اسرائیل نے لبنان پر مزید حملوں کی وارننگ دیتے ہوئے لوگوں کو بھاگنے کا حکم دیا۔
اسرائیل نے لبنان پر مزید حملوں کی وارننگ دیتے ہوئے لوگوں کو بھاگنے کا حکم دیا۔
لبنان کی سرزمین پر ایک بار پھر تباہی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے گھروں کو خالی کر دیں اور شمال کی جانب نقل مکانی کریں۔ یہ وارننگ اس وقت دی گئی جب اسرائیل نے مزید وسیع فوجی کارروائیوں کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔
نقل مکانی کا جبری حکم
اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان اویچے ادرعی نے ایک بیان میں کہا کہ "جو بھی افراد حزب اللہ کے جنگجوؤں، تنصیبات یا ہتھیاروں کے قریب موجود ہیں، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ جنوب کی جانب کوئی بھی نقل و حرکت آپ کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔"
یہ حکم صرف ماضی کی کارروائیوں کی تکرار نہیں بلکہ ایک نئی اور وسیع تر فوجی مہم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 25 دیہات کے رہائشیوں کو فوری طور پر عوالی دریا کے شمال میں منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ علاقہ لیتانی دریا سے بھی شمالی طرف ہے، جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے تحت حزب اللہ کی موجودگی کی حد مقرر کی گئی تھی۔
انسانی المیے کا خدشہ
ان ہدایات کے نتیجے میں لبنان میں تقریباً 1.2 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق، گزشتہ سال کے تنازعے کے آغاز سے اب تک تقریباً 2,000 افراد ہلاک اور 9,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن میں ہتھیاروں کے ذخیرے، مشاہدہ پوسٹیں اور کمانڈ سینٹر شامل ہیں۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ان حملوں کا اثر عام شہری آبادی پر بھی پڑ رہا ہے۔
تنازعے کی تازہ ترین صورت حال
حالیہ دنوں میں اسرائیل نے لبنان کے ساحلی شہر صور میں بھی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ علاقہ حزب اللہ کے مضبوط اثر و رسوخ والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے صور کے العباسیہ علاقے میں ایک عمارت کے خالی کرنے کی بھی وارننگ جاری کی ہے۔
اس تنازعے کا دائرہ کار روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے نہ صرف جنوبی لبنان میں بلکہ بیروت کے جنوبی مضافات میں بھی شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں حزب اللہ کے سابق رہنما حسن نصر اللہ سمیت درجنوں سینیر کمانڈرز ہلاک ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (UNHCR) کے مطابق، اسرائیل کے نقل مکانی کے احکامات سے لبنان کا 25 فیصد حصہ متاثر ہو چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی فوج کے ان اقدامات کو "جبری نقل مکانی" قرار دے رہی ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جسے اسرائیلی وزیر اعظم نے سخت الفاظ میں مسترد کر دیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے بیروت میں فرانسیسی کمپنی ٹوٹل انرجیز کی ملکیت والے ایک پیٹرول پمپ کو نشانہ بنایا۔
مستقبل کے امکانات
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے لبنان کی حکومت اور عوام کے نام ایک پیغام میں کہا کہ اگر وہ حزب اللہ کے خلاف نہیں اٹھے تو انہیں "غزہ کی طرح تباہی اور مصائب" کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بیانات ایک واضح پیغام ہیں کہ اسرائیل اس تنازعے کو مزید طول دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اب تک کم از کم نو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
لبنان کی سرزمین پر ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور عام شہری اس جنگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ انسانیت کی آوازیں دبتی جا رہی ہیں اور تباہی کے مناظر روز بروز بھڑکتے جا رہے ہیں۔
گھر چھوڑ دو، جان بچاؤ" — ایک ماں کی داستاں
مریم نے آخری بار اپنے گھر کی کھڑکی سے باہر دیکھا۔ تین نسلوں کی یادیں، وہ گلی جہاں اس نے پہلی بار چلنا سیکھا، وہ درخت جو اس کے دادا نے لگائے تھے — سب کچھ پیچھے چھوڑ کر جانا پڑ رہا تھا۔ اسرائیلی فوج کا پیغام آیا تھا: "فوری طور پر نکل جاؤ، ورنہ..."
یہ صرف مریم کی کہانی نہیں۔ لبنان کے جنوبی علاقوں میں لاکھوں ایسی مائیں، بچے، بوڑھے اور جوان ہیں جنہیں ایک رات میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر جانا پڑا ہے۔
ایک خوفناک رات
23 ستمبر 2024 کی صبح، جنوبی لبنان کے رہائشیوں کے موبائل فونز پر پیغامات آنے لگے۔ کسی نے فون کیا، کسی نے میسج بھیجا — سب ایک ہی بات کہہ رہے تھے: "گھروں کو خالی کرو، شمال کی جانب نقل مکانی کرو۔"
کچھ ہی گھنٹوں بعد، فضائی حملوں کی گھن گرجنے لگی۔ ایک ہفتے میں 800 سے زائد افراد ہلاک اور 5,000 سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ انسان تھے — ماؤں کے بیٹے، بچوں کے باپ، بہنوں کے بھائی۔
بے گھر ہونے کا درد
فاطمہ، جو صور کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھتی ہے، بتاتی ہے: "ہمیں صرف ایک گھنٹے کا وقت ملا۔ میں نے بچوں کو اٹھایا، کچھ روٹی پانی کا انتظام کیا، اور چل پڑی۔ میرا بچہ پوچھتا رہا کہ ہم کب واپس جائیں گے... مجھے کیا جواب دیتا؟"
لبنان میں 1.2 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ لبنان کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ سکول بند ہیں، اسپتال زخمیوں سے بھرے ہیں، اور سڑکیں پناہ گزینوں کے قافلوں سے بھری ہیں۔
ایک بوڑھے کا سوال
عبداللہ چوراسی سال کے ہیں۔ ان کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ لمبا سفر طے کر سکیں۔ وہ کہتے ہیں: "میں نے 2006 کی جنگ دیکھی، میں نے اسرائیل کی قبضہ گیری دیکھی، لیکن اتنا خوفناک منظر کبھی نہیں دیکھا۔ وہ ہمیں ہمارے ہی گھروں سے نکال رہے ہیں۔ ہم نے کیا جرم کیا ہے؟"
یہ سوال ہر اس شخص کے دل میں ہے جو جنوبی لبنان سے نکل رہا ہے۔ اسرائیل کہتا ہے کہ وہ حزبullah کے ٹھکانوں پر حملے کر رہا ہے، لیکن زمین پر عام شہری مارے جا رہے ہیں۔
بچوں کے کھوئے خواب
علی دس سال کا ہے۔ اس کا خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر بنے گا اور اپنے گاؤں میں ہسپتال بنائے گا۔ اب وہ ایک کیمپ میں بیٹھا ہے جہاں نہ کتابیں ہیں نہ سکول۔ "میرا بستہ گھر میں رہ گیا،" وہ اداسی سے کہتا ہے، "میرا مستقبل بھی شاید وہیں رہ گیا۔"
لبنان کی وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ 1.25 ملین طلبہ میں سے 40 فیصد نقل مکانی کی وجہ سے سکول نہیں جا پا رہے۔ ایک پوری نسل تعلیم سے محروم ہو رہی ہے۔
انسانیت کی آواز
پوپ فرانسس نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ خبردار کر رہی ہے کہ لبنان میں انسانی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن جنگ کی مشین رکنے کا نام نہیں لے رہی۔
اسرائیل کہتا ہے کہ اس کے شمالی علاقوں سے 60,000 افراد نقل مکانی کر چکے ہیں، اس لیے وہ "دفاع" کر رہا ہے۔ لیکن کیا دفاع کا یہ مطلب ہے کہ لاکھوں بے گناہ افراد کو بے گھر کر دیا جائے؟
ایک امید کی کرن؟
28 نومبر 2024 کو جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ لوگوں نے سانس کی، لیکن یہ آرام کچھ دیر کا مہمان ثابت ہوا۔ اگلے ہی دن اسرائیلی حملوں کی اطلاعات آنے لگیں۔
مریم آج بھی ایک کیمپ میں ہے۔ اس کا گھر تباہ ہو چکا ہے۔ وہ کہتی ہے: "میں نہیں جانتی کہ مستقبل کیا ہے، لیکن میں جانتی ہوں کہ ہماری کہانی صرف ایک اعداد و شمار نہیں ہے۔ ہم انسان ہیں، ہمیں درد محسوس ہوتا ہے، ہمیں امید کی ضرورت ہے۔"
لبنان کی سرزمین پر آج بھی دھواں اٹھ رہا ہے۔ اور لاکھوں مریم، فاطمہ اور علی انتظار کر رہے ہیں کہ کب انھیں ان کے گھروں کو لوٹنے کی اجازت ملے گی — اگر وہ گھر ابھی باقی ہوں تو۔
.jpg)
Comments