عون کی تنگی: روزانہ اسرائیلی حملے اور حزب اللہ کا غیر مسلح کرنے سے انکار



 لبنان کے صدر میشل عون ایک بار پھر دباؤ میں ہیں، اور اس بار معاملہ صرف سیاست کا نہیں، ہر طرف سے مشکلیں بڑھ چکی ہیں۔ جنوبی لبنان میں روزانہ اسرائیلی حملے ہو رہے ہیں۔ فضائی اور زمینی دونوں طرف سے، اور صاف لگ رہا ہے کہ ملک کی خودمختاری داؤ پر ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ اس کی مزاحمت ہے، اور یہ بات ریاست کے اختیار اور قومی سلامتی کے بیانیے کو کمزور کرتی جا رہی ہے۔ عون کے لیے اب یہ چیلنج صرف حکومت چلانے کا نہیں رہا بلکہ پورے لبنان کے مستقبل کا سوال بن گیا ہے۔


اسرائیلی حملوں نے لبنان کو ایک “کم شدت جنگ” کے حالات میں دھکیل دیا ہے۔ سرحدوں پر روز بمباری ہوتی ہے، ڈرونز آتے ہیں، توپیں چلتی ہیں۔ انفراسٹرکچر برباد ہو رہا ہے، اور لوگوں میں خوف بیٹھ گیا ہے۔ اسرائیل ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ وہ حزب اللہ کی سرگرمیوں کے خلاف دفاع کر رہا ہے، مگر اصل میں اس سب کا بوجھ لبنانی ریاست اور اس کے لوگ اٹھا رہے ہیں۔ صدر عون کے لیے بھی مشکل یہ ہے کہ لبنانی فوج، جو کاغذ پر واحد قانونی طاقت ہے، کھل کر اسرائیل کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں۔


حزب اللہ اب ریاست کے اندر ایک اور ریاست جیسا کردار نبھا رہی ہے۔ اس کے پاس نہ صرف اسلحہ ہے بلکہ سیاست میں بھی اس کے ہاتھ مضبوط ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جب تک اسرائیل حملے کرتا رہے گا، وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ اس دلیل کو لبنان کے کئی حلقے پسند بھی کرتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو اسرائیل کو ہمیشہ ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جب کسی غیر ریاستی گروہ کے پاس اسلحے کا فیصلہ کرنے کا حق ہو، تو ریاست کی خودمختاری کمزور ہو جاتی ہے۔


یہی وہ جگہ ہے جہاں صدر عون پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر وہ حزب اللہ پر زور دیں کہ وہ ہتھیار ڈال دے، یا کم از کم اپنی عسکری سرگرمیوں کو ریاست کے اختیار میں لے آئے، تو انہیں اندرونی مخالفت، حکومتی اتحاد ٹوٹنے، اور شاید خانہ جنگی جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر وہ اس معاملے پر خاموش رہیں یا حزب اللہ کے مؤقف کو قبول کر لیں، تو مغربی ممالک اور عالمی برادری لبنان کو غیر ذمہ دار ریاست سمجھنے لگتی ہے۔ پھر معاشی پابندیاں، امداد میں کمی، اور سفارتی تنہائی جیسے مسائل سامنے آ جاتے ہیں۔


اسی دوران لبنان پہلے ہی شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ کرنسی زمین بوس ہو چکی ہے، بینکنگ سسٹم تقریباً ختم ہو گیا ہے، اور ریاستی خدمات کا حال سب کے سامنے ہے۔ ایسے میں اسرائیلی حملے اور حزب اللہ کا ہتھیار نہ ڈالنا، حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاری ختم ہے، سیاحت دم توڑ چکی ہے، اور نوجوان بڑی تعداد میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ صدر عون کے لیے یہ سب کچھ اب صرف خارجہ یا سکیورٹی کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ ملک کے اندر استحکام کا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔


علاقائی سیاست نے بھی حالات کو اور گھمبیر کر دیا ہے۔ ایران، جو حزب اللہ کا سب سے بڑا حمایتی ہے، لبنان کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور اس کے اتحادی حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم مانتے ہیں۔ اس کشمکش میں لبنان پھر پراکسی سیاست کا میدان بنتا جا رہا ہے۔ صدر عون نے اقوام متحدہ یا یورپی ملکوں سے مدد مانگنے کی کوشش کی، لیکن اسرائیلی حملے رک نہ سکے۔


اب سوال یہ ہے کہ لبنان کے پاس کون سا راستہ ہے؟ ایک آپشن یہ ہے کہ ریاست سب کو ساتھ لے کر ایک قومی دفاعی حکمت عملی بنائے، جس میں حزب اللہ کے ہتھیار فوری طور پر ختم نہ کیے جائیں، بلکہ انہیں ریاست کے دائرے میں لایا جائے۔ لیکن یہ راستہ لمبا اور خطرناک ہے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ عالمی ضمانتوں کے ساتھ اسرائیل سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے، مگر اس کے لیے بھی لبنانی سیاست میں اتفاق رائے چاہیے، جو فی الحال نظر نہیں آتا۔


آخر میں، عون کی مشکل اصل میں لبنان کی مشکل ہے۔ روز کے اسرائیلی حملے اور حزب اللہ کا ہتھیار نہ ڈالنا الگ الگ مسائل نہیں، بلکہ ایک ہی بحران کے دو رخ ہیں۔ جب تک لبنان ایک مضبوط، خودمختار اور متحد ریاست بن کر نہیں ابھرتا، یہ حالات یونہی رہیں گے۔ اور اس سب کا سب سے زیادہ نقصان عام لبنانی شہری کو ہو رہا ہے، جس کے لیے امن اب بس ایک خواب رہ گیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا