امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا امکان: ایرانی ذرائع
امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا امکان: ایرانی ذرائع
پیر کا انتظار: امید کی گھڑی پاکستان میں
18 اپریل 2026 کی صبح، اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ایک خصوصی طیارہ اترا۔ اس میں بیٹھے تھے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سفیر اسٹیو وٹکوف، اور جیرڈ کوشنر—وہ لوگ جو دنیا کی سب سے خطرناک جنگ کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف تھے ۔ ان کا انتظار پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، فوجی سربراہ عاصم منیر، اور ایک پوری قوم کر رہی تھی جو امن کا پیغام بننا چاہتی تھی۔
لیکن اس سے پہلے، تہران میں ایک اور ملاقات ہو چکی تھی۔ 16 اپریل کو، پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر عہدیداروں سے ملاقات کی ۔ یہ وہی قالیباف تھے جنہوں نے چند دن قبل اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی مذاکرات کی قیادت کی، جو ناکام ہو گئے۔
اب ایرانی ذرائع نے اعلان کیا—"مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہو سکتا ہے" ۔ یہ پیر، 21 اپریل، وہ تاریخ تھی جب دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے والی تھی ۔ یہ آخری موقع تھا، آخری سانس، آخری امید۔
امریکی عہدیداروں نے کہا کہ "ہم ایک فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں" ۔ لیکن ساتھ ہی خبردار کیا—"معاہدے کی کوئی ضمانت نہیں، دونوں فریقین کے درمیان اہم اختلافات仍然存在" ۔ یہ وہی اختلافات تھے جو 21 گھنٹے کی مذاکرات میں حل نہ ہوسکے—یورینیم افزودگی، جوہری ہتھیاروں کی پابندی، اور ہرمز آبادی ۔
پاکستان کا کردار یہاں نازک تھا۔ ایک طرف وہ امریکا تھا جو "ناکہ بندی" کی دھمکیاں دے چکا تھا، دوسری طرف وہ ایران تھا جو "جنگ بندی کی خلاف ورزی" کا اعلان کر چکا تھا ۔ پاکستان، جو خود ایٹمی طاقت ہے، جانتا تھا کہ "تیسری طرف کی نگرانی" کا فارمولا کام کر سکتا ہے—ایران اپنی خودمختاری محفوظ رکھے، امریکا کو یقین دلائے کہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے جا رہے ۔
لیکن اس "پیر" کے انتظار میں انسان تھے۔ ایران میں 3,000 افراد ہلاک ہو چکے تھے، لبنان میں 2,055، اسرائیل میں 23 ۔ ہرمز آبادی میں 20,000 ہندوستانی ملاح پھنسے ہوئے تھے، جنہیں خوراک اور ادویات کی قلت کا سامنا تھا ۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ انسان تھے—مائیں، بہنیں، بیٹے، جو جنگ کی آگ میں جل رہے تھے۔
ٹرمپ نے کہا تھا—"پوری تہذیب آج رات مر جائے گی، کبھی واپس نہیں آئے گی" ۔ لیکن پھر بھی، امریکی ٹیم نے "بیک چینل" کے ذریعے رابطے جاری رکھے—فون کالز، مسودے، تجاویز ۔ وینس نے کہا—"میرے خیال میں، جو لوگ ہمارے سامنے بیٹھے ہیں، وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں" ۔
ایران نے کیا چاہتا تھا؟ "جنگ کا خاتمہ، پابندیوں کا خاتمہ، تعمیر نو، اور ہرمز آبادی کھولنے کا پروٹوکول" ۔ امریکا نے کیا چاہتا تھا؟ "یورینیم افزودگی بند، جوہری ہتھیاروں کی پابندی، ہرمز آبادی کھلی" ۔ دونوں فہرستوں میں ایک مشترکہ نقطہ تھا—"امن"۔ لیکن "امن" تک پہنچنے کا راستہ پتھروں سے بھرا تھا۔
پاکستانی عہدیدار نے کہا—"دیکھتے ہیں کہ کیا ہم معاہدہ کر سکتے ہیں۔ ہم امیدوار ہیں اور دونوں فریقین کے ساتھ دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں" ۔ یہ الفاظ سادہ تھے، لیکن ان کے پیچھے ایک قوم کی 75 سالہ سفارتی تاریخ تھی—چین اور امریکا کے درمیان 1971 کے رابطے، سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2019 کی ثالثی، اور اب 2026 کا یہ نیا مشن ۔
اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ ہزاروں اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات، دنیا کے رہنماؤں سے رابطے ۔ پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف "پل" بننا چاہا، بلکہ "گھر" بھی—جہاں دونوں طرف کے مہمان محفوظ محسوس کریں۔
لیکن "پیر" کا انتظار صرف پاکستان میں نہیں، پوری دنیا میں تھا۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی تھیں ۔ یورپ میں ہوائی اڈوں نے خبردار کیا کہ تین ہفتوں میں "نظامتی جیٹ ایندھن کی قلت" ہو سکتی ہے ۔ دنیا کا 20 فیصد تیل خطرے میں تھا، لیکن ٹرمپ کو کوئی پروا نہیں تھی—"مجھے پرواہ نہیں، وہ واپس آئیں یا نہ آئیں" ۔
ایران نے جواب میں کہا—"اگر وہ لڑیں گے، ہم لڑیں گے" ۔ لیکن ساتھ ہی، ایک دروازہ بھی کھلا تھا۔ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا—"مذاکرات ایک نازک، حساس مرحلے میں ہیں" ۔ یہ "نازک" مرحلہ تھا، لیکن یہی "امید" کا مرحلہ بھی تھا۔
گھڑی کی ٹک ٹک جاری تھی، اور "پیر" قریب آ رہا تھا۔ امریکی عہدیداروں نے کہا کہ "نئے براہ راست ذاتی مذاکرات کا دور اگلے چند دنوں میں پاکستان میں ہو سکتا ہے" ۔ لیکن تاریخ طے نہیں تھی، کوئی تاریخ سامنے نہیں آئی تھی—صرف "امکان" تھا، صرف "امید" تھی۔
یہ کہانی صرف امریکا، ایران یا پاکستان کی نہیں تھی، یہ انسانیت کی کہانی تھی۔ ایک طرف وہ طاقتیں تھیں جو اپنے ہتھیاروں کے زور پر دنیا کو اپنے مطابق چلانا چاہتی تھیں، دوسری طرف وہ ثالث تھے جو جانتے تھے کہ "فتح" سے بڑھ کر "امن" اہم ہے۔
جب "پیر" آئے گا، کیا ہوگا؟ کیا یہ "بریک تھرو" ہوگا، یا "بریک ڈاؤن"؟ شاید کوئی نہیں جانتا۔ لیکن ایک بات طے ہے—جس دن اسلام آباد میں دو ہاتھ ملیں گے، اس دن تاریخ ایک نیا موڑ لے گی، اور امید کی کرن پھوٹے گی، بس اسے روشن رکھنا ہوگا۔
یہ "پیر" صرف ایک دن نہیں، یہ "امن" کی آخری کشش تھی۔
.jpg)
Comments