سوڈان کا سپاہی الفشر میں آر ایس ایف کے قتل عام سے فرار ہونے کا بتا رہا ہے۔
وڈان کے شہر الفاشر میں ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے مبینہ قتل عام اور مظالم سے بچ کر نکلنے والے سوڈانی فوج کے ایک سپاہی نے اپنے ہولناک تجربات بیان کیے ہیں۔
ذاتی گواہی: الجزیرہ (Al Jazeera) کو دیے گئے انٹرویو میں 29 سالہ سپاہی، جس کا نام احمد بتایا گیا ہے، نے کہا کہ اس نے اور اس کے یونٹ کے چند دیگر جوانوں نے شہر سے "فائرنگ کرتے ہوئے" باہر نکلنے کا راستہ بنایا۔
"کوئی رحم نہیں": احمد نے بتایا کہ "آر ایس ایف نے شہریوں کو ہلاک کیا اور ان کی لاشیں سڑکوں پر چھوڑ دیں... انہیں بغیر کسی رحم کے قتل کیا گیا"۔
فوجی انخلا: سوڈانی فوج (SAF) کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے تصدیق کی تھی کہ فوج نے شہریوں کے قتل عام کو روکنے کی امید میں شہر سے انخلا کر لیا تھا، جس کے بعد ہزاروں فوجی اور اتحادی جنگجو آر ایس ایف کے گھیرے میں آ گئے تھے۔
نسل کشی کے الزامات: الفاشر پر RSF کے قبضے کے بعد نسلی بنیادوں پر بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جنہیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے "نسل کشی" قرار دیا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد: مقامی ڈاکٹروں کی تنظیم کے مطابق، الفاشر پر قبضے کے بعد ابتدائی تین دنوں میں کم از کم 1,500 افراد ہلاک ہوئے جن میں ہسپتال کے مریض اور عملہ بھی شامل تھا۔
سیٹلائٹ تصاویر: سیٹلائٹ تصاویر نے اجتماعی قبروں اور خون آلود مقامات کے شواہد دکھائے ہیں، جو ان ہولناک واقعات کی تصدیق کرتے ہیں۔
متاثرین کی حالت: فرار ہونے والے دیگر شہریوں نے بھی راستے میں لاشیں بکھری پڑی دیکھنے اور RSF کی چوکیوں پر لوٹ مار اور تشدد کی کہانیاں بیان کی ہیں۔
RSF کے رہنما جنرل محمد حمدان ڈگلو (حمیدتی) نے الفاشر میں "خلاف ورزیوں" کا اعتراف کیا ہے اور تحقیقات کا وعدہ کیا ہے، جبکہ ان کی فورسز نے ایک مبینہ ذمہ دار جنگجو کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

Comments