بھارت کے لداخ میں ریاست کے حصول کے لیے ہونے والے احتجاجات مہلک ہو گئے

 ‎لداخ میں ریاستی درجے کے مطالبے پر احتجاجات، جھڑپوں میں ہلاکتیں

‎لیہہ/نئی دہلی — بھارت کے زیرِانتظام لداخ میں ریاستی درجے اور آئینی تحفظات کے مطالبے پر ہونے والے عوامی احتجاجات مہلک صورت اختیار کر گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے۔

‎مظاہرین لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے، زمین اور روزگار پر مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ اور چھٹے شیڈول کے تحت آئینی ضمانتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور لداخ کو مرکز کے زیرِانتظام خطہ بنانے کے بعد مقامی لوگوں کے سیاسی و معاشی مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

‎احتجاج کی قیادت مذہبی رہنماؤں اور مقامی تنظیموں کے اتحاد نے کی، جو طویل عرصے سے دہلی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ تاہم، عوامی بے چینی بڑھنے کے بعد احتجاجی لہر میں شدت آئی۔

‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لداخ میں یہ بحران بھارت کے لیے اسٹریٹجک چیلنج ہے، کیونکہ یہ خطہ نہ صرف چین کے ساتھ متنازع سرحد کے قریب واقع ہے بلکہ ماحولیاتی اور عسکری لحاظ سے بھی حساسیت رکھتا ہے۔

‎بھارتی حکام نے حالات پر قابو پانے کے لیے اضافی فورسز تعینات کر دی ہیں، مگر مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا