ایتھوپیا میں آتش فشاں پھٹنے کے بعد ایئر انڈیا، اکاسا نے پروازیں منسوخ کر دیں۔



 ایتھوپیا کے علاقے عفار میں موجود Hayli Gubbi Volcano نے اتوار، 23 نومبر 2025 کو اپنا دھماکا کیا۔ اس آتش فشاں کی خاموشی تقریباً 10,000 سے 12,000 سال تک برقرار رہی تھی۔

‎پھٹنے کے بعد راکھ اور دھویں کا ایک بڑا بادل تقریباً 14 کلومیٹر (تقریباً 45,000 فٹ) کی بلندی تک اٹھا۔ یہ بادل سمندر پار بحیرہ احمر سے شروع ہوکر یمن اور عمان کی فضاؤں سے گزرتا ہوا مشرق کی سمت شمالی بھارت اور پاکستان تک پہنچ گیا۔

‎ فضائی سفر پر اثر — پروازیں کیوں منسوخ ہوئیں؟

‎راکھ کا بادل — خاص طور پر وہ راکھ جس میں چھوٹے ذرات اور سلفر ڈائی آکسائیڈ شامل ہوتے ہیں — ہوائی جہاز کی انجن اور هوائی نظام کے لیے بہت خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ یہ انجن کی کارکردگی متاثر کر سکتے ہیں یا انجن فیل ہونے کا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے بین الاقوامی فضائی ادارے اس قسم کی راکھ والے بادلوں سے پروازوں کو روکنے کی سفارش کرتے ہیں۔ 

‎جیسا کہ ماضی میں بھی دیکھا گیا — مثلاً 2010 میں یورپ میں Eyjafjallajökull کے پھٹنے کے بعد ہزاروں پروازیں منسوخ ہو گئی تھیں۔ 

‎🛑 Air India اور Akasa Air نے کیا فیصلہ کیا؟

‎Air India نے پیر اور منگل کو کم از کم 11 پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ ان طیاروں کا انتخاب احتیاطی معائنے (precautionary inspections) کے لیے کیا گیا، خاص طور پر وہ جہاز جو متاثرہ فضائی راستوں سے گزرے تھے۔ 

‎Akasa Air نے مشرقِ وسطیٰ (Middle East) کے راستوں پر چلنے والی پروازیں — جن میں جدہ (Jeddah)، کویت (Kuwait) اور ابوظہبی (Abu Dhabi) شامل ہیں — منسوخ کر دیں۔ 

‎دونوں ایئرلائنز نے بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد مسافروں اور عملے کی حفاظت ہے، اور یہ فیصلہ انڈیا کے سول ایوی ایشن ریگولیٹر Directorate General of Civil Aviation (DGCA) کی ہدایات کے تحت کیا گیا۔ 

‎ کیوں یہ منسوخیاں صرف بھارت تک محدود نہیں؟

‎چونکہ راکھ کا بادل سمندر اور خلیج عبور کرکے شمالی بھارت اور پاکستان کی فضائی حدود تک پہنچا تھا، اس لیے فضائی سفر متاثر ہوا۔ 

‎بڑے ہوائی راستے — خاص طور پر ہندوستان اور خلیجی ممالک کے درمیان — جو راکھ کے بادل سے گزرتے تھے، ان پروازوں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا۔ اس لیے Akasa جیسی ایئرلائنز نے خلیجی پروازیں منسوخ کیں۔ 

‎ مسافروں اور ایئرلائنز پر اثرات

‎مسافروں کو یا تو دوبارہ بکنگ کی پیشکش کی گئی، یا فل ریفنڈ کی سہولت دی گئی (خاص طور پر Akasa Air کی خلیجی پروازوں کے لیے)۔ 

‎ایئرلائنز نے احتیاطی معائنہ اور راکھ کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں تاکہ طیاروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ 

‎اس واقعے سے یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ فضائی سفر کا انحصار صرف موسم یا ٹریفک پر نہیں ہوتا — قدرتی آفات جیسے آتش فشاں بھی عالمی فضائی نیٹ ورکس کو متاثر کر سکتی ہیں۔

‎ مستقبل کی پیش گوئی اور اقدامات

‎ماہرین کا کہنا ہے کہ راکھ بادل رفتہ رفتہ منتشر ہو رہا ہے — India Meteorological Department (IMD) کے مطابق اس بادل کے شمالی بھارت اور پاکستان سے گزرنے کے بعد تیزی سے تحلیل ہونے کا امکان ہے۔ 

‎فضائی اتھارٹیز اور ایئرلائنز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان صورت حال میں ہوشیار رہیں، اور راکھ والے علاقوں کے راستوں سے پروازیں مؤخر کریں یا متبادل راستے استعمال کریں۔ 

‎مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ سفر سے پہلے اپنی ایئرلائن سے رابطہ کریں اور موجودہ فلائٹ شیڈول کی تصدیق کریں۔ 

‎یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرتی آفات — چاہے وہ زلزلہ ہوں، طوفان ہوں، یا آتش فشاں — صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ فضائی راستوں، بین الاقوامی سفر اور عالمی لاجسٹکس کو متاثر کر سکتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا