اسرائیل نیتن یاہو سابقہ اعتراضات کے باوجود ٹرمپ کے 'بورڈ آف پیس' میں شامل ہوں گے۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے، جو پہلے کافی سخت اعتراضات کرتے رہے، اب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال کافی نازک ہے، غزہ میں جنگ کے اثرات ہر طرف پھیل چکے ہیں، اور امریکہ، یورپ، بلکہ خود خطے کے ممالک بھی کسی نئے سفارتی راستے کی تلاش میں ہیں۔
اب یہ ’بورڈ آف پیس‘ آخر ہے کیا؟ ٹرمپ اس فورم کو ایک غیر رسمی مگر اثرانداز مشاورتی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ عالمی تنازعات—خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں—جنگ بندی، سیاسی ڈائیلاگ اور علاقائی استحکام کے لیے ٹھوس تجاویز سامنے آئیں۔ اس بورڈ میں سابق اور موجودہ عالمی رہنما، سفارت کار، سیکیورٹی ماہرین اور کاروباری شخصیات کو مدعو کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ خود اسے اپنی خارجہ پالیسی کی میراث اور اگلے سیاسی سفر کی بنیاد سمجھتے ہیں۔
نیتن یاہو نے شروع میں اس فورم پر کافی اعتراضات کیے۔ ان کے خیال میں بورڈ کے پاس کوئی ادارہ جاتی حیثیت نہیں، اس لیے اس کے فیصلوں کی ساکھ مشکوک ہو سکتی ہے۔ پھر سیکیورٹی کا معاملہ—اسرائیل کے لیے یہ ہمیشہ سب سے اہم رہا ہے، اور غیر رسمی پلیٹ فارم پر حساس معاملات ڈسکس کرنا خطرناک لگتا تھا۔ ان کو یہ بھی خدشہ تھا کہ مختلف طاقتوں کے مفادات یہاں ٹکرا سکتے ہیں، جس سے اسرائیل کا مؤقف کمزور پڑ جائے گا۔ اسی لیے اسرائیلی قیادت نے پہلے اس بورڈ سے دوری اختیار کی۔
مگر اب نیتن یاہو کا رخ بدل گیا۔ کیوں؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو عالمی دباؤ بہت بڑھ گیا ہے، خاص طور پر غزہ جنگ کے بعد۔ اسرائیل پر تنقید ہر طرف سے ہو رہی ہے۔ نیتن یاہو کے لیے ایسے فورم میں شامل ہونا اہم ہو گیا ہے جہاں وہ براہِ راست عالمی بیانیہ متاثر کر سکیں۔ پھر امریکی سیاست کو دیکھیں—ٹرمپ ابھی بھی وہاں ایک بڑی شخصیت ہیں، اور اسرائیل کے لیے امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلق کلیدی ہے۔ ایک اور بات یہ کہ روایتی سفارتی چینل سست اور غیر مؤثر ہو گئے ہیں، تو ’بورڈ آف پیس‘ ایک نیا موقع بن گیا ہے جہاں غیر رسمی مگر اثر انگیز بات چیت ممکن ہے۔
اس بورڈ میں شامل ہو کر اسرائیل کو کئی فائدے مل سکتے ہیں۔ نیتن یاہو کو موقع ملے گا کہ اسرائیل کے سیکیورٹی خدشات اور حماس کے خلاف مؤقف براہِ راست عالمی رہنماؤں کے سامنے رکھیں۔ غیر رسمی سفارت کاری کئی بار باضابطہ مذاکرات کا راستہ کھول دیتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، ٹرمپ سے براہِ راست مکالمہ اسرائیل کے لیے واشنگٹن میں سیاسی سپورٹ مضبوط کر سکتا ہے۔
لیکن سب خوش نہیں ہیں۔ اسرائیل کے اندر اور باہر اس فیصلے پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ فورم اصل میں ٹرمپ کی ذاتی سیاست کا حصہ ہے، کوئی سنجیدہ امن منصوبہ نہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نیتن یاہو کی شمولیت اسرائیل کو مزید متنازع بنا سکتی ہے، اور جب تک فلسطینی قیادت شامل نہیں ہوتی، کسی امن کوشش کی ساکھ مکمل نہیں ہو سکتی۔ کچھ مبصرین تو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ قدم وقتی فائدہ ضرور دے گا، لیکن طویل المدتی امن کے لیے زیادہ پائیدار فریم ورک چاہیے۔
علاقائی ردعمل بھی دلچسپ ہے۔ عرب ممالک اس سب کو محتاط نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ کچھ خلیجی ریاستیں غیر رسمی سفارت کاری کی حامی ہیں، لیکن باقیوں کو ڈر ہے کہ کہیں یہ فورم فلسطینی مسئلے کو نظرانداز نہ کر دے۔ یورپی یونین نے بھی اپنا لہجہ نرم مگر واضح رکھا ہے—شفافیت اور شمولیت پر زور دیا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟ نیتن یاہو کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت علامتی بھی ہے اور عملی بھی۔ اس سے صاف لگتا ہے کہ اسرائیل اب عالمی تنہائی برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں، اور ہر مؤثر پلیٹ فارم آزمانے کو تیار ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ فورم واقعی امن کی طرف لے جائے گا یا بس سیاسی بیانیوں تک محدود رہے گا؟ یہ سب آنے والے مہینوں کی بات چیت، شرکاء کی سنجیدگی، اور حالات کے مطابق فیصلوں پر منحصر ہے۔
فی الحال، نیتن یاہو کا یہ قدم سفارتی شطرنج کے کھیل میں ایک نیا موو ضرور ہے۔ یہ موو کھیل کا رخ بدل دے گا یا نہیں—یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

Comments