Posts

Showing posts from May, 2026

اسرائیلی فوجیوں نے اسٹریٹجک بیفورٹ کیسل پر قبضہ کر لیا، لبنان میں پیش قدمی تیز

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎جنوبی لبنان کی پہاڑیوں میں واقع تاریخی بیفورٹ کیسل ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے اس اہم اور اسٹریٹجک مقام پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ وہ لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کر رہے ہیں۔ یہ خبر صرف ایک فوجی کارروائی کی اطلاع نہیں بلکہ اس کے ساتھ کئی خدشات، سوالات اور جذبات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ‎ ‎بیفورٹ کیسل ایک قدیم قلعہ ہے جو صدیوں سے علاقے کی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ بلند مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں سے اردگرد کے وسیع علاقے پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوجی نقطۂ نظر سے اس کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہی ہے۔ ‎ ‎جب کسی تنازعے میں ایسے تاریخی اور نمایاں مقامات شامل ہو جاتے ہیں تو خبر کا اثر صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں رہتا۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ جگہ ان کی تاریخ اور شناخت کا حصہ ہوتی ہے۔ اسی لیے اس قلعے پر قبضے کی خبر لبنان کے بہت سے شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ ‎ ‎اسرائیلی فوج کی پیش قدمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پورا خطہ پہلے ہی مختلف بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ غزہ کی صورتحال، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، ...

ٹرمپ نے ایران جنگ بندی پر فیصلہ کرنے کے لیے صورتحال کے کمرے کا اجلاس طلب کر لیا

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎رات کے اندھیرے میں جب وائٹ ہاؤس کے صورتحال کے کمرے کی روشنیاں جلتی ہیں تو دنیا بھر کے لاکھوں دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق جنگ بندی کی صورتحال پر غور کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، اور یہ خبر صرف سیاسی حلقوں میں نہیں بلکہ عام انسانوں کے دلوں میں بھی تشویش پیدا کر رہی ہے۔ ‎ ‎جنگ کا لفظ ہمیشہ خوف لے کر آتا ہے۔ یہ صرف ہتھیاروں کی گھن گرج نہیں ہوتی بلکہ ماں کی بے چینی، بچوں کی سسکیاں اور مستقبل کے خوابوں کا بکھر جانا بھی ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا بوجھ اٹھا چکا ہے، اور وہاں کے لوگ مزید تباہی نہیں چاہتے۔ ‎ ‎آج جب امریکی قیادت ایک اہم فیصلے کے دہانے پر کھڑی ہے تو دنیا دعا کر رہی ہے کہ عقل، بردباری اور امن کو ترجیح دی جائے۔ کیونکہ ایک غلط فیصلہ صرف ایک ملک کو نہیں بلکہ پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ‎ ‎ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات نئے نہیں، مگر ہر تنازعے کے باوجود امید ہمیشہ زندہ رہی ہے۔ امید کہ ایک دن مذاکرات بندوقوں پر غالب آئیں گے، اور سفارت کاری دشمنی کی دیواروں کو گرا دے گی۔ یہی امید آج...

چین کے اعلیٰ سفارت کار کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ امریکہ اور ایران سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے۔ ‎

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں چین کے اعلیٰ سفارت کار کا یہ بیان کہ “امید ہے امریکہ اور ایران کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے” ایک اہم سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بیان محض رسمی سفارت کاری نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ خطہ مزید جنگ، معاشی تباہی اور سیاسی بحران کا شکار نہ ہو۔ ‎ ‎چین نے ہمیشہ خود کو ایک ایسی طاقت کے طور پر پیش کیا ہے جو تنازعات کے بجائے مذاکرات اور سفارتی حل پر یقین رکھتی ہے۔ حالیہ برسوں میں بیجنگ نے نہ صرف معاشی میدان میں اپنی طاقت بڑھائی بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی زیادہ متحرک کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چین کی ثالثی نے دنیا کو حیران کیا تھا۔ اب امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ سمجھوتے کے حوالے سے چین کی دلچسپی ظاہر کرتی ہے کہ بیجنگ خطے میں استحکام کو اپنی معاشی اور سیاسی حکمتِ عملی کے لیے انتہائی اہم سمجھت...

ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں کیا شامل ہے؟

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ صرف چند سفارتی فیصلوں کا رہ گیا ہے۔ ایران سے متعلق جاری کشیدگی، چاہے وہ امریکہ کے ساتھ ہو، اسرائیل کے ساتھ ہو یا خلیجی ممالک کے ساتھ، اب صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور انسانی زندگیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ایسے میں دنیا کی نظریں ان مذاکرات پر جمی ہوئی ہیں جو ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے یا کم از کم کشیدگی میں کمی کا راستہ بن سکتے ہیں۔ ‎ ‎ایران کے حوالے سے جاری مذاکرات میں سب سے اہم نکتہ اس کے جوہری پروگرام کا ہے۔ مغربی ممالک خصوصاً امریکہ اور یورپی طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو محدود کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کی طرف اشارہ دیتے ہوں۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف یہ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت ایٹمی توانائی حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ ‎ ‎یہی اختلاف کئی برسوں سے کشیدگی کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ 2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ امید کی ایک کرن سمجھا گیا تھا...

‎ہرمز میں امریکی حملہ

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎ ‎آج کا مطلع ابر آلود نہیں، بلکہ بارود کی بو سے بوجھل ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)، جو صدیوں سے عالمی معیشت کی شہ رگ اور بین الاقوامی پانیوں کا ایک پرامن راستہ رہی ہے، آج ایک بار پھر خون اور آگ کی لپیٹ میں ہے۔ امریکی عسکری طاقت کے حالیہ حملے نے نہ صرف خطے کے پانیوں کو سرخ کر دیا ہے، بلکہ ان تمام دعووں کی قلعی بھی کھول دی ہے جو عالمی امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے نام پر کیے جاتے تھے۔ ‎ ‎یہ کوئی عام فوجی کارروائی نہیں ہے؛ یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک اور بے قابو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔ جب گرجتے ہوئے امریکی طیاروں اور بحری جہازوں سے داغے گئے میزائل ہرمز کے پانیوں پر گرے، تو ان کا نشانہ صرف چند فوجی یا سٹریٹجک اہداف نہیں تھے، بلکہ اس حملے نے خطے کے کروڑوں انسانوں کے امن، سکون اور مستقبل کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ ‎ ‎طاقت کا تکبر اور مظلومیت کی چیخیں ‎ ‎کسی بھی ملک کی خودمختاری پر اس طرح کا ننگا جارحانہ حملہ کرنا کس قانون کے تحت جائز ہے؟ کیا طاقتور ہونا ہی اس دنیا میں انصاف کا اکلوتا معیار بن چکا ہے؟ عالمی طاقتیں ج...

چین کے ژی نے 'اٹوٹ' تعلقات کی تعریف کی، وزیر اعظم شہباز سے ملاقات کے دوران ایران امن کوششوں میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎ ‎عالمی سیاست میں بعض تعلقات وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتے ہیں، لیکن کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر آزمائش کے بعد مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اور چین کا تعلق بھی انہی لازوال رشتوں میں شمار ہوتا ہے، جسے دونوں ممالک کی قیادت اکثر “آہنی بھائی چارہ” اور “اٹوٹ دوستی” قرار دیتی ہے۔ حالیہ ملاقات میں چینی صدر Xi Jinping نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم Shehbaz Sharif بھی موجود تھے، جبکہ گفتگو میں خطے کی سیکیورٹی، معاشی تعاون اور ایران سے متعلق امن کوششوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ‎ ‎چینی صدر نے خاص طور پر ایران کے معاملے میں پاکستان کے مثبت اور متوازن کردار کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی فضا قائم رکھنے کے لیے نہایت ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ مسلسل تناؤ کا شکار ہے، پاکستان نے ایک ایسے ملک کے طور پر خود کو پیش کیا ہے جو تصادم کے بجائے امن، مذاکرات اور سفارتی ...

آبنائے کھولنے کے لیے ٹرمپ کو مشکل ترین مسائل کو بعد میں چھوڑنا پڑا

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎دنیا کی سیاست میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو وقتی طور پر کامیابی کا راستہ تو کھول دیتے ہیں، مگر ان کے اثرات مستقبل میں بڑے بحرانوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ سابق امریکی صدر Donald Trump کی خارجہ پالیسی بھی کچھ ایسی ہی پیچیدگیوں سے بھرپور رہی۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں ان کی حکمتِ عملی نے کئی مواقع پر فوری نتائج تو دیے، لیکن بنیادی مسائل کو مکمل طور پر حل کرنے کے بجائے مؤخر کر دیا گیا۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی اور عالمی تجارت کو لاحق خطرات کے دوران بھی یہی منظرنامہ دیکھنے میں آیا۔ ‎ ‎آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے گزرنے والا تیل اور گیس عالمی معیشت کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو نہ صرف تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں بلکہ دنیا کی بڑی معیشتیں بھی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھی تو عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ‎ ‎اس صورتحال میں ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ آیا طاقت کا استعمال...

کیلیفورنیا کیمیکل لیک ہونے سے 40,000 سے زیادہ ‎افراد کو نکالا گیا کیونکہ حکام نے ٹینک پھٹنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎امریکہ کی ریاست California ایک بار پھر ایک بڑے صنعتی حادثے کے باعث شدید تشویش کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جہاں ایک کیمیکل پلانٹ سے خطرناک مادے کے اخراج کے بعد چالیس ہزار سے زائد افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب متعلقہ کیمیکل ٹینک کے پھٹنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا، جس کے بعد پورے علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔ ‎ ‎یہ واقعہ صرف ایک مقامی حادثہ نہیں بلکہ جدید صنعتی دنیا کے اُن خطرات کی یاد دہانی بھی ہے جنہیں اکثر ترقی، پیداوار اور معاشی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے فوراً بعد فضا میں دھوئیں کے گہرے بادل چھا گئے، سائرن بجنے لگے اور لوگوں کو گھروں سے نکلنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ کئی خاندان صرف چند منٹوں میں اپنا ضروری سامان اٹھا کر محفوظ علاقوں کی طرف روانہ ہوئے۔ ‎ ‎مقامی حکام نے بتایا کہ متاثرہ پلانٹ میں ایسے کیمیکلز موجود تھے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ٹینک پھٹ جاتا تو زہریلی گیسوں کا اخراج وسیع پیمانے پر انسانی جانوں کے ...

آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے، ایران سے یورینیم واپس لے لیں گے، ٹرمپ

Image
 آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس کو بحرِ عرب سے ملانے والی یہ تنگ سمندری پٹی عالمی تیل تجارت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق اور قطر کی توانائی برآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً ایک تہائی سمندری تیل کی ترسیل اس آبنائے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ ‎ ‎ٹرمپ کے بیان کو صرف ایک سیاسی نعرہ قرار دینا شاید درست نہ ہو، کیونکہ اس کے پیچھے خطے میں جاری وہ کشیدگی موجود ہے جو کئی برسوں سے امریکا اور ایران کے تعلقات کو متاثر کر رہی ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی دنیا کے خدشات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امریکا مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتے ہوئے اپنے پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے۔ ‎ ‎ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے یورینیم ذخائر کا ذکر کر کے دراصل اسی پرانے تنازعے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ ...

پاکستانی وزیر اعظم آئندہ ہفتے چین کا دورہ کریں گے۔

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎دنیا کی سیاست میں بعض دورے صرف سفارتی ملاقاتیں نہیں ہوتے بلکہ وہ مستقبل کی حکمت عملی، معاشی سمت اور علاقائی تعلقات کے نئے باب بھی کھولتے ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم کا آئندہ ہفتے متوقع دورۂ چین بھی ایک ایسا ہی اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے، جس پر نہ صرف اسلام آباد اور بیجنگ بلکہ پورے خطے کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔  ‎ ‎پاکستان اور چین کے تعلقات کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو “آہنی بھائی” قرار دیتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ہر اہم عالمی یا علاقائی صورتحال میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب دنیا نئی سیاسی صف بندیوں، معاشی دباؤ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے، وزیرِ اعظم پاکستان کا چین کا دورہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ‎ ‎سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان معیشت، تجارت، دفاع، سرمایہ کاری اور چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی CPEC کے مستقبل پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ خاص طور پر CPEC کے دوسرے مرحلے پر زور دیا جا رہا ہے، جس میں صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی، زر...

‎پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے۔

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎ ‎دنیا کی سیاست میں بعض فیصلے صرف معاشی نہیں ہوتے بلکہ وہ مستقبل کی سمت کا تعین بھی کرتے ہیں۔ آج جب عالمی معیشت غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے، تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، اور توانائی ہر ملک کی پہلی ترجیح بنتی جا رہی ہے، ایسے میں پاکستان کے لیے روس سے تیل خریدنے کا معاملہ ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ صرف ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، اقتصادی حکمت عملی اور علاقائی توازن کا ایک اہم امتحان بھی بن سکتا ہے۔ ‎ ‎پاکستان کئی برسوں سے توانائی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ مہنگا درآمدی تیل، ڈالر کی کمی، بڑھتا ہوا گردشی قرضہ اور صنعتوں پر پڑنے والا دباؤ حکومت کے لیے مستقل چیلنج بن چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر پاکستان کو نسبتاً سستا روسی تیل میسر آتا ہے تو یہ معیشت کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔ روس دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے نتیجے میں ماسکو نے ایشیائی ممالک کی جانب زیادہ توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ چین اور بھارت پہلے ہی روسی تیل بڑے پیمانے پر خرید رہے ہیں، جبکہ پا...

جیسا کہ ہندوستان، متحدہ عرب امارات آرام دہ ہے، خلیج میں پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوسکتے ہیں۔

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم جیسے جیسے بھارت اور متحدہ عرب امارات قریب آ رہے ہیں، خلیج میں پاکستان کے تعلقات دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں دنیا کی سیاست میں تعلقات کبھی مستقل نہیں ہوتے، بلکہ مفادات کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج خلیجی خطے میں ایک نئی سفارتی صف بندی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت نہ صرف معاشی میدان میں نمایاں ہو رہی ہے بلکہ اس کے سیاسی اور اسٹریٹجک اثرات بھی پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا خلیج میں اس کے روایتی تعلقات پہلے جیسے مضبوط رہ سکیں گے یا وقت کے ساتھ ان میں کشیدگی پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے؟ گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تعلقات کو غیر معمولی انداز میں مضبوط کیا ہے۔ ایک وقت تھا جب خلیجی ممالک کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ دفاعی تعاون، مذہبی ہم آہنگی، فوجی روابط اور لاکھوں پاکستانی محنت کشوں کی موجودگی نے پاکستان اور خلیجی دنیا کو ایک دوسرے کے قریب رکھا۔ مگر اب حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ متحدہ عرب ام...

پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے ایٹمی بجلی گھر پر ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم دنیا ایک بار پھر ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے جہاں ایک معمولی عسکری کارروائی بھی پورے خطے کو بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ حالیہ دنوں متحدہ عرب امارات کے ایک ایٹمی بجلی گھر پر ہونے والے ڈرون حملے نے نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی برادری کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد پاکستان نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حساس تنصیبات، خصوصاً ایٹمی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی سلامتی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں اور ان کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی، پراکسی تنازعات اور سیاسی بے یقینی کا شکار ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ، اسرائیل کی علاقائی حکمت عملی، یمن کی صورتحال اور خلیجی ممالک کے تحفظات نے پورے خطے ...

اسرائیلی دفاعی تنصیب میں دھماکے کے بعد یروشلم کے قریب آگ کا بڑا گولہ دیکھا گیا۔

Image
 اسرائیلی دفاعی تنصیب میں دھماکے کے بعد یروشلم کے قریب آگ کا بڑا گولہ دیکھا گیا۔ ‎بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے منظرنامے کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے جہاں ہر نئی خبر خطے کے امن، عالمی سیاست اور عسکری توازن پر گہرے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق یروشلم کے قریب ایک اسرائیلی دفاعی تنصیب میں زور دار دھماکے کے بعد آسمان پر آگ کا ایک بڑا گولہ دیکھا گیا، جس نے نہ صرف مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا بلکہ عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی۔ ‎ ‎ابتدائی رپورٹس کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فوراً بعد آسمان پر سرخ اور نارنجی شعلوں کا ایک عظیم گولہ ابھرتا دکھائی دیا، جبکہ فضا میں دھوئیں کے گھنے بادل پھیل گئے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دور سے اٹھتے شعلے واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، اگرچہ اسرائیلی حکام نے ان مناظر کی مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں۔ ‎ ‎اسرائیلی فوج کی جانب سے ابتدائی بیان میں کہا گیا کہ واقعے کی تحقی...

ایرانی رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے طریقہ کار کا اعلان کرے گا، فیس جمع کرے گا۔

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎دنیا کی معیشت، عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر ایک حساس موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے ایک رکن کے حالیہ بیان نے نہ صرف خطے میں تشویش کی نئی لہر پیدا کی ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران جلد آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار متعارف کروائے گا، جس کے تحت بحری جہازوں سے فیس وصول کی جا سکتی ہے۔ یہ بیان بظاہر ایک اقتصادی فیصلہ معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں جغرافیائی سیاست، عالمی دباؤ اور طاقت کے توازن کی ایک بڑی کہانی چھپی ہوئی ہے۔ ‎ ‎آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والا تیل اور گیس کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی سمندری تیل تجارت اسی آبنائے سے گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہونے والی معمولی کشیدگی بھی عالمی معیشت پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، اسٹاک مارکیٹس دباؤ میں آ جاتی ہیں، اور عالمی سفارت کاری میں بے چینی پھیل جاتی ہے۔ ‎ ‎...

پاکستان کی ثالثی کے عمل کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن وہ فعال ہے: ایران کا عراقچی

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎دنیا کی سیاست میں بعض اوقات خاموش سفارت کاری، بلند آواز بیانات سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہے۔ ایسے ہی ایک نازک لمحے میں ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے پاکستان کے کردار کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو اگرچہ کئی مشکلات کا سامنا ہے، لیکن اسلام آباد اب بھی سرگرم اور متحرک ہے۔ یہ بیان صرف ایک سفارتی جملہ نہیں، بلکہ اس خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا اعتراف بھی ہے۔ ‎ ‎مشرقِ وسطیٰ اس وقت مسلسل بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، خلیجی ممالک کے تحفظات، اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اقدامات، اور عالمی طاقتوں کی پراکسی سیاست نے پورے خطے کو ایک بار پھر خطرناک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جو نہ صرف دونوں فریقوں سے تعلقات رکھتا ہے بلکہ ایک متوازن سفارتی حیثیت بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ‎ ‎ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تہران پاکستان کی کوششوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ثالثی کا را...