افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے الزامات کی تردید — ترجمان پاک فوج
اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے حوالے سے افغان طالبان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ترجمان پاک فوج (DG ISPR) کے مطابق افغانستان میں کسی بھی قسم کی فضائی کارروائی کا دعویٰ "حقائق کے منافی، بے بنیاد اور گمراہ کن" ہے۔
پس منظر
گزشتہ روز افغان میڈیا اور طالبان ترجمانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ نے سرحدی علاقوں میں کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر کچھ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ یہ دعوے سوشل میڈیا اور افغان سرکاری چینلز پر بھی گردش کرتے رہے۔
تاہم پاکستان نے ان تمام اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور کسی بھی ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مؤقف
افواجِ پاکستان کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا:
پاکستان نے افغانستان میں کوئی فضائی کارروائی نہیں کی۔
سرحد کے دونوں جانب امن و استحکام کے لیے پاکستان مسلسل ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ جھوٹے الزامات کے بجائے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔
ترجمان کے مطابق پاکستان دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، اور اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان میں منظم ہے اور وہاں سے پاکستان پر حملے کر رہی ہے۔
پاکستان کا مطالبہ
پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ باغیوں، دہشت گرد گروہوں اور ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق اپنی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
افغانستان کا ردِ عمل
افغان طالبان حکام نے پاکستانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ برقرار رکھا ہے کہ حملے سرحد پار سے کیے گئے۔ تاہم انہوں نے اس کی کوئی ویڈیو یا قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے۔
ماہرین کا تجزیہ
علاقائی ماہرین کے مطابق:
گزشتہ کچھ ماہ سے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے،
دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ پاکستان کی تشویش کی بنیادی وجہ ہے،
دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی بڑھنے سے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات دونوں ممالک میں غلط فہمیاں بڑھا سکتے ہیں، جبکہ اصل ضرورت دہشت گردی کے مسئلے کو مل کر حل کرنے کی ہے۔
پاکستان کا اعادہ
پاکستانی عسکری ترجمان نے واضح کیا ہے کہ:
پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان چاہتا ہے،
پاکستان کسی بیرونی مداخلت کا خواہش مند نہیں،
لیکن وطن کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

Comments