اہم ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہے۔
اسلام آباد — ملک کی دفاعی اور سیاسی سُلطنتوں میں اُس وقت بے چینی اور قیاس آرائیاں بڑھ گئیں جب چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے عہدے کے لیے رکھی گئی سرکاری ڈیڈ لائن ختم ہوگئی، لیکن حکومت نے ابھی تک کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔یہ تاخیر نہ صرف ملک کے دفاعی نظام میں موجود اہم خامیوں کو اجاگر کرتی ہے، بلکہ اس سے حکومت کی سطح پر جاری مشاورت اور ممکنہ اختلافات کا بھی پتہ چلتا ہے۔
ڈیڈ لائن کیوں اہم تھی؟
حکومت نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ نئی چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری 30 نومبر تک ہر صورت مکمل کر لی جائے گی، تاکہ کمانڈ اور کوآرڈی نیشن کے سلسلے میں تسلسل برقرار رہے۔ موجودہ چیف کی ریٹائرمنٹ، اس کے بعد عبوری کمانڈ اور خطے میں درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر یہ فیصلہ انتہائی اہمیت رکھتا تھا۔
تاہم مقررہ تاریخ کے گزرنے کے باوجود اب تک نہ ہی نئے سربراہ کے نام کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے، جس سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
سرکاری سطح پر خاموشی
وزارتِ دفاع اور وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے جانے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سرکاری ذرائع خاموشی کو "معمول کی مشاورت" کا حصہ قرار دے رہے ہیں، تاہم غیر سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد کے اندر اس معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق چند اتحادی جماعتیں اپنے پسندیدہ امیدواروں کے نام آگے بڑھا رہی ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم کے قریبی مشیر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تعیناتی صرف میرٹ اور سینیارٹی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
سینیارٹی لسٹ اور ممکنہ امیدوار
مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس وقت تین نام سینیارٹی اور تجربے کے لحاظ سے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ تاہم حکومت اب تک اس بارے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی کہ ان میں سے کون ملک کے دفاعی اداروں کی مشترکہ قیادت سنبھالنے کے لیے بہترین انتخاب ہوسکتا ہے۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض اہم وفاقی وزراء دو ناموں پر بیک وقت اتفاق نہیں کر پا رہے، جس کی وجہ سے سمری آگے بڑھنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کی تشویش
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق CDF جیسے اہم ترین عہدے پر تاخیر سے کئی ادارہ جاتی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ یہ عہدہ تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطے، اسٹریٹجک پلاننگ اور بین الاقوامی دفاعی تعاون کے بنیادی ڈھانچے کو مربوط کرتا ہے۔
ایک سابق سینیئر افسر نے کہا:
> "یہ تاخیر یقینی طور پر ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔ ایسے اہم عہدے کے خالی رہنے سے اداروں کے اندر فیصلہ سازی متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے کی صورتحال غیر یقینی ہے۔"
سیاسی حلقوں میں بحث
سیاسی جماعتوں اور مبصرین کے درمیان بھی اس معاملے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ اپوزیشن حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کر رہی ہے کہ حکومت فیصلہ کرنے سے قاصر ہے اور یہ تاخیر انتظامی کمزوریوں کو نمایاں کرتی ہے۔
ایک اپوزیشن رکن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا:
> "یہ ملک کے سب سے اہم عہدوں میں سے ایک ہے۔ اگر حکومت اس پر بھی بروقت فیصلہ نہیں کر سکتی تو باقی قومی معاملات کیسے چلائے گی؟"
حکومتی وزراء اس تاثر کی تردید کر رہے ہیں اور اس معاملے کو معمول کی مشاورت کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
عوامی اور میڈیا ردعمل
میڈیا پر بھی اس معاملے نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ مختلف پروگراموں میں تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا حکومت فیصلہ کرنے میں واقعی مشکل کا شکار ہے یا پھر پسِ پردہ کوئی بڑی سیاسی مشاورت یا تبدیلی زیرِ غور ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی عوام اس معاملے پر ردعمل دے رہے ہیں۔ بہت سے صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر اہم عہدوں پر تقرری میں غیر ضروری تاخیر ہو گی تو اداروں کی فعالیت اور ملکی سلامتی کے بارے میں کیا پیغام جائے گا؟
ممکنہ وجوہات — اندرونی ذرائع کا مؤقف
کچھ باخبر حلقے یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ حکومت نے دو سروسز چیفس سے مشاورت مکمل کر لی ہے لیکن ایک اہم عسکری شخصیت بیرونِ ملک دورے پر ہیں، جس کی وجہ سے معاملہ سست روی کا شکار ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
مزید یہ کہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم اس تقرری کو خطے میں موجود سفارتی صورتحال سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ نئے CDF کی تقرری کے ساتھ ایک مضبوط پیغام جائے۔
آنے والے چند دن اہم
اگرچہ حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ “تکنیکی مراحل” میں ہے اور آئندہ چند دنوں میں پیشرفت کا امکان ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ تاخیر کی اصل وجہ کیا ہے اور آیا فیصلہ متفقہ ہوگا یا اکثریت کی بنیاد پر۔
نتیجہ
اہم ڈیڈ لائن کے گزرنے کے باوجود چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی نہ ہونا حکومتی مشینری کے بارے میں کئی اہم سوالات پیدا کر رہا ہے۔ موجودہ صورتحال سیاسی، دفاعی اور ادارہ جاتی حلقوں میں غیر یقینی کو جنم دے رہی ہے۔
اب تمام کی نظریں وزیرِ اعظم آفس پر ہیں کہ وہ کب اور کس نام پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں۔ آنے والے چند دن نہ صرف اس اہم عہدے کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے بلکہ شاید ملکی سیاسی کسرت میں بھی ایک نئی سمت متعین کریں گے۔

Comments