چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے پاکستان کی فعال سفارتی کوششوں کو سراہا۔
چین کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف: ایک نیا سفارتی باب
پہلا انداز: تجزیاتی اور سیاسی
مشرق وسطیٰ کے خطے میں جاری کشیدگی اور امریکہ-ایران تنازع کے پس منظر میں چین اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں نے علاقائی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ 31 مارچ 2026 کو بیجنگ میں ہونے والی چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے درمیان ملاقات نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان گہری سفارتی ہم آہنگی کو ظاہر کیا، بلکہ یہ بھی پیغام دیا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے ۔
پاکستان کی فعال سفارتی کردار ادا کرنا
حالیہ ہفتوں میں پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے بحران کے حوالے سے ایک غیر معمولی فعال سفارتی پالیسی اختیار کی ہے۔ 31 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی چار ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات (کوآڈریلٹرل میٹنگ) اس کی تازہ ترین مثال ہے جس میں ترکی، سعودی عرب، ایران اور پاکستان نے شرکت کی۔ اس کے فوری بعد وزیر خارجہ اسحاق ڈار بیجنگ کے لیے روانہ ہوئے جہاں انہوں نے چینی ہم منصب وانگ یی سے تفصیلی مذاکرات کیے ۔
وانگ یی نے اس موقع پر پاکستانی کوششوں کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے "فوری جنگ بندی، امن مذاکرات، غیر فوجی اہداف کی حفاظت، بحری سلامتی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی" کے لیے جو پانچ نکاتی تجویز پیش کی ہے، وہ نہ صرف عملی ہے بلکہ خطے کی تمام فریقین کے مفادات کا بھی خیال رکھتی ہے ۔
چین کی حمایت کی اہمیت
چین کی طرف سے پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کی سراہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بیجنگ اسلام آباد کو مشرق وسطیٰ میں ایک موثر ثالث (میڈی ایٹر) کے طور پر دیکھتا ہے۔ وانگ یی نے واضح طور پر کہا کہ "چین پاکستان کی کوششوں کی تعریف کرتا ہے جو صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں" اور چین "پاکستان کو ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کی حمایت کرتا ہے" ۔
یہ حمایت کسی معمولی سفارتی بیان سے کہیں زیادہ ہے۔ چین کی عالمی اقتصادی طاقت اور اقوام متحدہ میں اس کے اثر و رسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے، بیجنگ کی طرف سے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی تائید ان کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر باضابطہ تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
پانچ نکاتی امن منصوبہ
دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر "خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی تجاویز" پیش کی ہیں:
1. فوری جنگ بندی: تمام فریقین کو فوری طور پر ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دینا
2. امن مذاکرات: جلد از جلد مذاکرات کا آغاز کرنا
3. غیر فوجی اہداف کی حفاظت: شہری آبادی اور انفرااسٹرکچر کو محفوظ رکھنا
4. بحری سلامتی: خلیج میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا
5. اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی بین الاقوامی قوانین کا احترام
اقتصادی اور سیاسی مفادات
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا براہ راست اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے۔ ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اور ممکنہ مہاجرین کی آمد جیسے عوامل پاکستان کی قومی سلامتی اور معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح چین کے لیے بھی خلیج میں تیل کی ترسیل اور ہرموز آبنائے کی سلامت اہم ہے، کیونکہ چین دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ہے۔
مستقبل کے امکانات
چین اور پاکستان کے اس مشترکہ اقدام نے ثابت کیا ہے کہ "آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ" صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ عملی سفارت کاری کا حصہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس سطح کی ہم آہنگی نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے امید کی کرن ہے، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک بھی عالمی امن و سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایک دوست کی داد
جب 31 مارچ 2026 کی صبح بیجنگ میں سرد ہوا چل رہی تھی، چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ایک ایسے دوست کا استقبال کیا جو ساری رات سفر کر کے آیا تھا۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اسلام آباد میں چار ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ ختم کرنے کے فوراً بعد بیجنگ پہنچے تھے۔ ان کے چہرے پر تھکن کے نشانات تھے، لیکن آنکھوں میں ایک عزم تھا ۔
وانگ یی نے جب ڈار کو دیکھا تو پہلے جملے میں کہا: "آپ نے اسلام آباد میں چار ممالک کی میٹنگ کے فوراً بعد یہاں آنے کی زحمت کی، ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔" یہ جملے صرف سفارتی عبارت نہیں تھے، بلکہ ایک دوست کی دوسرے دوست کی کاوشوں کی تسلیم کرنے کی زبان تھی ۔
سرحد پار کی فکر
یہ کہانی دراصل کچھ ہفتے پہلے شروع ہوئی تھی۔ جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو پاکستان کے اندر ایک خاموش فکر پیدا ہو گئی۔ ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر کی سرحد، مشترکہ ثقافتی رشتوں، اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ہر پاکستانی کو متاثر کیا ۔
لیکن اس فکر نے ایک مثبت شکل اختیار کی۔ پاکستان کے سفارت کاروں نے سوچا: کیوں نہ ہم اس بحران کو ایک موقع میں بدل دیں؟ کیوں نہ ہم ثالث بن کر دکھائیں کہ ہم صرف دیکھنے والے نہیں، بلکہ حل کرنے والے بھی ہیں؟
فون کال جو دل جیت گئی
27 مارچ 2026 کی شام وانگ یی کے دفتر میں ایک فون آیا۔ دوسری طرف اسحاق ڈار تھے۔ انہوں نے ایران کی تازہ ترین صورتحال بتائی اور کہا: "یہ جنگ بند ہونی چاہیے، اور ہم اس کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔" وانگ یی نے جواب دیا: "چین اور پاکستان ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے والے اسٹریٹجک پارٹنر ہیں۔ ہم آپ کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہیں" ۔
یہ فون کال صرف سفارتی روابط نہیں تھی، بلکہ دو ممالک کے درمیان اعتماد کا اظہار تھا۔ وانگ یی نے یہ بھی کہا: "ہم چاہتے ہیں کہ آپ ثالث کا کردار ادا کرتے رہیں، اور ہم اس میں آپ کے ساتھ ہیں" ۔
پانچ وعدے امن کے
31 مارچ کو بیجنگ میں، دونوں وزرائے خارجہ نے ایک میز پر بیٹھ کر پانچ وعدے کیے۔ یہ وعدے نہ صرف لفظوں میں تھے، بلکہ ایک مشترکہ وژن میں:
پہلا وعدہ: جنگ ابھی، اسی وقت بند ہو۔ دوسرا وعدہ: بات چیت شروع ہو۔ تیسرا وعدہ: اسکول، اسپتال اور گھر محفوظ رہیں۔ چوتھا وعدہ: سمندر میں جہاز آزادانہ چلیں۔ پانچواں وعدہ: عالمی قوانین کا احترام ہو ۔
یہ پانچ وعدے ایک دستاویز میں لکھے گئے، جس پر دونوں ممالک کے مہر لگے۔ لیکن اس سے زیادہ اہم یہ تھا کہ یہ وعدے دو ممالک کے دلوں میں اتر گئے۔
ایک امید کی کرن
اسحاق ڈار نے وانگ یی سے کہا: "یہ جنگ صرف ہمیں نہیں، پوری دنیا کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔" وانگ یی نے سر ہلایا اور کہا: "ہم ساتھ مل کر اس مشکل کو حل کریں گے" ۔
یہ بات چیت ختم ہوئی، لیکن ایک نئی امید پیدا ہوئی۔ دو ممالک، جو جغرافیائی طور پر مشرق وسطیٰ سے دور ہیں، لیکن دل سے اس کے قریب ہیں، نے مل کر ایک پیغام دیا: امن ممکن ہے، بشرطیکہ کوشش کی جائے۔
دوستی کی مثال
چین اور پاکستان کی دوستی کو "آئرن برادرز" (لوہے جیسے بھائی) کہا جاتا ہے۔ 31 مارچ 2026 کو یہ دوستی ایک نئے معنی میں سامنے آئی۔ یہ صرف فوجی یا معاونت کی دوستی نہیں تھی، بلکہ امن کے لیے مشترکہ جدوجہد کی دوستی تھی ۔
جب ڈار بیجنگ سے روانہ ہوئے تو وانگ یی نے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: "ہماری ہم آہنگی جاری رہے گی۔" یہ جملہ صرف الوداع نہیں تھا، بلکہ ایک وعدہ تھا کہ چین پاکستان کی سفارتی کاوشوں میں ہر قدم پر ساتھ دے گا۔
نتیجہ
یہ کہانی صرف دو وزرائے خارجہ کی ملاقات کی نہیں، بلکہ دو ممالک کی عزم کی ہے کہ وہ دنیا کے اس خطے میں امن لائیں جہاں کئی دہائیوں سے جنگ اور کشیدگی رہی ہے۔ چین کی طرف سے پاکستان کی کوششوں کی تعریف اس بات کا ثبوت ہے کہ چھوٹے ممالک بھی بڑے کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی کوششوں کو بڑی طاقتوں کی تائید حاصل ہو۔
آج جب مشرق وسطیٰ میں دھواں اٹھ رہا ہے، بیجنگ اور اسلام آباد سے ایک صاف پیغام آیا ہے: امن کے لیے کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتی، اور دوستی کا اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے۔
%20(2).jpg)
Comments