بھارت، چین نے براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے اور کاروباری روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا

 ‎

‎بھارت-چین تعلقات میں نرمی کے اس نئے مرحلے میں سب سے نمایاں پیش رفت براہِ راست پروازوں کی بحالی اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی ہے۔

‎ �� 1. پروازوں کی بحالی:

‎بھارت اور چین کے درمیان کورونا وبا اور 2020 کی سرحدی کشیدگی کے بعد براہِ راست پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔  

‎اب دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جلد ہی دہلی-بیجنگ، ممبئی-شنگھائی اور کولکتہ-گوانگزو جیسی اہم روٹس پر پروازیں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔

‎ایئر انڈیا اور چائنا سدرن ایئرلائنز کو ابتدائی پروازوں کے لیے پیش رفت کا عندیہ دیا گیا ہے، تاہم تاریخ کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

‎ 🔹 2. سرحدی تجارت کی بحالی:

‎تین اہم پاسز کو دوبارہ فعال کرنے کی بات ہو رہی ہے:

‎- نتھو لا (سکم): جو تاریخی طور پر ہندوستان اور تبت کے درمیان تجارتی راستہ رہا ہے  

‎- شپکی لا (ہماچل پردیش): جو کم استعمال ہوا مگر اس کی تجارتی اہمیت بڑھ رہی ہے  

‎- لپی لیکھ (اتراکھنڈ): جسے بھارت-چین-نیپال ٹرائجنکشن کے طور پر جانا جاتا ہے

‎ان علاقوں میں پائلٹ پروجیکٹس کے تحت پھلوں، جڑی بوٹیوں، ٹیکسٹائل اور صنعتی خام مواد کی تجارت کی دوبارہ اجازت متوقع ہے۔

‎ 🔹 3. سرمایہ کاری اور ویزہ پالیسی:

‎نئی پالیسی کے مطابق:

‎- چینی سرمایہ کاروں کو بھارت میں ٹیک، انرجی اور مینوفیکچرنگ سیکٹرز میں دوبارہ مواقع دیے جائیں گے  

‎- بزنس ویزا پراسیسنگ کو تیز اور شفاف بنانے پر اتفاق ہوا ہے  

‎- بھارتی تاجروں اور طلبا کے لیے چینی ویزا عمل کو بھی آسان بنایا جائے گا، خاص طور پر ہنر مند ورک فورس کے لیے

‎یہ تمام اقدامات بھارت-چین سیاسی اعتماد کی تعمیر نو کی کوشش کا حصہ ہیں۔ اگر یہ عمل کامیابی سے آگے بڑھا، تو جنوبی ایشیا میں اقتصادی انضمام اور 

‎علاقائی استحکام کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا