اتحادیوں نے اے جے کے کے عدم اعتماد کے ووٹ کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی۔



 پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے موجودہ وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے 

‎ دونوں جماعتوں کے درمیان جاری سیاسی ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے اور اب تحریک عدم اعتماد آئندہ چند روز میں آزاد کشمیر اسمبلی میں جمع کرائی جائے گی۔

‎منصوبے کی تفصیلات:

‎تحریک جمع کرانے کا وقت: دونوں جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کو جلد از جلد، ممکنہ طور پر آئندہ 24 سے 48 گھنٹے کے اندر، آزاد کشمیر اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

‎ن لیگ کا تعاون: مسلم لیگ (ن) نے تحریک کی حمایت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن اس شرط پر کہ وہ آزاد کشمیر میں جلد انتخابات کرانے کے حق میں ہیں ۔

‎نئے وزیر اعظم کے امیدوار: پی پی پی نے چوہدری یاسین کو ممکنہ نئے وزیر اعظم کے طور پر نامزد کیا ہے ۔

‎عددی قوت: پی پی پی کو اس وقت 37 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے شامل ہونے والے 10 منحرف قانون ساز بھی شامل ہیں۔ یہ تعداد عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرانے کے لیے کافی ہے 

‎ن لیگ کے وزراء کا استعفیٰ: ذرائع کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کے وزراء تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد استعفیٰ دے دیں گے اور اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں گے 

‎اس پیش رفت کا مقصد آزاد کشمیر میں جاری سیاسی بحران کو ختم کرنا ہے، جو رواں ماہ کے اوائل میں اس وقت شروع ہوا تھا جب پی ٹی آئی نے موجودہ وزیراعظم کے خلاف اتحاد بنایا تھا 

‎پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے موجودہ وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ دونوں اتحادی جماعتوں کے اراکین نے اس تحریک پر دستخط مکمل کر لیے ہیں اور اسے جلد ہی آزاد کشمیر اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرایا جائے گا۔ 

‎منصوبے کی تفصیلات:

‎تحریک عدم اعتماد پر دستخط: پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے مشترکہ طور پر تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے ہیں۔ اگرچہ تحریک جمع کرانے کے لیے صرف 14 دستخط درکار تھے، دستخط کرنے والے اراکین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

‎مسلم لیگ (ن) کا موقف: مسلم لیگ (ن) نے تحریک کی حمایت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق وہ نئی حکومت میں شمولیت اختیار نہیں کرے گی اور تحریک کی کامیابی کے بعد اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی۔

‎پی پی پی کا امیدوار: پی پی پی نے آئندہ وزیراعظم کے لیے اپنے امیدوار پر مشاورت مکمل کر لی ہے اور اس کا باضابطہ اعلان آج (جمعہ) کو پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پی پی پی کی آزاد کشمیر پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد متوقع ہے۔

‎عددی برتری: پی پی پی کا دعویٰ ہے کہ اسے اس وقت 37 اسمبلی اراکین کی حمایت حاصل ہے، جس میں پی ٹی آئی چھوڑ کر آنے والے 10 قانون ساز بھی شامل ہیں، جو کہ تحریک کی کامیابی کے لیے سادہ اکثریت سے زیادہ ہے۔

‎قانونی تقاضے: عبوری آئین کے تحت، عدم اعتماد کی قرارداد کے ساتھ ہی نئے وزیراعظم کے امیدوار کا نام دینا لازمی ہوتا ہے، اور قرارداد جمع کرانے کے بعد 3 سے 7 دن کے اندر اس پر ووٹنگ ضروری ہے۔ 

‎موجودہ وزیراعظم کا مؤقف:

‎دوسری جانب، موجودہ وزیراعظم چوہدری انوار الحق نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے اور انہوں نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

‎ 

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا