ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں کئی مدعو رہنما یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کیسے کام کرے گا۔



 ڈونلڈ ٹرمپ نے جب بورڈ آف پیس بنانے کی تجویز دی تو دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ کچھ لوگ اس خیال کو دلچسپ سمجھتے ہیں، لیکن زیادہ تر اب بھی یہ نہیں سمجھ پائے کہ یہ بورڈ اصل میں کرے گا کیا، اس کے اختیارات کہاں تک ہیں، اور یہ چلے گا کیسے۔


ڈاووس، واشنگٹن اور یورپ کے بڑے شہروں میں جب اس بورڈ میں بلائے گئے لوگ آپس میں ملتے ہیں تو وہ کھل کر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ سب کا ایک ہی سوال ہے: یہ بورڈ محض مشورہ دے گا، ثالثی کرے گا، یا پھر امریکہ کی خارجہ پالیسی کا نیا چہرہ بننے جا رہا ہے؟ ایک یورپی سفارت کار نے صاف کہا، ہمیں ابھی تک کچھ پتا نہیں۔


ٹرمپ کے قریبی لوگ کہتے ہیں کہ بورڈ آف پیس انہی جگہوں پر کام کرے گا جہاں روایتی سفارت کاری ناکام ہو چکی ہے۔ جیسے مشرق وسطیٰ، یوکرین، افریقہ کے کچھ حصے، اور ایشیا پیسفک کے حساس علاقے۔ لیکن ناقدین کو شک ہے کہ ٹرمپ کا یہ بورڈ واقعی غیر جانبدار رہے گا یا پھر امریکی مفادات کو ایک نئے طریقے سے آگے بڑھائے گا۔ یہ خدشہ بے بنیاد بھی نہیں، ٹرمپ کی پچھلی پالیسیاں سامنے رکھیں تو سوال ضرور اٹھتے ہیں۔


بورڈ میں شامل کچھ بڑے نام اب تک کنفیوژ ہیں۔ ان کے پاس نہ تو کوئی تحریری چارٹر ہے، نہ فیصلہ سازی کا کوئی واضح طریقہ، نہ فنڈنگ کا کوئی سلسلہ، اور نہ قانونی حیثیت۔ ایک سابق وزیر اعظم نے تو کہہ دیا، ہمیں بلایا تو گیا ہے، مگر ہمیں یہ بھی نہیں بتایا کہ ہماری رائے واقعی سنی جائے گی یا بس رسمی کارروائی ہوگی۔


سیاسی ماہرین اسے ٹرمپ کے اس مزاج کا حصہ سمجھتے ہیں جس میں وہ روایتی اداروں جیسے اقوام متحدہ یا یورپی یونین کو غیر مؤثر مانتے ہیں۔ کچھ مبصرین کو لگتا ہے کہ بورڈ آف پیس ایک متبادل پلیٹ فارم بن جائے گا جہاں ضابطے کم اور ذاتی تعلقات، دباؤ اور ڈیلز زیادہ چلیں گی۔


مگر سب اس سے خوش بھی نہیں۔ یورپی یونین کے ایک رہنما نے کہا، اگر بورڈ واقعی امن چاہتا ہے تو اسے اقوام متحدہ اور موجودہ امن نظام کے ساتھ چلنا ہوگا، نہ کہ ان کے متوازی کوئی نئی دنیا بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ متوازی ادارے اکثر چیزوں کو آسان نہیں بلکہ مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔


مشرق وسطیٰ میں بھی اس بورڈ پر خاص نظر ہے، خاص طور پر غزہ، ایران اور خلیجی تناؤ کے حوالے سے۔ کچھ عرب رہنماؤں کو ڈر ہے کہ ٹرمپ کا بورڈ یہاں کے پیچیدہ مسائل کو چند سودوں میں نمٹا دے گا، اور جو اصل حقائق ہیں، وہ پس منظر میں چلے جائیں گے۔ ایک تجزیہ نگار نے کہا، امن صرف معاہدوں سے نہیں آتا، انصاف اور اعتماد سے آتا ہے — اور فی الحال یہ سب یہاں نایاب ہیں۔


امریکہ کے اندر بھی یہ بورڈ سیاسی بحث کا موضوع ہے۔ ڈیموکریٹس اسے غیر منتخب اور غیر جوابدہ کہتے ہیں۔ ریپبلکنز کے نزدیک یہ ٹرمپ کی جرات مندانہ سوچ کی ایک مثال ہے۔ کچھ کانگریس ارکان یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ بورڈ کے فیصلے امریکی پالیسی پر اثرانداز ہوں گے یا نہیں۔


اس وقت بورڈ آف پیس محض ایک خواب ہے جس کے اردگرد امید اور شک دونوں موجود ہیں۔ زیادہ تر مدعو رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر ٹرمپ واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں کھل کر مقاصد، شفافیت اور بین الاقوامی تعاون دکھانا ہوگا۔ ورنہ یہ بورڈ بھی ایک سیاسی علامت بن کر رہ جائے گا — اور دنیا میں امن کی بجائے ابہام ہی بڑھ جائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا