباہ کن اور وسیع" جوابی کارروائی ہوگی ۔ خطے میں اب تک 3,400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایران میں 1,900، لبنان میں 1,400 اور اسرائیل میں 23 افراد شامل ہیں ۔

Comments