سٹارمر نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس سے کنارہ کشی اختیار کر لی کیونکہ امریکہ اور برطانیہ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔


 
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ “بورڈ آف پیس” سے ہاتھ کھینچ کر واشنگٹن اور لندن کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی تلخی پر ایک صاف پیغام دے دیا ہے۔ اس فیصلے میں صرف برطانیہ کی خارجہ پالیسی کی جھلک نہیں ملتی، بلکہ یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات پھر سے آزمائش میں ہیں۔


سٹارمر کا یہ قدم ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں ٹرمپ کی سیاست ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر چھائی ہوئی ہے۔ “بورڈ آف پیس” کو ٹرمپ نے دنیا میں تنازعات کے حل اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم بتایا تھا، لیکن ناقدین کو یہ زیادہ تر ان کی اپنی سوچ اور یکطرفہ فیصلوں کا ایک اور اظہار لگتا ہے۔ اس بورڈ میں انہیں شفافیت اور عالمی اتفاق رائے کی کمی صاف دکھائی دیتی ہے۔


کیئر سٹارمر نے اس منصوبے سے دور رہ کر واضح کر دیا کہ برطانیہ ایسے کسی فورم کا حصہ نہیں بنے گا جو روایتی سفارتی چینلز یا اقوام متحدہ، نیٹو جیسے اتحادوں کو کمزور کرے۔ لندن کے حکام بار بار یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اجتماعی سفارت کاری، قانون کی بالادستی اور ادارہ جاتی شمولیت ہی برطانیہ کی ترجیح ہے، اور ٹرمپ کا بورڈ ان اصولوں سے میل نہیں کھاتا۔


امریکہ اور برطانیہ کو اکثر “خصوصی تعلق” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، لیکن پچھلے کچھ برسوں میں دونوں میں اختلافات بڑھ گئے ہیں۔ تجارتی پالیسی، ماحولیات، نیٹو کا کردار اور مشرقِ وسطیٰ—ان سب پر دونوں کی سوچ الگ ہے۔ سٹارمر حکومت نے خاص طور پر یورپ کے ساتھ قریبی روابط اور عالمی قوانین کی پاسداری پر زور دیا ہے، جبکہ ٹرمپ کی سیاست میں زیادہ تر قوم پرستی اور یکطرفہ فیصلے نظر آتے ہیں۔


یہ معاملہ صرف بین الاقوامی سیاست تک محدود نہیں۔ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ سٹارمر کو اندرونِ ملک بھی اپنی ساکھ کا خیال تھا۔ لیبر پارٹی چاہتی ہے کہ لوگ اسے ایک ذمہ دار اور سنجیدہ جماعت کے طور پر دیکھیں، جو عالمی اصولوں کی حمایت کرتی ہے۔ ٹرمپ جیسے تنازعہ زدہ لیڈر کے منصوبے سے جڑنا سٹارمر کے لیے سیاسی طور پر خطرناک ہو سکتا تھا، خاص طور پر اس وقت جب برطانوی عوام خارجہ پالیسی میں استحکام اور پیشہ ورانہ رویے کی توقع رکھتے ہیں۔


دوسری طرف، ٹرمپ کے حمایتی اس فیصلے کو برطانیہ کی غیر ضروری دوری قرار دے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں بورڈ آف پیس ایک تیز اور عملی پلیٹ فارم بن سکتا تھا، جو روایتی سفارت کاری کی سست روی سے ہٹ کر فوری حل نکالتا۔ پھر بھی یہ آواز بھی سنائی دیتی ہے کہ اکثر ایسے غیر رسمی فورمز طاقتور ملکوں کے مفادات کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور کمزور فریق پیچھے رہ جاتے ہیں۔


واشنگٹن میں بھی اس معاملے پر ملا جلا ردعمل آیا ہے۔ کچھ امریکی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سٹارمر کا انکار اس بات کی علامت ہے کہ یورپ میں لوگ ٹرمپ کی ممکنہ واپسی سے فکرمند ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ نے پھر سے یکطرفہ پالیسیاں اپنائیں تو یورپ اور خاص طور پر برطانیہ اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ خودمختار ہو جائے گا۔


آگے جا کر اصل سوال یہی ہے کہ یہ کشیدگی وقتی ہے یا لمبے عرصے تک چلے گی۔ اگر امریکہ اور برطانیہ کے اختلافات یونہی بڑھتے رہے تو دونوں کا “خصوصی تعلق” بھی شاید بدل جائے۔ سٹارمر کا موقف صاف اشارہ دیتا ہے کہ برطانیہ اب فیصلے صرف روایتی دوستی کی بنیاد پر نہیں کرے گا، بلکہ ہر قدم کو عالمی اصولوں اور اپنے قومی مفاد کے آئینے میں دیکھے گا۔


آخر میں، کیئر سٹارمر کا ٹرمپ کے “بورڈ آف پیس” سے الگ ہونا ایک علامتی مگر پُراثر قدم ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف موجودہ سفارتی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ آنے والے برسوں میں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کی ایک نئی شکل کی طرف بھی اشارہ ہے—جہاں تعلقات ذاتی وابستگی سے زیادہ اصولوں اور مشترکہ ذمہ داریوں پر ٹکے ہوں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا