ایران نے ہرمز کی مشقوں پر فضائی انتباہ جاری کیا ہے کیونکہ امریکہ نے فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔
ایران نے جب آبنائے ہرمز میں مشقوں کے دوران فضائی انتباہ جاری کیا اور امریکہ نے اسی وقت اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا، تو خطے کی کشیدہ فضا میں ایک اور سنجیدہ موڑ آ گیا۔ یہ صرف خلیجی ممالک کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے تشویش کی بات ہے۔ اس سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتیں اور سفارتی توازن سب کچھ متاثر ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز ویسے بھی دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے۔ یہاں سے ایک تہائی عالمی تیل گزرتا ہے۔ ایران نے اس حساس علاقے میں فوجی مشقیں کرکے اور فضائی انتباہ دے کر سیدھا پیغام دیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کا جواب دینا جانتا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ نے مزید بحری جہاز، لڑاکا طیارے اور دفاعی نظام لا کر بتا دیا ہے کہ وہ ایران کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اصل میں یہ طاقت کی نمائش کی ایک خطرناک دوڑ ہے۔ ایران کھل کر یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا خودمختاری کو چیلنج کیا گیا، تو وہ آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانے یا بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قسم کی دھمکیاں ایران پہلے بھی دیتا آیا ہے، لیکن اس بار بات زبانی بیانات سے آگے بڑھ چکی ہے۔
امریکہ کے لیے معاملہ صرف ایران کو روکنے کا نہیں۔ وہ اپنے اتحادیوں—خاص طور پر خلیجی ممالک اور اسرائیل—کو بھی یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ اس کی طاقت اب بھی برقرار ہے۔ لیکن سوال یہی ہے کہ کیا اس طرح کا فوجی دباؤ واقعی خطے میں استحکام لائے گا یا سب کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر لے آئے گا؟
دیکھا جائے تو سب سے بڑا نقصان خود خطے کے ملکوں کا ہے۔ کوئی بھی فوجی تصادم یا آبنائے ہرمز میں رکاوٹ تیل کی قیمتوں کو اوپر لے جائے گی، اور سب سے پہلے اس کا اثر کمزور معیشتوں پر پڑے گا۔ پاکستان جیسے ملک، جو پہلے ہی معاشی اور توانائی کے بحران سے گزر رہے ہیں، اس صورت حال میں اور زیادہ مشکلات کا شکار ہوں گے۔
ایران کے لیے بھی یہ راستہ آسان نہیں۔ طاقت کے ذریعے دباؤ بڑھانے سے وقتی فائدہ شاید مل جائے، لیکن براہ راست تصادم کی صورت میں اس کے سیاسی اور اقتصادی نقصانات کہیں زیادہ ہوں گے۔ مزید پابندیاں، سفارتی تنہائی اور اندرونی بے چینی جیسے مسائل ایران کے لیے لمبے عرصے تک درد سر بن سکتے ہیں۔
امریکہ کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ اس نے اب تک خطے میں طاقت کے استعمال سے کیا حاصل کیا ہے؟ عراق، افغانستان اور لیبیا کی مثالیں سب کے سامنے ہیں—جہاں فوجی مداخلت نے امن کے بجائے مزید مشکلات پیدا کیں۔ اگر واشنگٹن واقعی امن چاہتا ہے تو اسے سفارت کاری کو سنجیدگی سے لینا پڑے گا، صرف ایک ثانوی آپشن کے طور پر نہیں۔
عالمی برادری، خاص طور پر اقوامِ متحدہ اور بڑی طاقتوں پر اب یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کریں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ بات چیت اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ طاقت کی نمائش وقتی فائدہ دے سکتی ہے، لیکن اصل امن صرف بات چیت، بھروسے اور باہمی مفادات کی پہچان سے ہی ممکن ہے۔
آخر میں، آبنائے ہرمز میں جاری یہ کشیدگی پھر سے یہ حقیقت سامنے لے آئی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست نے پورے خطے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اگر دونوں جانب کی قیادت نے برداشت اور دانشمندی نہ دکھائی اور سفارتی راستہ اختیار نہ کیا تو اس آگ کی لپیٹ میں صرف ایران یا امریکہ نہیں، پوری دنیا آ سکتی ہے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اور آبنائے ہرمز کی سلامتی پوری دنیا کے امن سے جڑی ہوئی ہے—اسے خطرے میں ڈالنا کسی کے حق میں نہیں۔

Comments