ٹرمپ ڈالر کے تبصرے امدادی ریلی کے طور پر سونا 5,280 ڈالر سے اوپر کا ریکارڈ ہے۔
عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈالر سے متعلق جو تازہ تبصرہ کیا، اس نے بھی کچھ ایسا ہی کیا۔ پہلے ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل تھا، کرنسیوں کی سمت غیر واضح تھی، اور لوگ محفوظ اثاثوں کی طرف لپک رہے تھے۔ ایسے میں ٹرمپ کی بات نے سونے کو ایک نئی رفتار دی، اور اس کی قیمت پہلی بار 5,280 ڈالر فی اونس سے بھی اوپر چلی گئی۔ یہ صرف قیمت کا اتار چڑھاؤ نہیں، بلکہ عالمی معیشت کی نبض پر ایک واضح دباؤ کی علامت ہے۔
ٹرمپ ہمیشہ سے روایتی سیاست دانوں سے ہٹ کر بات کرتے آئے ہیں۔ کبھی وہ ڈالر کی طاقت کو امریکی برآمدات کے لیے مسئلہ بتاتے ہیں، کبھی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ اس بار بھی انہوں نے اشارہ دیا کہ ڈالر کی موجودہ صورت حال خود امریکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ سوچ نئی نہیں، لیکن اس وقت دنیا پہلے ہی غیر یقینی میں پھنسی ہوئی ہے: جغرافیائی کشیدگیاں، قرض کا بوجھ، مہنگائی کا خوف، اور مرکزی بینکوں کی سختیاں۔ ایسے میں ٹرمپ کا بیان جلتی پر تیل کا کام کر گیا۔
سونا ہمیشہ بحران میں لوگوں کی پناہ گاہ رہا ہے۔ جب کرنسیوں پر اعتبار کمزور پڑتا ہے تو لوگ سونے کی طرف لپکتے ہیں۔ ٹرمپ نے ڈالر پر سوال اٹھائے تو منڈیوں نے اسے محض ایک سیاسی بیان نہیں سمجھا، بلکہ اس کے پیچھے مستقبل کی پالیسیوں اور مالی غیر یقینی کی بو بھی محسوس کی۔ نتیجہ؟ سونے کی خریداری میں زبردست اضافہ، اور قیمت نے سب پرانے ریکارڈ توڑ دیے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سونے کی یہ دوڑ صرف قیاس آرائی نہیں۔ پچھلے کچھ سالوں میں مرکزی بینک بھی خوب سونا خرید رہے ہیں۔ خاص طور پر ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں کئی معیشتیں ڈالر پر انحصار کم کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ ایسے میں ٹرمپ کے تبصرے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی۔ یوں سونے کی تیزی اصل میں عالمی مالیاتی نظام پر اعتماد کے بحران کا عکس ہے۔
ڈالر کمزور پڑے یا اس پر سوالات اٹھیں، اس کا اثر صرف امریکہ تک محدود نہیں رہتا۔ ڈالر دنیا کی تجارت اور ذخائر کی ریڑھ کی ہڈی ہے—اس میں معمولی لرزش بھی پوری دنیا میں جھٹکے بھیج دیتی ہے۔ تیل ہو، اجناس ہوں یا قرض، سب اسی سے جڑے ہیں۔ سونے کی قیمت کا 5,280 ڈالر سے آگے نکلنا صاف بتاتا ہے کہ سرمایہ کار مستقبل کے بارے میں پُراعتماد نہیں۔ انہیں افراطِ زر، شرحِ سود میں اتار چڑھاؤ اور سیاسی بے یقینی پر حقیقی تشویش ہے۔
پاکستان جیسے ملکوں کے لیے یہ صورتحال دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف عالمی منڈی میں سونے کی قیمت بڑھنے سے ہمارے زرِمبادلہ کے ذخائر اور مقامی قیمتوں پر دباؤ آتا ہے، جس کا بوجھ عام آدمی اٹھاتا ہے۔ دوسری طرف، یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ عالمی نظام میں آنے والی تبدیلیاں ہمیں اپنی معاشی حکمت عملیوں پر دوبارہ غور کرنے کا موقع دیتی ہیں۔ اگر دنیا ڈالر کے بجائے متبادل اثاثوں کی طرف بڑھ رہی ہے تو ہمیں بھی اپنے ذخائر اور مالی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ایک اور بحث کو جنم دیتے ہیں: کیا سیاست دانوں کے الفاظ کو منڈیوں میں اتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟ حقیقت یہ ہے کہ آج کی منڈیاں صرف اعداد و شمار نہیں دیکھتیں، بیانیہ بھی بہت کچھ بدل دیتا ہے۔ اعتماد ایک نازک شے ہے؛ جب وہ ٹوٹتا ہے تو سونا چمکنے لگتا ہے۔ اس لیے اب ذمہ دارانہ بیان بازی نہ صرف سیاسی اخلاقیات کا سوال ہے، بلکہ عالمی معاشی استحکام کا بھی۔
آخر میں، سونے کا 5,280 ڈالر سے اوپر جانا کوئی وقتی جشن نہیں۔ یہ ایک سنجیدہ وارننگ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، اور ڈالر پر ہر نئی بحث سرمایہ کاروں کو محفوظ پناہ گاہوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اگر بڑی معیشتیں پالیسی میں وضاحت اور استحکام نہ دے سکیں تو یہ ریلی محض ایک سنگ میل نہیں، بلکہ شاید ایک نئے دور کی شروعات ہو—ایسا دور جہاں سونا پھر سے اعتماد کی اصل کسوٹی بن جائے۔

Comments