امریکی آرماڈا، ایرانی بحران اور پاکستان کے لیے لمحۂ فکریہ



 ڈونلڈ ٹرمپ نے جب یہ دعویٰ کیا کہ امریکی آرماڈا مشرق وسطیٰ کا رخ کر رہا ہے، اس وقت ایران میں مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ چکی تھی۔ یہ محض ایک سابق صدر کی سیاسی للکار نہیں تھی، بلکہ دنیا کی ایک ایسی تصویر سامنے آئی جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ ایران میں انسانی بحران اور ساتھ ساتھ فوجی طاقت کا اشارہ پھر سے مشرق وسطیٰ کو غیر یقینی کی طرف دھکیل رہا ہے۔


پاکستان کے لیے یہ سب کچھ نیا نہیں ہے۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے—ہماری سرحدیں جڑی ہیں، برسوں پرانی تاریخ، مذہب، اور معیشت کے رشتے ہیں۔ ایران میں عدم استحکام صرف وہاں کا مسئلہ نہیں بنتا۔ اس کے اثرات ہماری سرحدی سیکیورٹی، مہاجرین کے دباؤ، فرقہ واریت اور پورے خطے کے توازن پر پڑتے ہیں۔ اس لئے ہم اس ساری عسکری ہلچل کو بس دور بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے۔


ایران میں احتجاج اور ریاستی ردعمل اب کھلا انسانی بحران بن چکے ہیں۔ سینکڑوں نہیں، ہزاروں لوگ جان سے گئے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ دنیا چپ نہ بیٹھے، بلکہ ذمہ داری اٹھائے۔ پاکستان کی نظر میں، اس مسئلے کا حل نہ تو فوجی دباؤ میں ہے اور نہ ہی کسی جنگی بیڑے میں۔ اصل راستہ سیاست اور سفارت کاری میں ہے۔ پچھلے تجربے بتاتے ہیں کہ باہر سے فوجی مداخلت نے ہمیشہ معاملات کو اور الجھایا ہے، سلجھایا نہیں۔


ٹرمپ کی زبان، امریکی آرماڈا جیسے الفاظ، ایران کے سخت گیر حلقوں کو مزید اکسا سکتے ہیں۔ اس سے پورا علاقہ ایک نئے تنازعے کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی اور بدامنی کی بھاری قیمت پہلے ہی چکائی ہے، اس لئے ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جنگ کبھی سرحد نہیں دیکھتی۔ افغانستان، عراق اور شام کی مثال سامنے ہے—جہاں نسل در نسل صرف عدم تحفظ اور بدحالی بڑھتی گئی۔


ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ توازن، مذاکرات اور سفارت کاری پر چلی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جب بھی کشیدگی بڑھی، ہم نے ہمیشہ تحمل اور مکالمے کو ترجیح دی۔ پاکستان کسی فریق کے ساتھ فوجی مہم جوئی میں شامل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کے نتائج سیدھے ہمارے اپنے امن اور معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔


ایک اور اہم بات فرقہ وارانہ حساسیت ہے۔ ایران میں شیعہ اکثریت ہے، اور مشرق وسطیٰ میں فرقہ وارانہ سیاست کا پھیلاؤ پاکستان کو پہلے بھی متاثر کرتا رہا ہے۔ کسی نئی جنگ یا کشیدگی سے ہمارے ہاں بھی سماجی ہم آہنگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی لیے ہمارے لیے امن، استحکام اور غیر جانب دارانہ سفارت کاری صرف اصولی موقف نہیں—یہ ہماری ضرورت اور مفاد ہے۔


معیشت کی بات کریں تو وہ بھی خطرے میں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ ہوئی تو تیل کی قیمتیں، عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی سب متاثر ہوں گی۔ پاکستان پہلے ہی معاشی دباؤ میں ہے، مزید عالمی جھٹکے برداشت نہیں کر سکتا۔ تیل مہنگا ہوا، ترسیلات پر اثر آیا، یا علاقائی تجارت رک گئی تو ہماری مشکلات اور بڑھ جائیں گی۔


ایسے میں اقوام متحدہ، او آئی سی اور علاقائی فورمز کا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ سرگرم سفارت کاری کے ذریعے ایران میں انسانی بحران روکنے، تشدد ختم کرنے اور سیاسی حل کے لیے کھل کر آواز اٹھائے۔ خاموشی یا غیر واضح موقف نہ صرف اخلاقی طور پر کمزوری دکھاتا ہے، بلکہ کل کو ہمارے لیے مسائل بھی کھڑے کر سکتا ہے۔


آخر میں، ٹرمپ کا بیان پھر یاد دلاتا ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا مظاہرہ اب بھی اکثر خطرناک راستہ بنتا ہے۔ پاکستان کے لیے سبق سیدھا ہے: امن، برداشت اور بات چیت ہی وہ طریقے ہیں جو خونریزی روک سکتے ہیں۔ اگر ایران میں بہتا خون اور امریکی بیڑوں کا دباؤ آپس میں ٹکرا گیا تو یہ آگ صرف تہران یا واشنگٹن تک نہیں رہے گی—اسلام آباد بھی اس کی زد میں آئے گا۔


ایسے نازک موقع پر پاکستان کے لیے یہی عقل مندی ہے کہ وہ جنگ کی نہیں، امن کی بات کرے؛ طاقت کے نہیں، انسانیت کے ساتھ کھڑا ہو؛ اور اشتعال کے بجائے استحکام کا راستہ اپنائے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا