اسرائیل نے لبنان پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے جب ہیگستھ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی 'منت کی'
منت کی آواز: لبنان
شام کا سورج لبنان کے آسمان پر خون کی طرح سرخ تھا۔ بیروت کی گلیوں میں آگ کی لپٹیں چاند کی طرح روشن تھیں، لیکن یہ چاند کسی عید کا پیغام نہیں، بلکہ موت کا پیغام لے کر آیا تھا۔ اسرائیلی طیاروں نے دارالحکومت پر ایسے حملے کیے جیسے آسمان سے آگ برس رہی ہو۔ لبنانی ریڈ کراس کے مطابق صرف ایک دن میں 300 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، اور ملبے تلے اب بھی سینکڑوں جانیں دبھی پڑی تھیں ۔
یہ 8 اپریل 2026 کی شام تھی۔ ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی خبریں گردش کر رہی تھیں، دوسری طرف لبنان کا سر اٹھانا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے واضح اعلان کر دیا تھا: "ایران کے ساتھ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہوگا" ۔ یہ دوہرا کھیل تھا—ایک طرف امن کا ڈھول بجانا، دوسری طرف آگ کی ہولی کھیلنا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں فخر سے اعلان کیا: "ایران نے جنگ بندی کی منت کی، یہ ہم سب جانتے ہیں" ۔ ان کے الفاظ میں وہی امریکی غرور تھا جو مشرق وسطیٰ کو برسوں سے اپنے پاؤں تلے روندتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران "زبردست دباؤ" میں آکر جنگ بندی پر راضی ہوا ہے ۔
لیکن کیا واقعی ایران نے "منت" کی تھی؟ یا پھر یہ ایک ایسی قوم تھی جو چار ہفتوں کی مسلسل بمباری کے بعد بھی سر نہیں جھکا رہی تھی؟ ہیگستھ کے دعوے کے برعکس، ایران نے عارضی جنگ بندی کی پیشکش مسترد کر دی تھی، اور کہا تھا کہ "ہمیں مستقل امن چاہیے، عارضی جنگ بندی نہیں"۔ لیکن امریکی میڈیا نے "منت" کا لفظ چن لیا، کیونکہ فتح کا جھوٹا نعرہ لگانا آسان ہے۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے لبنان میں بیٹھے ہوئے اعلان کیا: "ہم حزب اللہ پر بغیر رکے حملے جاری رکھیں گے" ۔ ان کے پیچھے اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر کھڑے تھے، جیسے موت کے فرشتے کسی تباہی کا جشن منا رہے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ "شمالی اسرائیل کے باشندوں کی سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کریں گے"—جیسے لبنانی بچوں کی جانوں کوئی معنی نہیں رکھتی۔
بیروت کے اسپتالوں میں منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ڈاکٹروں کو فیصلہ کرنا پڑ رہا تھا کہ کس کو پہلے بچایا جائے۔ خون کے بیگ ختم ہو چکے تھے، ادویات کی کمی تھی، اور بجلی کے بغیر سرجری کرنا ناممکن تھا۔ لیکن دنیا کی نظریں صرف "جنگ بندی" کی خبروں پر ٹکی تھیں، جو صرف ایران تک محدود تھی۔
لبنان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ 2006 کی جنگ، 2020 کا دھماکہ، اور اب 2026 کی یہ تباہی—یہ ایک ایسا ملک تھا جو ہر بار اٹھتا تھا، ہر بار گرایا جاتا تھا۔ لیکن اس بار کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان "مذاکرات" ہو رہے تھے، تو لبنان کا خون بہنا ضروری تھا؟
حزب اللہ کے جنگجوؤں نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ اسرائیل کے جنوبی شہروں میں راکٹ گرے، تین بچے زخمی ہوئے ۔ لیکن یہ جوابی حملے اسرائیلی طاقت کے سامنے کسی چنگاری کی مانند تھے جو سمندر میں گم ہو جاتی ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ جب اسرائیل کا کوئی بچہ زخمی ہوتا ہے، تو دنیا چیخ اٹھتی ہے، لیکن جب لبنانی بچوں کے لاشے ملبے تلے دبے ہوتے ہیں، تو وہ "ضروری فوجی کارروائی" کہلاتی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو "جہنم میں اتارنے" کی دھمکی دی تھی، لیکن جب بات لبنان کی آئی، تو انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ کیونکہ لبنان کی کوئی جوہری تنصیبات نہیں تھیں، کوئی تیل کے کنویں نہیں تھے، صرف انسان تھے—اور انسانوں کی جانیں تیل سے سستی پڑتی ہیں۔
رات گہری ہوتی گئی۔ بیروت کی گلیوں میں ریسکیو ٹیمیں ملبے کھود رہی تھیں۔ کسی نے اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جو اب ہاتھ نہیں، بلکہ لاش تھا۔ کسی نے اپنی بیوی کو پکارا، لیکن جواب صرف آگ کی کرنچی آواز تھی۔ یہ وہ لمحے تھے جب انسان اپنے خدا سے پوچھتا ہے کہ اس نے اتنا درد کیوں پیدا کیا؟
صبح ہوئی تو ہیگستھ نے پھر اعلان کیا کہ امریکا "تیار رہے گا" ۔ تیار رہے گا کیا؟ مزید حملوں کے لیے؟ مزید "منت" سننے کے لیے؟ یا پھر اس خطے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے؟ اسرائیل نے بھی اعلان کیا کہ وہ لبنان میں "ہر موقع" سے فائدہ اٹھائیں گے —یعنی جب تک ایران کے ساتھ مذاکرات چلیں گے، لبنان جلتا رہے گا۔
یہ جنگ بندی کی سب سے بڑی تراژدی تھی۔ یہ صرف ایک جھوٹا امن تھا جو ایک ملک کو بچاتا تھا، دوسرے کو تباہ کرتا تھا۔ ایران کے لیے یہ "منت" تھی، لیکن لبنان کے لیے یہ موت تھی۔ ہیگستھ کے الفاظ میں وہی امریکی منطق تھی جو ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے—"ہم جو کریں، وہ امن ہے، جو تم کرو، وہ دہشت گردی ہے"۔
لبنانی وزیر صحت نے اعلان کیا کہ اسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں ۔ لیکن کسی نے نہیں پوچھا کہ ان زخمیوں کا قصور کیا تھا؟ کیا انہوں نے کوئی ہتھیار اٹھائے تھے؟ نہیں، صرف اس لیے کہ وہ لبنان میں پیدا ہوئے تھے، ان کا جینا جرم بن گیا۔
یہ کہانی صرف لبنان کی نہیں تھی، یہ انسانیت کی کہانی تھی۔ ایک طرف وہ طاقتیں تھیں جو اپنے دفاع کے نام پر دوسروں کو تباہ کرتی ہیں، دوسری طرف وہ لوگ تھے جو بس جینا چاہتے تھے۔ ہیگستھ نے کہا تھا کہ ایران نے "منت" کی، لیکن حقیقت یہ تھی کہ لبنان نے خون دیا، اور دنیا نے خاموشی اختیار کی۔
گھڑی کی ٹک ٹک جاری تھی، لیکن لبنان کے لیے وقت رک گیا تھا۔ ہر لمحہ ایک صدی، ہر سانس ایک درد تھا۔ جب تک دنیا "جنگ بندی" کے جھوٹے نعروں میں مگن تھی، بیروت کے ملبے تلے دفن امن کی آخری امید بھی مر رہی تھی۔
یہ "منت" تھی یا "مکاری"؟ یہ "فتح" تھی یا "فریب"؟ شاید تاریخی بتائے گی۔ لیکن ایک بات طے ہے—جس دن لبنان کا آخری بچہ رویا، اس دن پوری انسانیت روئی، بس کسی نے سنا نہیں۔

Comments