پاکستان جوہری 'بریک تھرو' پر کام کر رہا ہے جیسا کہ سی ڈی ایف منیر کی ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالب سے ملاقات
پاکستان جوہری 'بریک تھرو' پر کام کر رہا ہے جیسا کہ سی ڈی ایف منیر کی ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالب سے ملاقات
16 اپریل 2026 کی صبح، تہران کے سرکاری محل میں دو ہاتھ ملے—ایک طرف پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر، دوسری طرف ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ۔ یہ وہی قالیباف تھے جنہوں نے چند دن قبل اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی مذاکرات کی قیادت کی، جو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ناکام ہو گئے ۔
یہ ملاقات صرف ایک پروٹوکول کا تبادلہ نہیں تھا، یہ "بریک تھرو" کی تلاش تھی—ایسا شگاف اندھیرے میں جو روشنی کی امید دے سکے ۔ پاکستان، جو خود ایٹمی طاقت ہے، جانتا تھا کہ جوہری معاملات میں "اعتماد" سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ اور یہی اعتماد تعمیر کرنے کے لیے منیر تہران آئے تھے۔
قالیباف کے چہرے پر 21 گھنٹے کی ناکام مذاکرات کی تھکن تھی۔ وینس نے کہا تھا—"ہم ایک معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اور مجھے لگتا ہے کہ یہ ایران کے لیے برا خبر ہے" ۔ لیکن قالیباف نے جواب دیا تھا—"اگر وہ میدان میں جو کچھ حاصل نہیں کر سکے، اسے مذاکرات میں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، تو یہ بالکل ناقابل قبول ہے" ۔
اب پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک نیا راستہ تجویز کیا—"تیسری طرف کی نگرانی" ۔ یہ تجویز تھی کہ ایران کی جوہری تنصیبات کی نگرانی کے لیے دو سے تین ممالک مشترکہ طور پر ذمہ دار ہوں، تاکہ ایران اپنی خودمختاری محفوظ رکھے اور امریکا کو یقین دلائے کہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے جا رہے ۔
یہ "بریک تھرو" کیوں ضروری تھا؟ کیونکہ 21 گھنٹے کی مذاکرات میں "تین اہم نکات" پر اتفاق نہ ہوسکا—یورینیم افزودگی کی سطح، جوہری ہتھیاروں کی پابندی، اور ہرمز آبادی ۔ امریکا چاہتا تھا کہ ایران یورینیم افزودگی مکمل طور پر بند کر دے، جبکہ ایران کہتا تھا کہ "جوہری توانائی کا پرامن استعمال ایک جائز حق" ہے ۔
منیر اور قالیباف کی ملاقات میں یہی تفریق پُر کی گئی۔ پاکستان نے کہا—"ہم خود ایٹمی طاقت ہیں، ہم جانتے ہیں کہ خودمختاری اور عالمی ذمہ داری کا توازن کیسے قائم کرنا ہے" ۔ یہ الفاظ نہیں تھے، یہ ایک تجربہ کار ایٹمی طاقت کا پیغام تھا جو چاہتی تھی کہ خطہ جنگ کی آگ سے بچے۔
لیکن اس ملاقات کے پیچھے انسان تھے۔ ایران میں 3,000 افراد ہلاک ہو چکے تھے، لبنان میں 2,055، اسرائیل میں 23 ۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ انسان تھے—مائیں، بہنیں، بیٹے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا—"لاکھوں پاکستانی مختلف عرب ممالک میں رہتے ہیں، ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے" ۔
یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے "شٹل ڈپلومیسی" تیز کر دی۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب گئے، وزیر خارجہ ڈار ایران اور سعودی عرب کے درمیان دوڑے، اور اب آرمی چیف منیر تہران میں بیٹھے تھے ۔ یہ تینوں کردار—سیاسی، سفارتی، فوجی—ایک ساتھ مل کر ایک پیغام دے رہے تھے: "پاکستان امن چاہتا ہے"۔
قالیباف نے منیر کو بتایا کہ ایران "امریکا کی ناکہ بندی" کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے چکا ہے ۔ انھوں نے کہا—"اگر جارحانہ امریکا خطے میں بحری ناکہ بندی جاری رکھتا ہے، تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی پیش درآمد ہوگی" ۔ یہ خبرداری تھی، لیکن ساتھ ہی ایک دروازہ بھی کھلا تھا—اگر پاکستان ثالثی کامیاب کرائے، تو شاید بات چیت جاری رہ سکے۔
منیر نے جواب دیا—"ہم اپنے خطے کی بقا کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے" ۔ یہ الفاظ سادہ تھے، لیکن ان کے پیچھے پاکستان کی 75 سالہ سفارتی تاریخ تھی—چین اور امریکا کے درمیان 1971 کے رابطے، سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2019 کی ثالثی، اور اب 2026 کا یہ نیا مشن ۔
یہ "بریک تھرو" صرف جوہری معاہدے تک محدود نہیں تھا، یہ خطے کے مستقبل کی تعمیر تھا۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ ہو گیا، تو ہرمز آبادی کھلے گی، تیل کی قیمتیں کم ہوں گی، اور لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچیں گی۔ اگر ناکام رہا، تو جنگ کی آگ پورے خطے کو لپیٹ میں لے لے گی۔
منیر اور قالیباف کی ملاقات کے بعد، پاکستان نے ایک "خفیہ چینل" قائم کرنے کی پیشکش کی—ایسا راستہ جہاں بغیر میڈیا کے، بغیر پروپیگنڈا کے، دونوں طرف کی قیادت براہ راست بات کر سکے ۔ یہ "بیک چینل ڈپلومیسی" تھی، جو اصل میں "انسانیت کی ڈپلومیسی" تھی۔
یہ کہانی صرف پاکستان، ایران یا امریکا کی نہیں تھی، یہ انسانیت کی کہانی تھی۔ ایک طرف وہ طاقتیں تھیں جو اپنے ہتھیاروں کے زور پر دنیا کو اپنے مطابق چلانا چاہتی تھیں، دوسری طرف وہ ثالث تھے جو جانتے تھے کہ "فتح" سے بڑھ کر "امن" اہم ہے۔
گھڑی کی ٹک ٹک جاری تھی، اور 22 اپریل تک کی جنگ بندی ختم ہونے میں صرف چند دن باقی تھے ۔ دنیا انتظار کر رہی تھی کہ کیا یہ "بریک تھرو" ہوگا، یا پھر "بریک ڈاؤن"؟ لیکن ایک بات طے تھی—جس دن منیر اور قالیباف نے ہاتھ ملائے، اس دن پاکستان نے ثابت کیا کہ "فوج" صرف جنگ کے لیے نہیں، "امن" کے لیے بھی ہوتی ہے۔
یہ "جوہری بریک تھرو" تھا یا "انسانی بریک تھرو"؟ شاید دونوں۔ لیکن ایک بات طے ہے—جس دن تہران میں دو ہاتھ ملے، اس دن خطے کی تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا، اور امید کی کرن پھوٹی، بس اب اسے روشن رکھنا تھا۔

Comments