غزہ پر اسرائیلی حملے کی لہر کے بعد فلسطینیوں نے جنگ بندی کی امید کھو دی ہے۔
فلسطینیوں کی غزہ میں جنگ بندی سے امیدیں ٹوٹ چکی ہیں، خاص طور پر 29 اور 30 اکتوبر 2025 کو ہونے والے شدید اسرائیلی حملوں کے بعد، جن میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملے اس نازک معاہدے کی ایک بڑی خلاف ورزی تھے، جو 10 اکتوبر 2025 کو شروع ہوا تھا۔
ناامیدی کی اہم وجوہات:
1. شدید حملے اور ہلاکتیں:
اسرائیلی حملے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہلاک ہوئے، نے غزہ میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، غزہ کے ایک رہائشی نے کہا کہ "امن کی ایک مختصر امید بھی مایوسی میں بدل گئی ہے"۔
2. ثالثی کی پوزیشن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اصرار کے باوجود کہ "کچھ بھی" جنگ بندی کو خطرے میں نہیں ڈالے گا، حملوں نے معاہدے کی پائیداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔
قطر جیسے ثالثوں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے، لیکن وہ معاہدے کے اگلے مرحلے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
3. فریقین کے اختلافات:
اسرائیل نے ان حملوں کو ایک اسرائیلی فوجی کی مبینہ ہلاکت کا ردعمل قرار دیا، جس کی حماس نے تردید کی۔
غزہ کے باشندے، جو پہلے ہی دو سال کی جنگ اور بے گھری کا شکار ہیں، اب محسوس کرتے ہیں کہ جنگ بندی صرف ایک دھوکہ تھی۔
4. امن کے لیے بنیادی مسائل کا حل نہ ہونا:
تجزیہ کاروں کے مطابق، جنگ بندی معاہدہ اس وقت تک ٹوٹتا رہے گا جب تک حماس اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن کے لیے بنیادی مسائل، جیسے کہ فلسطینی ریاست اور حماس کا غیر مسلح ہونا، حل نہیں ہو جاتے۔
اس سب کے باوجود، فلسطینی اپنے پیاروں کی تدفین اور ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کا اعتماد اس معاہدے پر سے اٹھ چکا ہے۔

Comments