جنوبی سپین میں تیز رفتار ٹرین کے حادثے میں 39 افراد ہلاک ہو گئے۔
جنوبی اسپین کی ایک تیز رفتار مسافر ٹرین اچانک پٹری سے اتر گئی اور اس حادثے نے سب کچھ بدل دیا۔ کم از کم 39 لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ ٹرین میڈرڈ سے سیویل جا رہی تھی۔ حادثہ اندلوسیا کے ایک دیہی علاقے میں پیش آیا، جہاں ٹرین ایک تیز موڑ پر بے قابو ہوکر الٹ گئی۔
ٹرین میں اس وقت 300 سے زیادہ مسافر موجود تھے۔ حادثہ ہوتے ہی پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ مقامی لوگ فوراً مدد کو پہنچ گئے اور اپنی طاقت کے مطابق زخمیوں کو نکالنے لگے۔ کچھ ہی دیر میں پولیس، ریسکیو ٹیمیں، فائر بریگیڈ اور ایمبولینسیں بھی وہاں پہنچ گئیں۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ کئی ڈبے مکمل طور پر تباہ ہوچکے تھے، اس لیے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔ کچھ لوگ تو ٹرین کے ملبے میں پھنس گئے تھے، جنہیں بھاری مشینری سے نکالا گیا۔ سب زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ کئی کی حالت ابھی بھی تشویشناک ہے۔
حادثے کی وجوہات کیا تھیں؟
اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے مکمل تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔ ابھی کے لیے، تیز رفتاری، ٹیکنیکل خرابی یا سگنلنگ سسٹم کی ناکامی کو ممکنہ سبب مانا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں۔
ریلوے انتظامیہ نے بتایا کہ جہاں حادثہ ہوا، وہاں رفتار کی حد مقرر تھی۔ اب یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ٹرین اس حد سے زیادہ تو نہیں جا رہی تھی۔ ٹرین کا بلیک باکس بھی مل گیا ہے، جس کے ڈیٹا سے حقیقت سامنے آئے گی۔
ملک بھر میں سوگ
اس حادثے کے بعد اسپین بھر میں سوگ کی فضا ہے۔ وزیر اعظم نے مرنے والوں کے لواحقین سے افسوس کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ پورے ملک میں ایک دن قومی سوگ منایا جائے گا۔ سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں رہیں گے۔
شاہ فلپ ششم نے بھی اس حادثے کو قوم کے لیے بڑا صدمہ قرار دیا، اور کہا کہ ریاست متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ یورپی یونین کے کئی رہنماؤں نے بھی اسپین کے ساتھ یکجہتی دکھائی اور تعزیتی پیغامات بھیجے۔
عینی شاہدین کی زبانی
حادثہ دیکھنے اور بچ جانے والوں کے بیانات دل دہلا دینے والے ہیں۔ ایک مسافر نے کہا، "اچانک زبردست جھٹکا لگا، اور ٹرین بے قابو ہو گئی۔ لوگ چیخ رہے تھے، ہر طرف دھواں اور ملبہ تھا۔ کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ ہوا کیا ہے۔"
ایک اور شخص نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد کچھ ڈبوں میں آگ لگ گئی تھی۔ خوش قسمتی سے فائر بریگیڈ نے بروقت پہنچ کر آگ بجھا دی، ورنہ نقصان اور زیادہ ہو جاتا۔
ریل نیٹ ورک اور حفاظتی سوالات
اس حادثے نے اسپین کے جدید ریل نیٹ ورک پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ اسپین کا ہائی اسپیڈ ریل سسٹم یورپ میں بہترین سمجھا جاتا ہے، پھر بھی ماضی میں کچھ بڑے حادثے ہو چکے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے سفر کو بہتر تو بنایا ہے، لیکن انسانی غلطی یا سسٹم کی کوتاہی اب بھی خطرہ بنی رہتی ہے۔
کئی ٹرانسپورٹ ماہرین نے زور دیا ہے کہ حادثے کے بعد ریلوے کی حفاظت کا مکمل جائزہ لیا جائے، خاص طور پر تیز موڑوں اور رفتار کنٹرول سسٹم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مرنے والوں کے لواحقین کو مالی امداد دی جائے گی۔ زخمیوں کے علاج کے تمام اخراجات ریاست اٹھائے گی۔ نفسیاتی مدد کے لیے بھی خصوصی ٹیمیں بنائی گئی ہیں تاکہ متاثرہ مسافروں اور خاندانوں کو اس صدمے سے نکلنے میں سہولت ہو۔
جب ریسکیو آپریشن مکمل ہو گا تو متاثرہ ٹریک کی مرمت شروع کر دی جائے گی، لیکن حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک اس روٹ پر ٹرین سروس بند رہے گی۔

Comments