ٹرمپ نے ڈیووس میں دستخطی تقریب کے ساتھ 'بورڈ آف پیس' کا آغاز کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران اپنے متنازع اور پُرامید منصوبے ’بورڈ آف پیس‘ کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں دنیا بھر سے رہنما، سفارت کار، کاروباری شخصیات اور میڈیا کے لوگ جمع تھے۔ ٹرمپ نے اس موقع پر صاف کہا کہ دنیا کو اب “طاقت کے توازن کے بجائے امن کے توازن” کی ضرورت ہے، اور یہی اس نئے پلیٹ فارم کا مقصد ہے۔
سب کچھ سادگی سے ہوا، لیکن ماحول میں سیاست کا رنگ واضح تھا۔ اسٹیج پر ایک لمبی میز رکھی تھی جس پر ’بورڈ آف پیس‘ کی دستاویز پڑی تھی۔ ٹرمپ نے دستخط سے پہلے مختصر خطاب میں کہا، “یہ روایتی سفارتی فورم نہیں ہوگا۔ یہاں باتیں کم، فیصلے زیادہ ہوں گے۔” ان کے مطابق، دنیا کے کئی فورمز محض بحث و مباحثے تک محدود رہ گئے اور مسائل حل نہیں ہوئے۔ اس بورڈ کا مقصد عملی نتائج ہے۔
’بورڈ آف پیس‘ کا اصل ہدف دنیا کے بڑے اور پرانے تنازعات پر غیر رسمی اور بااثر سفارتی رابطے بنانا ہے۔ خاص طور پر غزہ، یوکرین، ایران-امریکہ کشیدگی اور کوریا جیسے موضوعات زیرغور آئیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس فورم میں آنے والے لوگ اپنے ملکوں کے نمائندے نہیں بلکہ “امن کے نمائندے” ہوں گے، تاکہ سیاست کے دباؤ سے ہٹ کر کھل کر بات ہو سکے۔
بورڈ میں شامل ہونے والے ممکنہ افراد پہلے ہی بحث کا مرکز بن چکے ہیں۔ کچھ ملکوں نے اس کی حمایت کی، تو کچھ اب بھی تذبذب میں ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے کچھ حلقے فکر مند ہیں کہ یہ فورم اقوام متحدہ جیسے اداروں کی اہمیت کم نہ کر دے۔ ٹرمپ نے ان خدشات کو نظرانداز کیا اور کہا کہ ’بورڈ آف پیس‘ کسی ادارے کا متبادل نہیں، بس ایک “اضافی چینل” ہے۔
تقریب میں ٹرمپ نے بتایا کہ بورڈ کے پہلے اجلاس اگلے کچھ مہینوں میں مختلف علاقوں میں ہوں گے، تاکہ وہاں کے لوگوں کا مؤقف براہِ راست سنا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیووس میں آغاز کا مقصد عالمی توجہ حاصل کرنا تھا، لیکن اصل کام میدان میں جا کر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑی تو خود بھی اجلاسوں میں جائیں گے۔
کچھ ناقدین نے اس پورے منصوبے کو محض سیاسی تشہیر قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں اس کا کوئی واضح قانونی یا آئینی ڈھانچہ نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ پہلے بھی خارجہ پالیسی میں غیر روایتی فیصلے کرتے رہے ہیں، اور ’بورڈ آف پیس‘ بھی اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ ناقدین یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ فورم واقعی کسی مسئلے کو حل کرے گا یا صرف بیانات اور تصاویر تک ہی محدود رہے گا۔
دوسری طرف، ٹرمپ کے حامیوں کو امید ہے کہ روایتی سفارت کاری اپنی جگہ ناکام ہو چکی ہے، اور اب ایسے غیر رسمی اور لچکدار پلیٹ فارمز کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، ٹرمپ کی شہرت اور انداز کچھ ایسے رہنماؤں کو بھی ایک جگہ لا سکتا ہے جو عام حالات میں آمادہ نہیں ہوتے۔ حامی یہ بھی کہتے ہیں کہ ٹرمپ کا کاروباری پس منظر اور “ڈیل میکنگ” کا ہنر شاید امن کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔
ڈیووس میں موجود کئی بین الاقوامی مبصرین نے اس پورے عمل کو “ہائی رسک، ہائی ریوارڈ” کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ’بورڈ آف پیس‘ کسی ایک بڑے تنازع میں بھی پیش رفت کر لیتا ہے تو یہ ٹرمپ کے لیے بڑی کامیابی ہوگی۔ لیکن اگر ناکام ہوا تو مزید تقسیم اور شکوک جنم لے سکتے ہیں۔
تقریب کے آخر میں ٹرمپ نے میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا، “امن کمزوری نہیں، سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر بات کرنا چھوڑ دیں تو جنگیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔” ان ہی الفاظ کے ساتھ ’بورڈ آف پیس‘ نے اپنے سفر کا آغاز کیا، جو اب عالمی سیاست میں ایک نیا اور غیر یقینی مگر پُرکشش باب کھول رہا ہے۔ آنے والے مہینے بتائیں گے کہ یہ بورڈ واقعی امن کی سنجیدہ کوشش بنے گا یا پھر ایک متنازع تجربہ ہی رہ جائے گا۔

Comments