ٹرمپ نے 30 سالوں میں پہلی بار جوہری ہتھیاروں کی جانچ دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 30 اکتوبر 2025 کو ایک حیران کن اعلان میں محکمہ دفاع کو ہدایت کی کہ وہ روس اور چین جیسے دیگر جوہری طاقتوں کے تجربات کے جواب میں فوری طور پر جوہری ہتھیاروں کا تجربہ دوبارہ شروع کرے۔ یہ فیصلہ 33 سال کے وقفے کے بعد سامنے آیا ہے، جب امریکہ نے 1992 میں جوہری دھماکوں کے تجربات پر رضاکارانہ پابندی عائد کی تھی۔
ہدایت کے پیچھے کی وجوہات اور پس منظر:
روس اور چین کے تجربات: ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ "دیگر ممالک کے تجرباتی پروگراموں کی وجہ سے، میں نے محکمہ جنگ کو ہمارے جوہری ہتھیاروں کا تجربہ مساوی بنیادوں پر شروع کرنے کی ہدایت دی ہے"۔ ان کا اشارہ حال ہی میں روس کے نئے جوہری صلاحیت والے زیرِ آب ڈرون کے کامیاب تجربے اور چین کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں تیزی سے توسیع کی طرف تھا۔
پالیسی میں تبدیلی: یہ فیصلہ امریکہ کی کئی دہائیوں کی جوہری پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔ سرد جنگ کے اختتام کے بعد سے، امریکہ نے بڑے پیمانے پر جوہری دھماکوں کے تجربات سے گریز کیا تھا۔
وقت کا انتخاب: ٹرمپ نے یہ اعلان جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی تجارتی سربراہی اجلاس میں ملاقات سے چند لمحے قبل کیا۔
عالمی ردعمل: اس فیصلے سے ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے اور جوہری پھیلاؤ کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین نے فوری طور پر خبردار کیا کہ اس سے عالمی استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
فیصلے کے ابہام:
جوہری تجربات کی نوعیت: یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ٹرمپ کا مطلب جوہری دھماکے والے تجربات سے تھا یا پھر جوہری ہتھیاروں کے لیے استعمال ہونے والے ڈیلیوری سسٹمز کے فلائٹ ٹیسٹ سے۔ امریکہ پہلے سے ہی باقاعدگی سے غیر مسلح میزائلوں کے تجربات کرتا رہتا ہے۔
ٹرمپ کی اصطلاح: ٹرمپ نے "محکمہ جنگ" (Department of War) کی پرانی اصطلاح استعمال کی، جس سے ان کے حکم کی درستگی اور مقصد کے بارے میں الجھن پیدا ہوئی۔
فی الحال یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ کی انتظامیہ اس ہدایت کو کس طرح عملی جامہ پہناتی ہے اور عالمی سطح پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Comments