Posts

افغانستان میں پاکستان کی کارروائی کی جڑیں اپنے دفاع کے حق میں ہیں: صدر زرداری

Image
  حالیہ دنوں میں صدر آصف علی زرداری کا وہ بیان جو افغانستان میں پاکستان کی کارروائیوں کو "دفاع کے حق" سے جوڑتا ہے، نہ صرف خطے کی سیکیورٹی پالیسی پر گہری چھاپ چھوڑتا ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ اس بیان کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے پس منظر، تاریخی تناظر اور مستقبل کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیں۔ ‎ ‎تاریخی پس منظر اور تناظر ‎ ‎پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں۔ 1947 سے لے کر آج تک، دونوں ممالک کے درمیان سرحد کے مسائل، پناہ گزینوں کا بوجھ، اور حالیہ دہائیوں میں دہشت گردی کا خطرہ مسلہ رہا ہے۔ صدر زرداری کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اب اپنے دفاعی اختیارات کے استعمال میں زیادہ واضح اور بے باک ہو چکا ہے۔ ‎ ‎یہ بیان خاص طور پر اس وقت اہم ہے جب پاکستان کی طرف سے افغان سرحد کے پار "اینٹی ٹیرر آپریشنز" کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ماضی میں پاکستان عموماً ایسی کارروائیوں کی سرکاری تصدیق سے گریزاں رہتا تھا، لیکن اب صدرِ مملکت کی سطح پر اس کی علانیہ حمایت ایک نئے دور کی آمد کا اش...

بھارت بمقابلہ جنوبی افریقہ: ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا سنسنی خیز تقابل

Image
 ٹی ٹوئنٹی کرکٹ موجودہ کھیل کی اسرائیلی شکل ہے جو طاقت اور حکمت عملی اور اعصاب اور لمحاتی فیصلے کو ایک ہی وقت میں چیلنج کرتی ہے۔ بھارت اور جنوبی افریقہ اس تیز ترین فارمیٹ میں جب ایک دوسرے سے کھیلتے ہیں تو یہ مقابلہ ایک میچ سے بڑھ کر کرکٹ فلسفوں کی ٹکر بن جاتا ہے۔ بھارت کی بیٹنگ اپنی گہرائی کے ساتھ اسپن کی پراگندہائی اور اسپن کی نفاست اور ہجوم کی دباؤدوست دھارا پر گاہے بہ گاہے چلتی ہے۔ جنوبی افریقہ کی تیز رفتار اور جسمانی طاقت اور اس کی جارحانہ فیلڈنگدوست ٹی ٹوئنٹی کو ایک مکمل تماشہ بنا دیتے ہیں۔  ‎ ‎بھارت نے گزشتہ ایک دہائی میں ٹی ٹوئنٹی میں اپنی شناخت بطور ایک منظم ڈیٹا ڈرِون اور بیٹنگ فرسٹ ٹیم قائم کی ہے۔ بھارتی ٹیم اپنے اسٹریٹجک کوریڈورز میں اپنی رنریٹنگ کو بڑھانے کے لئے پاورپلے کو استعمال کرنا چاہئے جبکہ مڈل اوورز میں اسپن کے ذریعے اپنی حکمت عملی کی گرفت برقرار رکھنی چاہئے اور وہ اپنے فنشرز کی مدد سے آخری اوورز میں میچ ختہار ہونا چاہئے۔ جنوبی افریقہ نے اپنے آپریشنز میں زیادہ سیدھی حکمت عملی اپنائی جس میں تیز گیندبازوں کے ذریعے دباؤ ڈالنا اور کیچز کے ذریعے مواقع پیدا کرنا ا...

پاکستان کا افغانستان میں حملہ، درجنوں ہلاک اور زخمی

Image
 پاکستان کی طرف سے افغانستان پر ہونے والے مبینہ حملے کی اطلاعات نے موجودہ کٹھن حالات کو داخل ایک نیا مرحلہ۔ یہ واقعہ آپنے دو ممالک کی روابط کو آپنے دو ممالک کی سرحدی سکیورٹی آپنے دو ممالک کی دہشت گردی جنگ کو متاثر کرتا۔  ‎ ‎اپنے ادارتی مواد کے مطابق اس حادثے کو تحقیق کرنے کے لیے ادارتی مواد کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے آپس میں رشتے ہمیشہ سے رہے ہیں۔ جغرافیہ اور تاریخ اور قبائلی نظام اور مہاجرین کے مسائل موجود ہیں۔ دوسری طرف سرحد پار دہشت گردی کے نقصانات اور عالمی طاقتوں کے مفادات کی عدم موجودگی۔ حالیہ واقعہ اسی پیچیدہ پس منظر میں سامنے آیا ہے, جہاں ایک کارروائی نے کئی سوالات اور خدشات کو جنم دیا ہے. ‎ ‎پس منظر اور فوری تناظر ‎ ‎پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات بڑھ چکے ہیں, جن کا اصل مرکز افغانستان کے اندر موجود ہے. اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا ہے۔ کابل حکام اور طالبان انتظامیہ نے ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان پر خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔  ‎ ‎یہی تضاد حال...

کولمبو کی سرسبز و شاداب فضاؤں میں ایک تاریخی جنگ کا آغاز...

Image
 اسٹیڈیم کا میدان جنگ اب بحفاظت اپنے دوسرے سیشن کی لڑائی کے لیے تیار ہوگیا۔ اسٹیڈیم جس پر امن کی روشنی روشنی کڑتی تھی اب ایم پی اے منتخب اراکان اسمبلی کے انتخابات کو گراں دکھاتا ہے۔ لاکھوں پاکستانی پرچموں نے اسٹیڈیم کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ دیا تھا، جیسے کوئی عظیم الشان تقریب کا آغاز ہو रहा ہو۔ ‎ ‎تاریخی معرکے کی گواہی سورج کی کرنیں سیاہ بادلوں کے پیچھے سے باہر نکلیں۔ 21 فروری 2026 کا دن تھا جس پر T20 ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے کا آغاز ہوا جبکہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان مقابلہ شروع ہوا۔ ‎ ‎ ‎⚡ پہلا منظر: ٹاس کی جنگ اور کپتانوں کا عزم ⚡ ‎ ‎سلمان علی آغا پاکستان کی قیادت سنبھالنے والے کپتان نے سikkے کو ہوا میں اچھالا۔ سikkے نے ان کا ساتھ دیا، اور انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ ان کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو کسی جنگی سپہ سالار کی ہوتی ہے جب وہ میدان جنگ میں قدم رکھتا ہے۔ "ہم اس پچ کو جانتے ہیں،" انہوں نے کہا، "یہ ہمارا گھر ہے۔ ‎ ‎نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن مسکرائے کیونکہ وہ ہمیشہ اپنی دماغی تھنڈ اور دل کی گرمائی کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ ان کی مسکر...

‎یورپ آور امریکی سیاست

Image
  یورپ نے مارکو روبیو کے حالیہ دوٹوک بیانات کا جواب بڑی سوچ سمجھ کر دیا۔ اس میں نہ تو کھلی مخالفت تھی، نہ ہی پوری حمایت۔ یورپی سیاست دانوں نے، حسبِ روایت، ایک درمیانی راہ اپنائی—ایسی حکمت عملی جو یورپی سفارت کاری کی پہچان ہے۔ دیکھیں، یورپ اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ سیدھے سادے نہیں رہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں دونوں ایک صفحے پر تھے، مگر اب سب کچھ اتنا آسان نہیں۔ مفادات، ترجیحات، اور عالمی طاقت کا توازن بدل گیا ہے۔ اس سارے کھیل میں جب روبیو جیسے کسی امریکی سیاست دان کی سخت زبان سامنے آتی ہے، تو یورپی پالیسی سازوں کے لیے معاملہ اور مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر جب بات چین، روس، مشرقِ وسطیٰ، یا نیٹو کے کردار کی ہو—روبیو کے بیانات میں جو تلخی ہے، وہ یورپ کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ایک اور بات، خود یورپ بھی اس وقت اندرونی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ معاشی مسائل، توانائی کا بحران، مہاجرین کی آمد، اور سیاسی شدت پسندی—یہ سب مل کر یورپی اتحاد کو آزمائش میں ڈال چکے ہیں۔ ایسے وقت میں واشنگٹن سے آنے والی کوئی بھی تیز زبان، خاص طور پر اگر اس میں سفارتی لحاظ نہ ہو، فوراً یورپی حلقوں میں تشویش پیدا...

سی ڈی ایف منیر نے میونخ کانفرنس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ اور جرمن رہنماؤں سے ملاقات کی۔

Image
 میونخ میں ہونے والی Munich Security Conference کے دوران جنرل عاصم منیر کی امریکی وزیر خارجہ اور جرمن قیادت سے ملاقاتیں صرف رسمی مصافحے نہیں تھیں۔ یہ اصل میں اس وقت پاکستان کی خارجہ اور سلامتی پالیسی کو عالمی سطح پر واضح اور مضبوط انداز میں پیش کرنے کی سنجیدہ کوششیں تھیں۔ دنیا اس وقت کئی سمتوں سے دباؤ میں ہے — یوکرین کی جنگ، مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال، بڑی طاقتوں کی کشمکش، اور دہشت گردی کے نئے خدشات — یہ سب اس مکالمے کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ اگر وسیع تر منظرنامے میں دیکھیں تو میونخ کانفرنس ہمیشہ سے عالمی سلامتی کے مباحث کا رخ متعین کرنے والا پلیٹ فارم رہی ہے۔ یہاں ہونے والی ملاقاتیں اکثر رسمی اعلانات سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ ان میں اصل میں اسٹریٹجک بھروسہ، خطرات کی مشترکہ تشخیص، اور آئندہ تعاون کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ جنرل عاصم منیر کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی، اور پاکستان کے اندرونی استحکام جیسے اہم معاملات پر گفتگو ہوئی — یہ وہ موضوعات ہیں جو ہمیشہ دونوں ملکوں کے تعلقات کا مرکزی حصہ رہے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کا رشتہ دہائیوں پر م...

بنگلہ دیش میں سیاسی منظرنامے کی بڑی کروٹ: طارق رحمان کی وزارتِ عظمیٰ کی تیاری

Image
 بنگلہ دیش کی سیاست ایک بار پھر ایک دلچسپ موڑ پر آ پہنچی ہے۔ برسوں جلاوطنی، مقدمات، سیاسی تنہائی اور اسٹیبلشمنٹ سے الجھاؤ کے بعد اب لوگ طارق رحمان کو سنجیدگی سے آئندہ وزیراعظم کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ اس تاثر کو حال ہی میں اس وقت مزید تقویت ملی جب جماعتِ اسلامی نے بھی مان لیا کہ آنے والے سیاسی سیٹ اپ میں طارق رحمان کا کردار مرکزی ہو سکتا ہے۔ یہ محض بیان بازی نہیں۔ یہ اصل میں بنگلہ دیش کی سیاست میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کی نشانی ہے۔ برسوں سے اقتدار میں بیٹھی جماعت کے مقابلے میں، اب تک بکھری ہوئی اپوزیشن بھی کچھ حد تک اکٹھی ہوتی نظر آ رہی ہے — اور اس سب کے بیچ طارق رحمان ایک طرح سے اس اتحاد کی علامت بن گئے ہیں۔ طارق رحمان کون ہیں؟ وہ سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش کی ایک بااثر سیاستدان، خالدہ ضیا کے بیٹے ہیں اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی BNP کے قائم مقام چیئرمین بھی ہیں۔ طویل عرصہ سے لندن میں بیٹھ کر پارٹی کے معاملات چلا رہے ہیں۔ ان پر کرپشن اور مختلف مقدمات کے الزامات ہیں، اس لیے وہ متنازع بھی ہیں، مگر BNP کے کارکنوں اور حامیوں کے لیے وہی واحد رہنما ہیں جو پارٹی کو دوبارہ اق...