دبئی شو تیجس لڑاکا حادثہ



 ‎دبئی ایئر شو ہمیشہ سے اس علاقے کی سب سے بڑی فضائی اور دفاعی نمائش کا مقام رہا ہے، جہاں مختلف ممالک اپنے جدید طیارے، دفاعی نظام، ٹیکنالوجی اور ہوا بازی سے متعلق مصنوعات پیش کرتے ہیں۔ 2025 کے شو میں بھی عیدانہ سرگرمیاں جاری تھیں، لیکن ایک افسوسناک واقعہ نے تقریب کو متاثر کر دیا۔—بھارتی ساختہ تیجس لائٹ کومبیٹ ایئرکرافٹ (LCA Tejas) ایک فضائی مظاہرے کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا۔ یہ واقعہ نہ صرف شو کے شرکاء بلکہ عالمی دفاعی ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

‎حادثہ کیسے پیش آیا؟

‎عینی شاہدین کے مطابق تیجس اپنے ڈسپلے فلائٹ کے دوران تیز رفتار چڑھائی اور رول مینُور کر رہا تھا کہ اسی دوران اچانک طیارے نے غیر معمولی انداز میں جھٹکا لیا اور اس کا توازن بگڑ گیا۔ پائلٹ نے طیارے کو سنبھالنے کی بھرپور کوشش کی مگر وہ کنٹرول برقرار نہ رکھ سکا، جس کے بعد طیارہ چند سیکنڈ تک غیر مستحکم پرواز کرتا رہا اور آخرکار رن وے سے کچھ فاصلے پر زمین سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔

‎خوش قسمتی سے پائلٹ نے وقت رہتے ایجیکشن سیٹ استعمال کر لیا اور معمولی زخمی حالت میں محفوظ باہر نکل آیا۔ ایمبولینس اور ریسکیو ٹیمیں چند لمحوں میں موقع پر پہنچ گئیں جبکہ حادثے کی جگہ کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا۔

‎ابتدائی تحقیقات کیا کہتی ہیں؟

‎دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور بھارتی ایرو ناٹیکل انجینئرنگ ٹیم نے مشترکہ طور پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر درج ذیل امکانات پر غور کیا جا رہا ہے:

‎1. تکنیکی خرابی:

‎کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے طیارے کے انجن یا فلائٹ کنٹرول سسٹم میں اچانک ناکامی پیش آئی ہو۔ تیجس کے بارے میں پہلے بھی مختلف رپورٹس میں فنی مسائل کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے، خاص طور پر اس کے انجن اور اسٹرکچرل لیمیٹیشنز سے متعلق۔

‎2. پائلٹ ایرر:

‎چونکہ ایئر شو میں پائلٹس اکثر حد سے زیادہ کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے بعض تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ غلط زاویے یا رفتار کے ساتھ مینُور کرنے سے طیارہ اسٹرکچرل اسٹریس برداشت نہ کر سکا اور失控 ہوگیا۔

‎3. ماحولیاتی عوامل:

‎اس وقت ہوا کی رفتار میں اچانک تبدیلی یا تیز جھونکا بھی طیارے کی غیر مستحکم پرواز کی وجہ ہو سکتا ہے۔ مگر اس امکان کو فی الحال کمزور قرار دیا جا رہا ہے۔

‎بھارتی ردِعمل

‎بھارت کی وزارتِ دفاع نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹ کی بہادری قابلِ تعریف ہے، اور واقعے کی مکمل تحقیقات سے پہلے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ بھارتی میڈیا نے بھی ابتدا میں اسے "چھوٹا تکنیکی مسئلہ" قرار دیا، مگر سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد بھارتی مقامی دفاعی حلقوں میں تیجس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

‎بھارتی فضائیہ نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کے وقت تیجس MK1A ورژن نہیں بلکہ پرانے ورژن کا طیارہ پرفارم کر رہا تھا، جس کے حوالے سے پہلے ہی کئی تکنیکی شکایات موجود رہی ہیں۔

‎عالمی ردِعمل اور دفاعی ماہرین کی رائے

‎بین الاقوامی ایوی ایشن ماہرین نے واقعے کے بعد تیجس کی سیفٹی ریکارڈ پر دوبارہ بحث شروع کر دی ہے۔ بھارت کئی سالوں سے تیجس کو عالمی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر حادثات اور تکنیکی مسائل کے باعث یہ ابھی تک کسی بڑی برآمدی کامیابی سے محروم ہے۔

‎ماہرین کا کہنا ہے کہ:

‎اگرچہ ہر جدید لڑاکا طیارے کے ساتھ حادثات کا خطرہ موجود رہتا ہے،

‎مگر ایک بڑے بین الاقوامی ایئر شو میں ایسا واقعہ ہونا بھارت کے دفاعی تشخص کے لیے دھچکہ ہے۔

‎خریدار ممالک عام طور پر ایئر شو میں طیارے کی کارکردگی سے متاثر ہو کر معاہدے کرتے ہیں، جبکہ اس قسم کے حادثات اعتماد کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

‎کچھ دفاعی تجزیہ کاروں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس حادثے کا اثر مستقبل میں تیجس کے ممکنہ خریداروں جیسے ملائیشیا، مصر اور فلپائن کی دلچسپی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

‎دبئی ایئر شو انتظامیہ کی کارروائی

‎ایئر شو انتظامیہ نے فوری طور پر اگلی چند پروازوں کو ملتوی کر دیا اور حادثے کی جگہ کا معائنہ کیا۔ خوش قسمتی سے حادثے کے وقت زمین پر کوئی موجود نہ تھا، جس کی وجہ سے کسی جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔

‎انتظامیہ نے کہا کہ:

‎شو کے باقی حصے معمول کے مطابق جاری رہیں گے،

‎مگر حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں،

‎اور دیگر ممالک کو ہدایت کی گئی ہے کہ طیاروں کے تکنیکی معائنے کو مزید جامع بنایا جائے۔

‎پاکستانی حلقوں میں دلچسپی کیوں بڑھی؟

‎پاکستانی دفاعی مبصرین اور عوام کے درمیان یہ خبر اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنی کہ پاکستان کا اپنا لڑاکا طیارہ JF-17 تھنڈر انہی ایئر شوز میں کامیاب اور مستحکم پرفارمنس دکھاتا رہا ہے۔

‎JF-17 کی ایک خاص بات یہ ہے کہ:

‎اس کا حادثاتی ریکارڈ بہت کم ہے،

‎طیارہ دنیا کے کئی ممالک میں دلچسپی کا مرکز ہے،

‎اور اس کی اپ گریڈ شدہ بلاک-3 ورژن جدید ترین ریڈار اور میزائل ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔

‎اسی لیے پاکستانی حلقے تیجس کے حادثے کو دونوں طیاروں کے موازنہ میں ایک اہم نکتہ سمجھ رہے ہیں۔

‎نتیجہ

‎دبئی ایئر شو میں تیجس کا حادثہ ایک افسوسناک مگر اہم واقعہ ہے جس نے بھارتی دفاعی صنعت کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ حتمی نتائج تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گے، مگر اس واقعے نے ایک دفعہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ جدید لڑاکا طیاروں کی تیاری محض ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں بلکہ قابلِ اعتماد انجنئرنگ، سخت حفاظتی معیارات اور مسلسل ٹیسٹنگ کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

‎بھارت کو اب نہ صرف اس حادثے کی وجوہات تلاش کرنا ہوں گی بلکہ عالمی برادری کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے مزید شفاف، محفوظ اور تکنیکی طور پر مضبوط پروگرام کی جانب بڑھنا ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا