ایرانی بدامنی میں کم از کم 5,000 افراد ہلاک، اہلکار کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی جانب سے پھانسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے


 
یہ رپورٹ ایران کی حالیہ بدامنی اور مظاہروں کی اصل تصویر سامنے لاتی ہے۔ ایک حکومتی اہلکار نے بتایا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والی جھڑپوں اور ریاستی طاقت کے استعمال سے کم از کم 5,000 افراد مارے جا چکے ہیں، اور عدلیہ نے پھانسیوں کا اشارہ بھی دیا ہے۔ اس رپورٹ میں ہم پس منظر، ہلاکتوں کی تفصیل، عدالتی بیانات، حکومت اور مظاہرین کی باتیں، انسانی حقوق کی صورتحال اور بین الاقوامی ردعمل سب کھول کر بیان کر رہے ہیں۔

‎ایران میں یہ احتجاج دسمبر 2025 کے آخر میں شروع ہوئے۔ آغاز میں لوگ مہنگائی، معاشی بدحالی اور بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے، لیکن یہ تحریک جلد ہی حکومت مخالف رنگ اختیار کر گئی۔ مظاہرے صرف تہران تک محدود نہیں رہے۔ پورے 31 صوبے اس لہر میں شامل ہو گئے، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں عام ہوگئیں۔

‎حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ بند کر دیا، سیکیورٹی فورسز کو تعینات کیا اور میڈیا پر سخت پابندیاں لگا دیں۔ اس سب نے خبریں اور معلومات پہنچنا مشکل بنا دیا۔

‎ایک ایرانی حکومتی اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ اب تک کم از کم 5,000 افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں تقریباً 500 سیکیورٹی اہلکار بھی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بیرونی طاقتیں اور مسلح گروہ اس تشدد کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حکومتی نمائندے نے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا برملا اعتراف کیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ معاملہ صرف بدامنی نہیں، بلکہ ایک بڑے انسانی المیے میں بدل چکا ہے۔

‎انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ڈاکٹروں کی رپورٹیں تو اس سے بھی کہیں زیادہ خوفناک اعداد و شمار دے رہی ہیں — کچھ ذرائع کے مطابق 12,000 سے 16,000 تک لوگ مارے جا چکے ہیں۔ لیکن حکومت ان اعداد کو تسلیم نہیں کرتی۔

‎ادھر، ایرانی عدلیہ نے بھی احتجاج کرنے والوں کے لیے سخت سزا، بلکہ پھانسی تک کی دھمکی دی ہے۔ عدلیہ کے ترجمان اسغر جہانگیر نے کہا ہے کہ کچھ مظاہرین پر “محارب” یعنی “خدا کے خلاف جنگ” کے الزامات لگ سکتے ہیں، اور اگر یہ الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں پھانسی بھی دی جا سکتی ہے۔

‎حکومت مسلسل دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ احتجاج عام عوام کا نہیں بلکہ مسلح گروہوں اور بیرونی طاقتوں کا کھیل ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور دیگر غیر ملکی عناصر پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ ایران میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ملک کے دشمن اس بحران سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ خود بھی ہزاروں ہلاکتوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔

‎اب بات کرتے ہیں مظاہرین کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف بنیادی انسانی حقوق، آزادی اظہار، معاشی انصاف اور بدعنوانی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ اپنے احتجاج کو پرامن رکھنا چاہتے ہیں، لیکن سیکیورٹی فورسز کے تصادم، براہ راست گولیوں، آنسو گیس اور مار پیٹ سے ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ کچھ ڈاکٹروں اور مقامی ذرائع نے واقعتاً اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مظاہرین کو نشانہ بنا کر گولیاں ماری جا رہی ہیں۔

‎دنیا بھی خاموش نہیں رہی۔ امریکہ، یورپی ممالک اور کئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایرانی حکومت پر شدید تنقید کی ہے اور طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ کچھ ملکوں نے ایران پر مزید پابندیوں کی بات کی ہے، کچھ نے مذاکرات کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے مطالبہ کر رہے ہیں کہ آزاد مبصرین کو ایران جانے دیا جائے اور اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔

‎آخر میں، ایک بات تو واضح ہے — دسمبر 2025 سے شروع ہونے والی یہ بدامنی اب انسانی بحران بن چکی ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق کم از کم 5,000 جانیں جا چکی ہیں، عدلیہ سخت سزائیں دینے کی بات کر رہی ہے، اور ایران اس وقت ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت، مظاہرین، بین الاقوامی تنظیمیں — سبھی اس معاملے میں شدت سے شامل ہیں۔ ایسے میں، ایران کا مستقبل غیر یقینی اور بے حد حساس نظر آتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا