گل پلازہ میں آتشزدگی، جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہوگئی۔ آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے پانچ زندگیاں چھین لیں، اور کئی لوگ اب بھی زخمی حالت میں اسپتالوں میں ہیں۔ شہر کے اس مصروف کاروباری علاقے میں صبح سے ہی افراتفری رہی۔ ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ گھنٹوں سے آگ بجھانے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر اندر کا گھنا دھواں، تنگ راستے اور ہر طرف آتش گیر سامان ان کے لیے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
پہلی اطلاع اس طرح ملی کہ پلازہ کی اوپر والی منزل پر یا تو کسی گودام یا دفتر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ نے پلک جھپکتے ہی باقی حصے بھی لپیٹ میں لے لیے۔ اس وقت دکانیں کھلی تھیں اور لوگ اندر موجود تھے۔ آگ دیکھتے ہی خوف پھیل گیا، لوگ بھاگنے لگے۔ کچھ نے بالکونیوں اور کھڑکیوں سے خود کو بچانے کی کوشش کی، لیکن کئی لوگ دھوئیں کے باعث بے ہوش ہو گئے۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ دو افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ تین زخمی اسپتال جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔ باقی زخمیوں کو نزدیکی سرکاری اور نجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ کچھ کی حالت اب بھی نازک ہے۔ ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ زیادہ تر زخمیوں کو یا تو دھواں لگنے سے یا جلنے سے نقصان پہنچا ہے۔
فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے کئی فائر ٹینڈرز منگوائے گئے۔ آس پاس کی عمارتیں بھی خالی کروا لی گئی ہیں تاکہ آگ مزید نہ پھیلے۔ ایک افسر نے بتایا کہ پلازہ میں فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات نہیں تھے، اور ایمرجنسی راستے بھی کم تھے، جس کی وجہ سے کارروائی میں تاخیر ہوئی۔ پھر بھی ٹیمیں پوری کوشش کر رہی ہیں کہ آگ پر قابو پا لیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ جیسے ہی آگ لگی، بجلی چلی گئی، پورا پلازہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔ لوگ گھبرا گئے، سانس لینا مشکل ہو گیا۔ دکانداروں نے اپنے کپڑے منہ پر باندھے اور باہر نکلنے کی کوشش کی۔ کچھ لوگوں کو ریسکیو اہلکاروں نے سیڑھیوں اور لفٹرز کی مدد سے بحفاظت نکال لیا۔
ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ آگ لگنے کی وجہ جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ کو وجہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن حتمی رپورٹ بعد میں آئے گی۔ انتظامیہ نے پلازہ مالکان کو بھی طلب کر لیا ہے اور فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس کا ریکارڈ مانگ لیا ہے۔
وزیراعلیٰ اور اعلیٰ حکام نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی اور زخمیوں کو بہتر علاج دینے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی پیکج پر بھی سوچ بچار شروع کر دی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ شہر کی کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی کے اصولوں پر سختی سے عمل ہونا لازم ہے۔ آگ بجھانے والے آلات، ایمرجنسی راستے، دھواں نکالنے کا نظام، اور فائر ڈرلز نہ ہونے سے ایسے واقعات میں جانی نقصان بڑھ جاتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ شہر بھر کی کمرشل عمارتوں کا ہنگامی آڈٹ کیا جائے۔
ادھر ریسکیو اہلکار اب بھی اندر پھنسے لوگوں کی تلاش میں ہیں۔ تھرمل کیمرے اور حفاظتی آلات استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ اگر کوئی بچا ہو تو اسے فوراً نکالا جا سکے۔ فائر بریگیڈ نے کہا ہے کہ جب تک آگ مکمل طور پر بجھ نہیں جاتی، عمارت کو محفوظ نہیں کہہ سکتے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر سب کو یاد دلا گیا ہے کہ فائر سیفٹی صرف کاغذی خانہ پوری نہیں، بلکہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے۔ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہو اور آئندہ اس طرح کے حادثات سے بچنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

Comments