برازیل میں ریو ڈی جنیرو میں پولیس کے سب سے بڑے اور مہلک چھاپے کے بعد کم از کم 121 افراد ہلاک ہو گئے
برازیل میں، ریو ڈی جنیرو کی تاریخ کے سب سے بڑے اور مہلک ترین پولیس چھاپے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 132 ہوگئی ہے۔ یہ کارروائی منشیات اور جرائم پیشہ گروہوں کو نشانہ بنا کر کی گئی تھی۔
تفصیلات:
تاریخ اور مقام: یہ پولیس آپریشن 28 اکتوبر 2025 کو شروع ہوا اور ریو ڈی جنیرو کے فویلاز (کچی آبادیوں) میں، خاص طور پر Complexo do Alemão اور Penha میں، جاری رہا۔
ہلاکتیں: ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 4 پولیس افسران بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر شہری اور مشتبہ افراد مارے گئے۔ مرنے والوں کی تعداد پہلے 64 بتائی گئی تھی، لیکن بعد میں رہائشیوں کی جانب سے مزید درجنوں لاشیں ملنے کے بعد یہ تعداد 132 تک جا پہنچی۔
مقصد: اس آپریشن کا مقصد ریڈ کمانڈ نامی ایک طاقتور منشیات فروش گروہ کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔
کارروائی میں شامل قوتیں: اس آپریشن میں تقریباً 2500 پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا، جن میں فوجی پولیس اور خصوصی دستے شامل تھے، اور انہوں نے بکتر بند گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کیا۔
الزامات اور ردعمل:
انسانی حقوق کی تنظیموں اور رہائشیوں نے پولیس پر "بےدریغ قتل عام" کا الزام لگایا ہے۔ رہائشیوں کے مطابق، یہ آپریشن نہیں تھا، بلکہ "سیدھے قتل کرنے آئے تھے"۔
پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے افراد مجرم تھے۔
برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے ہلاکتوں کی تعداد پر صدمے کا اظہار کیا ہے۔
یہ آپریشن برازیل میں جرائم کے خلاف انتہائی تشدد آمیز کارروائیوں کی ایک اور مثال ہے، جس نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق بین الاقوامی تشویش کو جنم دیا ہے۔

Comments