ایران نے امریکی جوہری تجربہ دوبارہ شروع کرنے کے ٹرمپ کے مطالبے کی مذمت کی ہے۔


ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی جوہری ہتھیاروں کا تجربہ فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت کی شدید مذمت کی ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام عالمی امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہے اور اس سے جوہری ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

ایران کے ردعمل کی اہم جھلکیاں:

اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے 30 اکتوبر 2025 کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ٹرمپ کا مطالبہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی ہے، جو کہ عالمی امن کو برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے۔

عالمی برادری سے اپیل: ایران نے عالمی برادری اور خاص طور پر جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے دستخط کنندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس امریکی اقدام کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں اور امریکہ کو اس خطرناک راستے پر چلنے سے روکیں۔

جوہری عدم پھیلاؤ پر اثرات: ایران نے خبردار کیا کہ امریکی اقدام جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کو کمزور کرے گا اور اس سے دیگر ممالک کو بھی جوہری تجربات شروع کرنے کی ترغیب ملے گی، جو خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔

دوغلی پالیسی کا الزام: ایران نے امریکہ پر دوغلی پالیسی اختیار کرنے کا الزام لگایا، جس میں امریکہ خود تو جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے لیکن ایران جیسے ممالک کے پرامن جوہری پروگراموں پر پابندیاں عائد کرتا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ ہدایت روس اور چین کے مبینہ جوہری تجربات کے جواب میں دی گئی تھی، جس کے بعد ایران سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کے مطالبے کی شدید مذمت کی ہے۔ 

ایران کا ردعمل:

"جوہری دھونس" کا الزام: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 30 اکتوبر 2025 کی رات ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکہ کو "جوہری ہتھیاروں سے لیس دھونس" قرار دیا اور کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

"غیر ذمہ دارانہ اور رجعتی" اقدام: عراقچی نے ٹرمپ کے اس فیصلے کو "غیر ذمہ دارانہ اور رجعتی" (regressive and irresponsible) قرار دیا اور کہا کہ یہ کئی دہائیوں کی بین الاقوامی سطح پر ہتھیاروں پر کنٹرول کی پیش رفت سے انحراف ہے۔

منافقت کا الزام: انہوں نے واشنگٹن پر منافقت کا الزام لگایا، کیونکہ امریکہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو بدنام کرتا ہے جبکہ خود جوہری تجربات کی تیاری کر رہا ہے۔

عالمی برادری سے مطالبہ: ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ دنیا کو متحد ہو کر امریکہ کو اس کے اس "خطرناک" قدم کے لیے جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ 

پس منظر:

ٹرمپ نے روس اور چین کے مبینہ جوہری تجربات کے جواب میں پینٹاگون کو امریکی جوہری تجربات "فوری طور پر" دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ اقدام 1992 کے بعد امریکہ کی جانب سے پہلا جوہری تجربہ ہوگا، جس نے عالمی سطح پر تشویش اور ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی الزام لگاتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کے قریب ہے۔ 


Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا