تل ابیب میں ہزاروں نے نیٹنیہو کے غزہ جنگ کو بڑھانے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا

 ‎اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے غزہ جنگ کو توسیع دینے کے فیصلے کے خلاف تل ابیب میں ہونے والے احتجاج کے بارے میں تفصیلی رپورٹ درج ذیل ہے:

‎ 1. احتجاج کا پس منظر اور فوری محرکات

‎- نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ نے 4 اگست 2025 کو غزہ شہر پر مکمل فوجی کنٹرول اور جنگ میں توسیع کا فیصلہ کیا، جسے عوامی سطح پر "انسانی تباہی کو دعوت دینے والا اقدام" قرار دیا گیا ۔

‎- اس فیصلے نے یرغمالیوں کے اہل خانہ اور امن پسند گروپوں کو مشتعل کر دیا، جو 8 ماہ سے زائد عرصے سے جنگ کے خاتمے کی مہم چلا رہے ہیں ۔

‎ 2. احتجاج کی کلیدی خصوصیات

‎- شرکاء کی تعداد: 100,000 سے زائد افراد (بی بی سی کے اندازوں کے مطابق) نے تل ابیب کے ہبیما سکوائر پر اجتماع کیا، جبکہ حیفہ اور یروشلم میں بھی متوازی مظاہرے ہوئے ۔

‎- نعروں کی نوعیت 

‎ - "ہم جنگ ہار چکے - اب امن چاہیے!"

‎ - "یرغمالیوں کی زندگیوں سے کھیلنا بند کرو!"

‎ - "نیتن یاہو استعفیٰ دو!" 

‎علامتی اقدامات: مظاہرین نے یرغمالیوں کی تصاویر والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور کچھ نے خون سے رنگے ہوئے کفن بھی دکھائے ۔

‎ 3. مظاہرین کے بنیادی مطالبات

‎1. فوری جنگ بندی 60 دن کی قابل تجدید جنگ بندی کا مطالبہ، جس میں قطر کی ثالثی میں حماس سے مذاکرات ہوں ۔

‎2. یرغمالیوں کی رہائی: 132 باقی ماندہ یرغمالیوں (جن میں سے 27 کے ہلاک ہونے کا خدشہ) کی غیر مشروط واپسی ۔

‎3. سیاسی تبدیلی نیتن یاہو کی حکومت کے فوری استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ ۔

‎ 4. انسانی بحران کے اعداد و شمار

‎- فلسطینی ہلاکتیں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 61,000+ اموات (70% خواتین اور بچے) ۔

‎- اسرائیلی نقصانات 1,205 ہلاکتیں (7 اکتوبر 2023 کے حملے سمیت) اور 33 فوجیوں کی موت ۔

‎- اقتصادی اثرات اردن جیسے ہمسایہ ممالک میں سیاحتی آمدنی میں 61% کمی ۔

‎ 5. عالمی ردعمل اور سفارتی دباؤ

‎- امریکہ: صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو پر "یرغمالیوں کی رہائی میں ناکامی" کا الزام لگایا ۔

‎- یورپی یونین: جوزف بوریل نے النصیرات کیمپ پر حملوں کو "قتل عام" قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ۔

‎- اقوام متحدہ: انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا کہ غزہ میں "بھوک اور ادویات کی کمی بھی ہلاکتوں کا سبب بن رہی ہے" ۔

‎ 6. اسرائیلی حکومت کا موقف

‎- نیتن یاہو کا اصرار کہ "حماس کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی" ۔

‎- دفاعی وزیر یوآو گیلنٹ کا دعویٰ کہ "یرغمالیوں کو بچانے کے آپریشنز جاری ہیں"، حالانکہ مظاہرین اسے محض پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں ۔

‎ تجزیہ اور مستقبل کے امکانات

‎- داخلی دباؤ: اسرائیل کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین "ہسٹاڈروٹ" کی ہڑتال کی دھمکی نے حکومت کو کمزور کیا ہے ۔

‎- بین الاقوامی ثالثی: قطر اور مصر کی کوششوں کے باوجود جنگ بندی معاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہو سکا ۔

‎- خطرات اگر جنگ جاری رہی تو مغربی کنارے میں تشدد اور لبنان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے بڑھنے کا خدشہ ۔

‎نتیجہ: یہ احتجاج اسرائیلی معاشرے میں گہرے تقسیم کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ایک طرف فوجی حل کے حامی ہیں تو دوسری طرف عوام یرغمالیوں کی زندگیوں اور امن کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں کابینہ کے فیصلہ کن اجلاس اور امریکی مداخلت کے 

‎نتائج اس تنازع کی سمت کا تعین کریں گے۔



Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا