ٹرمپ کے 'جہنم' کو اتارنے کی دھمکی پر گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ ہی ایران کی مخالفت
گھڑی کی ٹک ٹک: جہنم کی دہلیز پر ایران
ایک انسانی داستان کشمکش اور استقامت کی
گھڑی کی سوئی رات کے اندھیرے میں آہستہ آہستہ حرکت کر رہی تھی۔ ہر ٹک ایک دھمکی، ہر ٹاک ایک جواب تھا۔ واشنگٹن کے اوول آفس میں بیٹھے ایک صدر نے جوہری معاہدے کی میز پر ہتھیلی مار دی، جبکہ تہران کی گلیوں میں ایک قوم نے اپنی تاریخ کے سب سے سخت امتحان کا سامنا کرنے کی تیاری شروع کر دی۔
یہ اپریل 2026 کا وہ لمحہ تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو "جہنم میں اتارنے" کی دھمکی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے ہرمز آبادی نہ کھولی، تو امریکا چند گھنٹوں میں ایران کے ہر پل، ہر بجلی گھر، ہر انفراسٹرکچر کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دے گا۔ ان کے الفاظ میں وہی پرانا امریکی غرور تھا جو مشرق وسطیٰ کو برسوں سے خون میں نہلاتا آیا ہے: "ایران کے ہر پل کو تباہ کر دیا جائے گا، ہر بجلی گھر جل کر خاکستر ہو جائے گا" ۔
لیکن گھڑی کی ٹک ٹک صرف ایک طرف سے نہیں سنائی دے رہی تھی۔ تہران میں، ایرانی قوم نے بھی اپنی گھڑی دیکھی۔ ان کی گھڑی میں استقامت کا وقت تھا، تاریخ کی وہ گھڑی جو 2500 سالہ فارسی تہذیب کی گواہی دیتی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا کہ 14 ملین ایرانیوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا: "میں بھی، ہوں، اور رہوں گا، ایران کے لیے اپنی جان دینے کو تیار" ۔
یہ صرف ایک فوجی تصادم نہیں تھا، یہ دو تہذیبوں، دو سوچوں، دو وقتوں کی ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف وہ امریکا تھا جو اپنے فوجی طاقت کے زور پر دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا تھا، دوسری طرف وہ ایران تھا جو اپنی آزادی اور خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑنے کو تیار تھا۔
ٹرمپ کی دھمکیوں کے پیچھے ہرمز آبادی کا مسئلہ تھا، وہ تنگ سمندری راستہ جس سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ ایران نے اسے بند کر دیا تھا، اور امریکا اسے ہر قیمت پر کھلوانا چاہتا تھا۔ لیکن ایران نے واضح کر دیا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے پہلے جنگ ختم ہونی چاہیے، پابندیاں اٹھائی جانی چاہئیں، اور ایران کی خودمختاری کا احترام ہونا چاہیے ۔
گھڑی کی ٹک ٹک جاری تھی۔ ٹرمپ نے منگل کی رات آٹھ بجے کی ڈیڈ لائن دی۔ "اگر اس وقت تک معاہدہ نہ ہوا، تو ایران جہنم میں ہو گا"۔ یہ وہ الفاظ تھے جو کسی بھی انسانی تاریخ میں جنگ کے جرائم کی دھمکی کہلائے جاتے ہیں۔ عالمی قوانین کے مطابق شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے پر حملے جنگی جرائم ہیں، لیکن ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالوں کو "ناکام" قرار دے کر مسترد کر دیا ۔
لیکن ایران نے جواب میں کیا دیا؟ انہوں نے عارضی جنگ بندی کی پیشکش مسترد کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم عارضی جنگ بندی نہیں، مستقل امن چاہتے ہیں"۔ یہ ایک ایسا قوم تھا جو چار ہفتوں کی مسلسل بمباری کے باوجود سر نہیں جھکا رہا تھا۔ ان کے جوہری تنصیبات پر حملے ہوئے، ان کے یونیورسٹیز تباہ ہوئے، ان کے انٹیلی جنس چیف شہید ہوئے، پھر بھی وہ مذاکرات میز پر بیٹھے تھے ۔
گلیوں میں منظر مختلف تھا۔ تہران کے نوجوانوں نے بجلی گھروں کے گرد انسانی زنجیریں بنانے کا اعلان کیا۔ یہ وہی نوجوان تھے جو کبھی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے تھے، آج وہی حکومت کے ساتھ کھڑے تھے۔ کیونکہ جب بات وطن کی آتی ہے، تو اختلافات بھول جاتے ہیں۔ یہی ایران کی طاقت ہے۔
عالمی منظرنامے پر بھی گھڑی کی ٹک ٹک مختلف انداز میں سنائی دے رہی تھی۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا کہ یہ تیل بحران 1973، 1979 اور 2002 کے بحرانوں سے زیادہ سنگین ہے۔ یورپ میں پیٹرول کی قیمتیں 30 فیصد بڑھ چکی تھیں، عالمی منڈی میں تیل 115 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا تھا ۔
سعودی عرب اور بحرین کے درمیان کنگ فہد کازوے کو بند کر دیا گیا، کیونکہ ایران کے حملوں کا خدشہ تھا۔ خطے میں ہر ملک اپنی سکیورٹی کے لیے پریشان تھا۔ لیکن سب سے زیادہ پریشانی اس بات کی تھی کہ یہ تنازع کس طرف جا رہا تھا؟ کیا یہ تیسری عالمی جنگ کی شروعات تھی، یا پھر ایک اور مشرق وسطیٰ کا بے معنی تنازع جو لاکھوں جانیں لے کر ختم ہو گا؟
ٹرمپ کے اپنے مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف خاموشی سے بیٹھے سن رہے تھے، جبکہ ان کے صدر صحافیوں کو دھتکار رہے تھے۔ یہ وہی امریکا تھا جو خود کو جمہوریت اور آزادی کا علمبردار کہتا تھا، آج وہی صحافیوں کو "چپ رہنے" کی ہدایت کر رہا تھا ۔
ایران نے جواب میں کہا کہ "ہماری دھمکیوں پر عمل درآمد کرنا امریکا کے لیے آسان نہیں ہو گا"۔ یہ صرف لفظی جنگ نہیں تھی، یہ نفسیاتی جنگ تھی۔ ایران جانتا تھا کہ امریکا پورے خطے میں ایک نئے محاذ پر جنگ نہیں چلانا چاہتا، خاص طور پر جب وہ پہلے ہی یوکرائن اور دیگر جگہوں پر مصروف ہے۔
گھڑی کی ٹک ٹک جاری تھی، اور ہر ٹک کے ساتھ دنیا ایک نئے خطرے کے قریب جا رہی تھی۔ لیکن اس تمام کشمکش کے بیچ ایک امید کی کرن بھی تھی۔ ایران نے کہا تھا کہ مذاکرات "نازک اور حساس مرحلے" میں ہیں۔ شاید دونوں طرف کے سفارت کار جانتے تھے کہ جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا، صرف ہارنے والے ہوتے ہیں۔
یہ کہانی صرف ایران اور امریکا کی نہیں تھی، یہ انسانیت کی کہانی تھی۔ ایک طرف وہ طاقت تھی جو اپنے ہتھیاروں کے زور پر دنیا پر حکومت کرنا چاہتی تھی، دوسری طرف وہ قوم تھی جو اپنی آزادی کے لیے آخری دم تک لڑنے کو تیار تھی۔ گھڑی کی ٹک ٹک بتاتی ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا، لیکن یہ بھی بتاتی ہے کہ جو قومیں اپنے اصولوں پر ڈٹی رہتی ہیں، تاریخ انہیں یاد رکھتی ہے۔
جب ٹرمپ نے کہا تھا کہ "ایران کے رہنما ذہنی طور پر بیمار ہیں"، تو شاید انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ایک قوم جو 14 ملین نوجوانوں کی قربانی کا جذبہ رکھتی ہو، وہ کسی کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی۔ یہ وہی ایران ہے جس نے آٹھ سالہ عراقی جنگ میں امریکا کی حمایت یافتہ فوج کا مقابلہ کیا، یہ وہی ایران ہے جو آج بھی کھڑا ہے۔
گھڑی کی ٹک ٹک اب بھی جاری ہے، اور دنیا انتظار کر رہی ہے کہ آیا یہ ٹکراؤ جنگ میں بدلے گا، یا پھر سفارت کاری کی میز پر ایک ایسا حل نکلے گا جو مستقبل کی نسلوں کے لیے امن کا پیغام بنے گا۔ لیکن ایک بات طے ہے: ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ جہنم کی دہلیز پر بھی وہ سرخرو رہ سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے عوام اس کے ساتھ ہوں۔

Comments