افغانستان میں پاکستان کی کارروائی کی جڑیں اپنے دفاع کے حق میں ہیں: صدر زرداری
حالیہ دنوں میں صدر آصف علی زرداری کا وہ بیان جو افغانستان میں پاکستان کی کارروائیوں کو "دفاع کے حق" سے جوڑتا ہے، نہ صرف خطے کی سیکیورٹی پالیسی پر گہری چھاپ چھوڑتا ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ اس بیان کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے پس منظر، تاریخی تناظر اور مستقبل کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیں۔ تاریخی پس منظر اور تناظر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں۔ 1947 سے لے کر آج تک، دونوں ممالک کے درمیان سرحد کے مسائل، پناہ گزینوں کا بوجھ، اور حالیہ دہائیوں میں دہشت گردی کا خطرہ مسلہ رہا ہے۔ صدر زرداری کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اب اپنے دفاعی اختیارات کے استعمال میں زیادہ واضح اور بے باک ہو چکا ہے۔ یہ بیان خاص طور پر اس وقت اہم ہے جب پاکستان کی طرف سے افغان سرحد کے پار "اینٹی ٹیرر آپریشنز" کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ماضی میں پاکستان عموماً ایسی کارروائیوں کی سرکاری تصدیق سے گریزاں رہتا تھا، لیکن اب صدرِ مملکت کی سطح پر اس کی علانیہ حمایت ایک نئے دور کی آمد کا اش...