ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی سے جنگ بندی کا خطرہ ہے۔
16 اپریل 2026 کی صبح، جب سورج خلیج فارس کے نیلے پانیوں پر چمکا، تو اس کے ساتھ ہی ایک آواز بھی گونجی—ایران کی چेतावنی۔ میجر جنرل علی عبداللہی، ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر، نے اعلان کیا—"اگر جارحانہ اور دہشت گرد امریکا خطے میں بحری ناکہ بندی جاری رکھتا ہے، تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی پیش درآمد ہوگی، اور ایران کی طاقتور مسلح افواج خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر میں کسی بھی قسم کی درآمد و برآمد جاری نہیں ہونے دیں گی" ۔
یہ صرف ایک بیان نہیں تھا، یہ ایک قوم کی آخری سانس تھی جو کہہ رہی تھی—"اب اور نہیں"۔ چار ہفتوں کی بمباری، ہزاروں شہید، تباہ حال شہر، اور پھر ایک عارضی جنگ بندی جو 22 اپریل تک تھی۔ اس کے درمیان امریکی ناکہ بندی نے سب کچھ خطرے میں ڈال دیا تھا ۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ "ختم ہونے کے قریب" ہے ۔ لیکن کیا واقعی؟ جب ایک طرف "امن" کے دعوے ہو رہے ہوں، دوسری طرف ناکہ بندی کی تلوار لہرا رہی ہو، تو یہ "امن" تھا یا "غاصبانہ قبضہ"؟
عبداللہی کے الفاظ میں وہی پرانی ایرانی استقامت تھی جو کہتی ہے—"ہم اپنی قومی خودمختاری اور مفادات کا دفاع کرنے کے لیے پوری طاقت سے کام لیں گے" ۔ یہ وہی ایران تھا جو چار ہفتوں کی مسلسل بمباری کے بعد بھی سر نہیں جھکا تھا، آج ایک ناکہ بندی سے کیسے جھکتا؟
لیکن یہاں سب سے بڑا سوال تھا—یہ ناکہ بندی جنگ بندی کی خلاف ورزی تھی؟ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا تھا کہ ناکہ بندی صرف ایرانی بندرگاہوں سے آنے والے جہازوں پر ہوگی ۔ لیکن ایران نے اسے "جنگ بندی کی خلاف ورزی" قرار دیا ۔ کیونکہ جب ایک قوم کا تیل، اس کا خوراک، اس کی دوائیں روک لی جائیں، تو یہ جنگ سے کم نہیں ہوتا۔
ٹرمپ نے کہا—"اگر کوئی ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب آیا، تو اسے فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا" ۔ یہ وہی صدر تھا جو "امن" کے نعروں پر منتخب ہوا، آج وہی "تباہی" کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ انھوں نے کہا—"ہم نے انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے" ۔ لیکن پھر ناکہ بندی کیوں؟ شاید اس لیے کہ "فتح" کا نشہ اتنا گہرا تھا کہ بات چیت کا راستہ بھول گیا تھا۔
ایران نے جواب میں نہ صرف دھمکی دی، بلکہ عمل بھی دکھایا۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ دو ایرانی ٹینکرز ہرمز آبادی عبور کر چکے ہیں، ایک "خوراک کی رسد" لے کر ۔ یہ پیغام تھا—"ہم ڈرنے والے نہیں"۔ امریکی پابندیوں کا شکار چینی ٹینکر "ریچ اسٹاری" بھی ناکہ بندی کے باوجود آبنائے سے گزر گیا ۔
لیکن ان سب کے بیچ، انسان کہاں تھے؟ ہرمز آبادی میں 20,000 ہندوستانی ملاح پھنسے ہوئے تھے، جنہیں خوراک، پینے کا صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا تھا ۔ انڈیا کی نیشنل یونین آف سی فئیرز کے جنرل سیکرٹری نے خط لکھا—"یہ ملاح انسانی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں" ۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں تھے، یہ انسان تھے۔ کوئی بیٹا تھا جو ماں کے انتظار میں تھا، کوئی شوہر تھا جو بیوی کے خوابوں کو پورا کرنے نکلا تھا، کوئی باپ تھا جو بچوں کی تعلیم کے لیے محنت کر رہا تھا۔ اب وہ سب پانی کے بیچ پھنسے ہوئے تھے، جنگی جہازوں کے سائے تلے۔
ٹرمپ نے کہا—"مجھے پرواہ نہیں، وہ واپس آئیں یا نہ آئیں" ۔ یہ انسانیت کی تذلیل تھی۔ ایک طرف وہ صدر تھا جو "امن" کے نعروں پر منتخب ہوا، آج وہی "مکمل طور پر تیار اور لوڈ" ہونے کی دھمکیاں دے رہا تھا ۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا—"جب ہم 'اسلام آباد مفاہمت نامے' سے محض انچ دور تھے، تو ہمیں انتہا پسندی، ہدفوں کی تبدیلی، اور ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا" ۔ انھوں نے کہا—"نیک نیتی نیک نیتی پیدا کرتی ہے، دشمنی دشمنی پیدا کرتی ہے" ۔
یہ کہانی صرف ایران اور امریکا کی نہیں تھی، یہ انسانیت کی کہانی تھی۔ ایک طرف وہ طاقت تھی جو اپنے ہتھیاروں کے زور پر دنیا کو اپنے مطابق چلانا چاہتی تھی، دوسری طرف وہ قوم تھی جو اپنی آزادی کے لیے آخری دم تک لڑنے کو تیار تھی۔ ہرمز کی ناکہ بندی صرف جہازوں کی ناکہ بندی نہیں تھی، یہ انسانیت کی آزادی کی ناکہ بندی تھی۔
گھڑی کی ٹک ٹک جاری تھی، اور 22 اپریل تک کی جنگ بندی ختم ہونے میں صرف چند دن باقی تھے ۔ دنیا انتظار کر رہی تھی کہ کیا یہ ناکہ بندی جنگ کی شروعات ہوگی، یا پھر کوئی معجزہ ہوگا۔ لیکن ایک بات طے تھی—جب تک طاقت کے نشے میں چور رہنما ہوں گے، تب تک ہرمز کے پانی خون سے لال ہوتے رہیں گے۔
یہ "خبرداری" تھی یا "آخری چیخ"؟ شاید تاریخی بتائے گی۔ لیکن ایک بات طے ہے—جس دن عبداللہی نے خبردار کیا، اس دن انسانیت نے ایک اور قدم پسپائی کی طرف بڑھایا، اور "آزادی کے پانیوں" پر تالے لگ گئے۔

Comments